نیا مذہبی قانون، عیسائی مسلمان برہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست گجرات میں مذہب کی تبدیلی کے قوانین میں بعض تبدیلیوں پر مسلمانوں اور عیسائیوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔گزشتہ روز ریاستی حکومت نے ایک نئے قانون کے تحت بدھ اور جین مذہب کو ہندو مذہب کی ہی شاخ بتایا ہے۔ مسلم اور عیسائی حلقے حکومت کے اس قدم کو غیر آئینی بتارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ ریاست میں مذہبی خطوط پر پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن اس نئے قانون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے پچھڑی ذات کے ہندوں کا تحفظ ہوگا۔ قانون کے تحت جو افراد لالچ دے کر مذہب تبدیل کرانے کے مرتکب پائے گئے انہیں جرمانہ اور سخت سزا مل سکتي ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پچھڑے طبقے کے لوگوں کا استحصال ہوتا ہے۔ انہیں مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اس سے ہندو تہذیب کو خطرہ لاحق ہے۔ بھارت کے آئین میں بدھ اور جین مذہب کو ایک الگ مذہب کی حیثیت دی گئی ہے۔ لیکن گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ان دونوں کو ہندو مذہب کی شاخ قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص ہندو سے بدھ یا جین مذہب تبدیل کرتا ہے یا اس کے برعکس، تو اسے انتظامیہ سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی عیسائیت یا اسلام قبول کرتا ہے تو اسے انتظامیہ کو بتانا ہوگا۔ گجرات کے وزیر قانون اشوک بھٹ کا کہنا ہے کہ آئین میں مذہب کی تبدیلی کی اصطلاح پیچیدہ تھی اس لیئے اس نئے قانون کی ضرورت ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت مذہب کو اپنے ووٹ بینک کے لیئے استعمال کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ دلت عیسائی یا اسلام قبول کریں کیونکہ اس سے اس کے ووٹوں میں کمی آسکتی ہے۔ تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے تامل ناڈو اور راجستھان جیسی دیگر ریاستوں میں بھی بعض قوانین ہیں لیکن گجرات جیسے قانون کہیں نہیں ہیں۔ بھارت کے کئی قبائلی علاقوں میں مذہب کی تبدیلی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ ہندو نظریاتی تنظیموں کاالزام ہے کہ عیسائی مشنری پیسوں کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کرانے کا کام کرتے ہیں۔ عیسائی اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ گجرات میں عیسائیوں کی تعداد اعشاریہ پانچ فیصد ہے جبکہ مسلمان تقریبا چودہ فیصد ہیں۔ | اسی بارے میں حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا ’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘10 September, 2006 | انڈیا اگلا نشانہ اسرائیل، خلیجی ریاستیں‘11 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||