منی پور: خاتون کی چھ سالہ بھوک ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اروم شرمیلا چنو ایک کمزور خاتون ہیں جو ان دنوں انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال میں ایک ہسپتال کے بستر پر کئی مسلح سکیورٹی اہلکاروں کے پہرے میں ہیں۔ وہ سن 2000 سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اِمپھال کے جواہر لعل نہرو ہسپتال کے ایک بستر پر ہی انہیں ریاستی احکامات کے تحت ناک کے ذریعے ڈالی گئی ایک نالی سے زبردستی خوراک دی جاتی ہے۔ منی پور کی سیاست میں اس 35 سالہ خاتون کا کافی کردار ہے۔ اس سال نومبر میں ان کی بھوک ہڑتال کو چھ سال مکمل ہوجائیں گے۔ کہا جارہا ہے کہ تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے طویل سیاسی احتجاج ہے۔ شرمیلا چنو کا مطالبہ ہے کہ ریاست میں مسلح افواج کو AFSPA (آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ) کے تحت دیے جانے والے اختیارات واپس لیے جائیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے لیے فوج کے اختیارات ضروری ہیں تاہم کئی تنظیمیں ریاست میں فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کا الزام لگاتی ہیں۔ شرمیلا چنو کہتی ہیں: ’میری بھوک ہڑتال لوگوں کے مطالبات کی نمائندگی ہے۔ یہ کوئی ذاتی جنگ نہیں۔‘ کہا جاتا ہے کہ شرمیلا چنو کی بھوک ہڑتال انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ایک واقعے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ شرمیلا کے بھائی کے مطابق مالم نامی علاقے میں فوج کے ہاتھوں دس نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد شرمیلا چنو نے یہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے بتایا: ’یہ واقعہ دو نومبر سن دو ہزار کا ہے۔ اس روز شرمیلا کا برت تھا۔ وہ ہر جمعرات کو یہ کیا کرتی تھی۔ لیکن اس واقعے کے بعد اس نے احتجاجاً اپنا برت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔‘ تین روز بعد شرمیلا چنو کو اپنی جان لینے کے الزام کے تحت پولیس نے گرفتار کرلیا۔ بعد میں انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا گیا اور تب سے انہیں زبردستی خوراک دی جاتی ہے۔
اس احتجاج میں شرمیلا تنہا نہیں ہیں۔ منی پور میں 2004 میں فوجیوں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایک نوجوان لڑکی مانوراما دیوی کے زنا اور قتل کے بعد فسادات شروع ہوگئے تھے جس کے بعد کچھ علاقوں سے فوج کے اختیارات ختم کردیے گئے۔ تاہم شرمیلا چنو کا اصرار ہے کہ ریاست میں فوج کے اختیارات کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے۔ سالہا سال کی بھوک ہڑتال کے اثرات ان کی صحت پر نمایاں ہیں۔ ان کی ہڈیاں بہت کمزور ہوچکی ہیں اور انہیں دیگر طبی مسائل کا سامنا بھی ہے۔ حکومت سیاست پر منفی اثرات کے ڈر سے شرمیلا چنو کو مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتی۔ انہیں نالی کے ذریعے سیال غذا فراہم کی جاتی ہے۔ ریاست کے ڈی جی پولیس اے کے پراشر کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان شہری کو اس طرح مرنے نہیں دیا جاسکتا۔ ’ہماری ذمہ داری ہے کہ یہ یقینی بنائیں کہ شرمیلاچنو قدرتی موت ہی مرے۔ وہ اپنا کام کر رہی ہے اور ہم اپنا۔‘ | اسی بارے میں منی پور: احتجاج میں کئی زخمی11 August, 2004 | انڈیا منی پور :مذاکرات کی پیشکش مسترد20 August, 2004 | انڈیا منی پور میں ہنگامے شروع20 September, 2004 | انڈیا بھارت: شمال مشرق میں فوجی کارروائی06 November, 2004 | انڈیا آسام میں تشدد کے بعد کرفیو نافذ07 November, 2004 | انڈیا من موہن سنگھ منی پور کے دورے پر 20 November, 2004 | انڈیا باغیوں کی لڑائی میں متعدد ہلاک14 May, 2005 | انڈیا بھارت: نو فوجی، چھ باغی ہلاک20 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||