مدارس: پاکستان مدد کاطلبگار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے مدرسوں کی اصلاحات کے لیئے بھارت کی ریاست مغربی بنگال سے مدد کی درخواست کی ہے۔ مغربی بنگال کے کئی سو مدرسے اپنی سیکولر شکل اور جدید تعلیم کے لیئے مشہور ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ وہ ان مدارس کے نصاب اور تعلیم کے طور طریقوں کو سمجھے اور مغربی بنگال کے تجربات سے استعفادہ کر سکے۔ ریاست کے مدرسہ ایجوکیشن کے وزیر برائے مملکت عبد الستار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں پاکستانی ہائی کمیشن سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں ان سے مغربی بنگال کے مدرسوں کے نظام کے متعلق اطلاعات فرہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم ان کے خط کا جواب اپنی وزارت خارجہ کے توسط سے دیں گے۔ عبدالستار کے مطابق جواب دینے کے لیئے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔ دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ایک اعلیٰ افسر محمد خالد جمالی نے کہا ہے کہ مغربی بنگال کے مدارس کی اصلاحات کے متعلق میڈیا میں بعض خبریں شائع ہوئی تھیں اور اس بارے میں مزید معلومات کے لیئے خط لکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے مغربی بنگال کی حکومت سے وہاں کے مدارس کے طریقہ کار اور نصاب کے متعلق معلومات مانگیں تھیں’۔
مغربی بنگال میں پانچ سو سے زائد مدارس ہیں جن میں چالیس ہزار سے بھی زیادہ طلباء تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس میں سے بیشتر مدارس کا ریاستی حکومت کے تعلیمی بورڈ سے الحاق ہے اور مذہبی تعلیم کے ساتھ انگریزی، حساب اور سماجیات جیسے عصری مضامین بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ عام طور پرمدارس کے اساتذہ کی کوئی پیشہ ورانہ ٹرینگ نہیں ہوتی ہے لیکن مغربی بنگال میں مدرسے کے تقریبًاسب ہی اساتذہ کو پڑھانے سے پہلے ایک خاص امتحان پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان مدارس میں دوسرے مدرسوں کے برعکس لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یہ مدارس بھی ریاستی تعلیمی بورڈ کے ضوابط کے پابند ہیں۔ مغربی بنگال کے مدرسوں میں تقریبًا بارہ فیصد طلباء ہندو ہیں اور پاکستان کو سب سے زیادہ اسی بات پر حیرت ہے۔ عبدالستار نے پاکستانی خط کی تفصیلات بتاتے ہوا کہا کہ پاکستان میں صدر پرویز مشرف کی حکومت مدرسوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات چاہتی ہے اور خبروں کے مطابق بنگال کے مدرسوں میں تقریبا بارہ فیصد طلباء دوسری برادری کے ہیں جو بڑی دلچسپ بات ہے۔ اہم چیز یہ ہے کہ مغربی بنگال کے مدارس میں زیر تعلیم غیر مسلم طلباء کو بھی اسلامی تعلیم اور طور طریقوں کی پابندی |
اسی بارے میں پاکستان: مدارس کا اندراج شروع24 August, 2005 | پاکستان مدارس کے خلاف قانون پر احتجاج 08 December, 2003 | پاکستان گرفتاریوں پر مدارس کے طلباء کا مظاہرہ07 July, 2004 | پاکستان مدارس رجسٹریشن پر راضی: وزیر16 August, 2005 | پاکستان صوبہ سرحد:مدارس قوانین مزید سخت17 August, 2005 | پاکستان اندراج پر مدارس کا اجلاس12 September, 2005 | پاکستان دینی مدارس کے اتحاد کی دھمکی28 December, 2005 | پاکستان مدارس عدالت سے رجوع کریں گے31 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||