آگرہ کے ممنون تعلقات بہتر کریں گے‘

شہر آگرہ کے نائی کی منڈی محلے کی ایک تنگ گلی میں ممنون حسین کی حویلی کی جگہ اب ایک گھر بنا ہوا ہے جس کے ایک حصے پر ایک پرانی بیکری ہے
،تصویر کا کیپشنشہر آگرہ کے نائی کی منڈی محلے کی ایک تنگ گلی میں ممنون حسین کی حویلی کی جگہ اب ایک گھر بنا ہوا ہے جس کے ایک حصے پر ایک پرانی بیکری ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آگرہ

’ممنون صاحب سات آٹھ برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ یہاں سے پاکستان چلے گئے تھے۔ ان کی حویلی اسی مقام پر واقع تھی۔‘

یہ الفاظ ہیں آگرہ شہر کے حاجی ناظم الدّین قریشی کے جو پاکستان کے نو منتخب صدر ممنون حسین کے رشتے دار ہیں۔

آگرہ کے نائی کی منڈی محلے کی ایک تنگ گلی میں حویلی کی جگہ ایک گھر بنا ہوا ہے اور ایک حصے پر ایک پرانی بیکری ہے۔

شوبھم سونیجا اس بیکری کے مالک ہیں۔ ان کا خاندان تقسیم کے وقت پاکستان کے صوبہ سندھ سے یہاں منتقل ہوا تھا۔

شوبھم کہتے ہیں ’جب میں نے سنا کہ ممنون صاحب پاکستان کے صدر بن گئے ہیں تو مجھے یقین نہیں ہوا۔ وہ شخص جو اس گھر میں پیدہ ہوا، بچپن کے دن گزارے وہ صدر بن گئے۔ بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ہم سبھی کو یہ نیا جذبہ دےگا۔‘

کچھ ہی دوری پر ایک احمدیہ حنفیہ کالج ہے۔ پرنسپل صلاح الدین شاہ نے بتایا کہ یہ سکول 1889 میں قائم ہوا تھا اور اس میں ممنون صاحب کے دادا استاد ظفر اور والد صاحب دونوں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ خود مسٹر ممنون نے کچھ عرصے تک یہاں تعلیم حاصل کی۔

ممنون حسین کے پاکستان کا صدر منتخب ہونے پر ان کے آبائی محلے کے لوگ بہت خوش ہیں۔ مسرور قریشی کو امید ہے ’وہ آگرہ کے ہیں اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ وہ ایسی خارجہ پالیسی اپنائیں گے جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو سکیں گے۔‘

ممنون صاحب کے دادا استاد ظفر اور والد صاحب دونوں نے اسی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی اور پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ خود مسٹر ممنون نے کچھ عرصے تک یہیں تعلیم حاصل کی
،تصویر کا کیپشنممنون صاحب کے دادا استاد ظفر اور والد صاحب دونوں نے اسی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی اور پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ خود مسٹر ممنون نے کچھ عرصے تک یہیں تعلیم حاصل کی

ممنون حسین کے بارے میں ان کے ایک رشتے دار مبارک حسین نے بتایا ’ان کے دادا استاد ظفر شہر کے نامی شحص تھے۔ وہ جوتوں کا کاروبار کرتے تھے اور خود بھی ایک اچھے ڈیزائنر تھے۔‘

نذیر احمد آگرہ کے ایک بڑے ایکسپورٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ممنون کے صدر منتخب ہونے پر پورے آگرہ میں خوشی کا ماحول ہے۔ ’ہم یہ چاہیں گے کہ وہ جب بھارت آئیں تو آگرہ بھی آئیں۔ ہم یہ امید کرتے ہیں کہ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔‘

ممنون حسین تقسیم کے وقت سات آٹھ برس کی عمر میں اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان چلےگئے تھے۔ ان کے ذہن میں اس وقت کی شاید بہت دھندلی یادیں ہی باقی بچی ہوں۔

آگرہ کے شہریوں کو اس بات پر خوشی ہے کہ پاکستان کے نو منتخب صدر کا ان کے شہر سے رشتہ رہا ہے۔ وہ یہ امید کر رہے ہیں کہ شاید رشتوں کی یہ کڑی دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر بنانے ميں مددگار ثابت ہو۔