ممنون حسین 432 ووٹ لے کر نئے صدر منتخب

پاکستان میں منگل کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ نواز کے امیدوار ممنون حسین بھاری اکثریت سے ملک کے بارہویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
اس انتخاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ممنون حسین اور تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین مدِمقابل تھے۔
صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے بتایا کہ ممنون حسین نے 432 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مدِمقابل تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے 77 ووٹ حاصل کر سکے۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے انتخاب کی تاریخ میں تبدیلی کے معاملے پر اس الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
صدر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے لیے پولنگ قومی اسمبلی کے ہال میں ہوئی جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین نے اپنی اپنی اسمبلی میں منعقدہ پولنگ میں ووٹ ڈالے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی پارلیمان میں پولنگ کی کارروائی کے لیے اجلاس کی صدارت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں متعلقہ صوبوں کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس نے کی۔
پی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کل 314 ارکان نے ووٹ ڈالے جن میں سے ممنون حسین نے 277 اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے 34 ووٹ حاصل کیے جبکہ 3 ووٹ مسترد ہوئے۔
پنجاب اسمبلی سے ممنون حسین کو 54 ،سندھ سے 25، بلوچستان سے 55، اور خیبر پختونخوا سے 21 الیکٹورل ووٹ ملے جبکہ جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے خیبر پختونخوا سے 36 ، پنجاب سے 2، سندھ سے بھی 2 اور بلوچستان سے 1 الیکٹورل ووٹ حاصل کیا۔
سنہ 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہونے والے ممنون حسین مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تاجر اور غیر سرگرم سیاسی شخصیت رہے ہیں۔
وہ نوے کی دہائی کے آخر میں پہلی بار پاکستانی سیاست کے افق پر نظر آئے اور انیس سو ستانوے میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر بنائے جانے والے ممنون حسین 1999 میں نواز حکومت کے آخری ایام میں چند ماہ کے لیےگورنر سندھ بھی رہے۔
نواز شریف کی اسیری اور پھر جلاوطنی کے دوران وہ منظرِ عام پر تو نہیں تھے لیکن نواز شریف سے ان کا رابطہ ٹوٹا نہیں اور پھر ان کی وطن واپسی کے بعد ممنون حسین ایک بار پھر سندھ میں مسلم لیگ کی سیاست میں سرگرم ہوگئے تھے۔
انتخاب کا الیکٹورل کالج
صدر کے انتخاب کے الیکٹورل کالج کے کل ووٹوں کی تعداد 1174 بنتی ہے لیکن صدارتی انتخاب میں ووٹوں کی گنتی کے فارمولے کے مطابق کل صدارتی ووٹ 706 بنتے ہیں۔
آئین کے مطابق سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ مانا جاتا ہے جبکہ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں جس اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد سب سے کم ہو، اس اسمبلی میں فی رکن فی ووٹ گنا جاتا ہے۔
اس وقت بلوچستان اسمبلی کے اراکین سب سے کم ہیں اور صدارتی انتخاب میں سینیٹ کے ایک سو چار اراکین، قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اور بلوچستان کے پینسٹھ اراکین کا فی رکن فی ووٹ گنا گیا۔
اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں ڈالے گئے پانچ اعشاریہ سات، سندھ میں دو اعشاریہ چھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں ایک اعشاریہ نو ووٹ ایک الیکٹورل ووٹ کے برابر تصور ہوئے۔







