سابق جج اور کپڑے کے تاجر مدمقابل

پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے صدارتی منصب کے امیدوار ممنون حسین مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تاجر اور غیر سرگرم سیاسی شخصیت رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کو ایک اصول پسند شخصیت سمجھا جاتا ہے جنہوں نے مشرف کے دور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکارکر دیا تھا۔

بااصول شخصیت

جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد دوسری بار صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

سال دو ہزار سات کے صدارتی انتخاب میں انہوں نے وکلاء نے اس وقت کے فوجی صدر مشرف کے مقابلے میں صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا۔اس انتخاب میں جسٹس وجیہہ الدین احمد صرف دو ووٹ لینے میں کامیاب رہے تھے۔

جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے اصولوں کی بنیاد پر سنہ دو ہزار میں پی سی او یعنی عبوری آئینی حکم کے تحت سپریم کورٹ کے جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا جس پر انہیں ریٹائر ہونا پڑا۔

وجیہہ الدین احمد یکم دسمبر سنہ انیس سو اڑتیس میں دہلی میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد اپنے والد کے ساتھ پاکستان آئے۔ ان کے والد وحید الدین احمد مختصر عرصہ کے لیے ویسٹ پاکستان سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں جسٹس کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔

وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اس وقت کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں اس وقت کی بنچ کے ممبر تھے لیکن ناسازیِ طبیعت کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت میں حصہ نہیں لے سکے اور بعد میں انتقال کر گئے۔

وجیہہ الدین احمد کو جاننے والے ابرارالحسن ایڈووکیٹ کے مطابق وجیہہ الدین احمد نے انیس سو ساٹھ میں ایس ایم لاء کالج میں ایل ایل بی میں داخلہ لیا اور قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پریکٹس شروع کردی۔

وہ سنہ انیس سو چھہتر میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکریٹری جبکہ دو مرتبہ انیس سو ستتر اور اٹھہتر میں نائب صدر منتخب ہوئے۔ وہ سن انیس سو چوراسی میں وفاقی حکومت کے سٹینڈنگ کونسل مقرر کیے گئے اور سن انیس سو چھیاسی میں انہیں صوبہ سندھ کا ایڈووکیٹ جنرل بنایا گیا۔

کچھ ہی عرصے کے بعد یعنی سن انیس سو اٹھاسی میں انہیں سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے فرائض سونپ دیے گئے۔

وہ سنہ انیس سو ستانوے میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب پر فائز ہوئے اور انیس سو اٹھانوے میں انہیں سپریم کورٹ کے جسٹس کے فرائض سونپ دیے گئے جہاں وہ جنوری سن دو ہزار تک فرائض انجام دیتے رہے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے پر انہیں ریٹائر کر دیا گیا۔

جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد وکلاء تحریک میں سرگرم رہے۔ تین نومبر سال دو ہزار سات کو فوجی صدر جنرل مشرف کی ایمرجنسی کے دوران انہیں مختصر مدت کے لیے حراست میں بھی لیا گیا۔ انہوں نے سال دو ہزار گیارہ میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔

بے ضرر اور فرماں بردار

پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے صدارتی منصب کے امیدوار ممنون حسین مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تاجر اور غیر سرگرم سیاسی شخصیت رہے ہیں۔

ممنون حسین سنہ 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے، پاکستان کے قیام کے بعد کئی دیگر خاندانوں کی طرح ان کا خاندان بھی نقل مکانی کرکے پاکستان آ گیا۔

انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے گریجویٹ ممنون حسین کا کہنا ہے کہ سیاسی طور پر وہ سنہ 1970 سے مسلم لیگ سے منسلک رہے ہیں۔

سنہ 1993 میں جب پاکستان کے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کی تو ان دنوں ہی ممنون حسین شریف برادران کے قریب پہچنے اور بعد میں وہ مسلم لیگ سندھ کے قائم مقام صدر سمیت دیگر عہدوں پر فائز رہے۔

ممنون حسین سنہ 1997 میں سندھ کے وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کے مشیر رہے، سنہ 1999 میں انہیں گورنر مقرر کیا گیا، مگر صرف چھ ماہ بعد ہی میاں نواز شریف کی حکومت کا تخہ الٹ گیا اور وہ معزول ہوگئے۔

کراچی کے علاقے جامع کلاتھ مارکیٹ بندر روڈ پر ممنون حسین کپڑے کی تجارت کرتے رہے ہیں، اسی علاقے میں ان کا گھر بھی تھا بعد میں وہ شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں منتقل ہوگئے۔

میاں نواز شریف کے دورِ اسیری اور جلاوطنی کے بعد مسلم لیگ نواز کے احتجاج میں ممنون حسین شاذو نادر ہی نظر آتے تھے، ان کا کردار انتہائی غیر متحرک رہا۔

سندھ میں مسلم لیگ نواز کی شناخت سید غوث علی شاہ، الہی بخش سومرو، سلیم ضیا، سردار رحیم اور علیم عادل شیخ بنے ہوئے تھے۔ علیم عادل شیخ مسلم لیگ ق میں چلے گئے، سردار رحیم نے مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کی اور الہی بخش سومرو نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

میاں نواز شریف کی وطن واپسی کے بعد ممنون حسین دوبارہ منظرِ عام پر آئے، انھیں مسلم لیگ نواز کے جلسے اور جلوسوں میں انتہائی کم گو دیکھا گیا ان کی تقریر سیاست کی بجائے میاں نواز شریف کی شخصیت کے گرد گھومتی تھی۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ نواز نے کراچی سے تعلق رکھنے والی قیادت کا دوسری بار انتخاب کیا ہے، ممنون حسین سے پہلے مشاہد اللہ کو پنجاب سے سینیٹر منتخب کرایا گیا، صدارتی امیدوار کی دوڑ میں پرانے لیگی سید غوث علی شاہ بھی شامل تھے، جو اسیری اور جلاوطنی میں میاں نواز شریف کے ساتھ رہے لیکن بعد میں ان کا نام امیدواروں کی فہرست سے خارج کردیا گیا۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صدر پاکستان کا کردار روایتی بن چکا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز اس سے اردو بولنے والی کمیونٹی اور تاجروں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ انھوں نے ان کے نمائندے کا انتخاب کیا ہے۔

میاں نواز شریف کے لیے ممنون حسین بھی رفیق تارڑ کی طرح بے ضرر اور فرماں بردار صدر ثابت ہوں گے۔