| | یہ فلم محبت، جنگ اور ایسے سماجی مسائل کا احاطہ کرتی ہے جو ان کے بقول اب بھی آسٹریلیا کی تاریح کے داغ ہیں۔ |
عظیم خواہشات اور ریکارڈ اخراجات سے بنائی جانے والی آسٹریلوی فلم ’آسٹریلیا‘ لفظ رزمیہ یا ایپک کے تمام معنوں میں ایک رزمیہ فلم ہے۔ اس فلم میں دو ایسے اداکار، نکول کڈمین اور ہیو جیک مین کام کر رہے ہیں جنہیں اس وقت فلم کی دنیا کے سب سے بڑے ستاروں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس پر یہ فلم ڈھائی گھنٹے میں آسٹریلیا کے پس منظر اور دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کا حالات میں رونما ہونے والی ایک کہانی کو بیان کرتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ کہانی برطانیہ سے آسٹریلیا جانے والی ایک خاتون کی ہے جو اصل میں تو اپنے شوہر کو جو عورتوں کا رسیا ہے، آسٹریلیا میں غلہ بانی کا وہ فارم بیچنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے تا کہ اس کی آسٹریلیا میں موجودگی کا سبب ختم ہو سکے۔ لیکن حالات ایسا رخ اختیار کرتے ہیں کہ نہ صرف اس کے شوہر کا اس کے پہنچنے سے پہلے قتل ہو جاتا ہے بلکہ آخر وہ بھی محبت میں مبتلا ہونے کے بعد وہیں بسنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
 | | | لوہرمان کا کہنا ہے کہ اس فلم کا اصل بڑے اداکار اور ستارہ اداکار تیرہ سالہ برنڈن والٹرز ہیں۔ |
اس فلم میں رومان بھی ہے اور آسٹریلیا کے آدی باسیوں کی قدیم تہذیب اور لوگوں کی سحر انگیزی بھی۔ فلم کی تیاری پر چار سال لگے ہیں اور فلم کے ڈائریکٹر باز لوہرمان کا کہنا ہے کہ یہ فلم محبت، جنگ اور ایسے سماجی مسائل کا احاطہ کرتی ہے جو ان کے بقول اب بھی آسٹریلیا کی تاریح کے داغ ہیں۔ لوہرمان کا کہنا ہے کہ اس فلم کا اصل بڑے اداکار اور ستارہ اداکار تیرہ سالہ برنڈن والٹرز ہیں۔ والٹرز کی یہ پہلی فلم ہے اور انہوں نے اس فلم میں ایک آدی باسی لڑکے کا کردار ادا کیا ہے، جس کا نام نلاہ ہے اور وہی اس فلم کی کہانی بھی بیان کرتا ہے۔ فلم ساز کا کہنا ہے کہ اس فلم کے لیے اداکاروں کا انتخاب ایک ہولناک خواب تھا تا آنکہ برنڈن والٹرز مل گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ والٹرز کی اداکاری اداکاری نہیں ہے۔ اس نے کیمرے سے ذرا بھی خوف نہیں کھایا۔ ان کا کہنا ہے فلم میں برینڈن نہیں تو فلم نہیں۔ آسٹریلیا، آسٹریلیا کی تاریخ میں اب کی سب سے مہنگی فلم ہے اور اس پر تیرہ کروڑ ڈالر یا ساڑھے آٹھ کروڑ پونڈ کے اخراجات آئے ہیں۔
 | | | نکول کڈمین نے اس فلم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے |
پہلے ہفتے کے اختتام پر ہی اس فلم نے امریکہ میں ننانوے لاکھ پونڈ یا ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ ڈالر کا کاروبار کیا ہے اور 26 دسمبر سے برطانیہ میں بھی ریلیز ہو چکی ہے۔ یہ فلم کتنی کامیابیاں حاصل کرتی ہے اس بات سے قطع نظر ڈائریکٹر باز لوہرمان اپنی آئندہ فلم بنانے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی ان کا کہنا ہے ’ایک بڑا کام‘ ہو گی۔ |