 | | | خطوط کی نیلامی فیلیمنگ کی پیدائش کے سوویں سال کے موقع پر کی جا رہی ہے |
مشہورِ زمانہ جاسوس جیمز بونڈ کے خالق ائین فلیمنگ اور ان کی حقیقی مس مینی پینی کے خطوط کی نیلامی کی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ بولی ہزارہا پاؤنڈ تک جائے گی۔ جیمز بونڈ کی فلموں میں مس مینی پینی برطانوی خفیہ ادارے کے ایجنٹ جیمز بونڈ کے سربراہ ’ایم‘ کی سیکریٹری کے طور پر جانی جانے والی مس مینی پینی کا نام فلیمنگ کے افسانوی کردار کے طور پر جین مینی پینی ہوتا ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ فلیمنگ کی ٹائپنگ سیکریٹری کے طور پر جس خاتون کا انتخاب کیا گیا اس کا نام بھی جین سے شروع ہوتا ہے۔ جین فریمپٹن کو شروع میں فلیمنگ کے کردار 007 کے مسودوں کو ٹائپ کرنے کے لیے ملازم رکھا گیا تھا لیکن فریمپٹن نے بتدریج اس کام میں اس حد تک مہارت حاصل کر لی کہ کہانی کی نباوٹ میں بھیح مشورے دینے لگی۔ نیلامی کے پیش کیے جانے والے خطوط میں فلیمنگ کے ناولوں ’تھنڈر بال‘، ’کیو اینڈ لِٹ ڈائی‘ اور ’مین ود گولڈن گن‘ کا ذکر آتا ہے۔ ان کی خطوط کی نیلامی ڈورسٹ نامی نیلام گھر کر رہا ہے جسے نیلامی کرنے والوں کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے۔ فیلیمنگ کی پیدائش کے سوویں سال کے حوالے سے ان خطوط میں غیر معمولی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ فیلنگ نے مسز فریمپٹن کے نام 1960 میں لکھے جانے والے ایک خط میں فلیمنگ نے اپنے ’ناول تھنڈر بال‘ کا ذکر کرتے ہوئے لکھاہے: ’میرا خیال ہے کہ یہ ٹرانسکرپٹ کچھ اچھا نہیں ہے۔ میں انتہائی ممنون ہوں گا اگر آپ اس کے کسی پہلو کے بارے میں اپنی ذہانت کو بروئے کار لائیں‘۔ مسز فریمپٹن کو کبھی فلیمنگ سے ملنے کا موقع نہیں ملا لیکن وہ ان کے جاسوس کردار میں کی مہم جوئیوں میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور انہوں نے ایک موقع پر فلیمنگ کو لکھا: ’مجھے اب تک تھنڈر بال کے اختتام پر تاسف ہے، مس سوچتی ہوں بلوفِلڈ کا کیا ہوا؟ کیا وہ ایک اور محاذ آرائی کے لیے زندہ رہا‘۔
 | | | فلمی کردار بونڈ اور مس میینی پینی فلیمنگ کے تخلیق کردہ ایسے کردار ہیں جن میں لوگوں کی دلچسپی اب تک ختم نہیں ہوئی |
نیلامی کی معاون ایمی برینن کا کہنا ہے کہ ’مسز فریمپٹن دراصل ایک ذہین خاتون تھیں۔ انہوں فرانسیسی زبان میں بھی ڈگری کی تھی جسے انہوں نے اپنے گھر والوں سے خفیہ رکھا تھا‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ اس کے علاوہ بھی ان میں کئی خوبیاں تھیں۔ وہ ناول ٹائپ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھنے میں بھی گھری دلچسپی رکھتی تھیں۔ اسی دلچسپی کی بنا پر وہ ناولوں کی کہانیوں کے بارے میں بھی رد و بدل کے مشورے دینے لگیں اور در حقیقیت فلیمنگ ان کے ایسے مشورے کا خیرمقدم بھی کرتے تھے‘۔ ایمی برینین کا کہنا ہے کہ ’ٹائپسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فلیمنگ کے ناولوں کی ایڈیٹر بھی تھیں اس کے علاوہ انہیں ہی سب سے پہلے فلیمنگ کے ناولوں کو پڑھنے کا موقع ملتا تھا‘۔ برینین کے مطابق ’ان کے تعلقات پیشہ ورانہ بھی تھے اور دانشورانہ سطح پر ذاتی بھی‘۔ |