BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 December, 2007, 03:03 GMT 08:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نایاب مجسمے کی ریکارڈ نیلامی
’گوئینل لائنس‘
ماہرین نے اسے ’دنیا کا بہترین مجسمہ‘ قرار دیا ہے
قدیم میسوپوٹیمیا تہذیب سے تعلق رکھنے والا پانچ ہزار سال پرانا نایاب مجسمہ نیویارک میں ستاون اعشاریہ دو ملین ڈالر کی ریکارڈ قیمت میں نیلام کیا گیا ہے۔

یہ اب تک کسی بھی مجسمے یا آثارِ قدیمہ کے لیے دی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔

یہ مجسمہ ایک انگریز خریدار نے خریدا جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ مجسمے کی بولی میں پانچ افراد نے حصہ لیا۔ چونے کے پتھر سے بنا ہوا یہ مجسمہ ایک شیرنی کا ہے اور صرف سوا تین انچ یا قریباً آٹھ سنٹی میٹر لمبا ہے۔ اسے سنہ 1948 میں آرٹ کے شوقین الیسٹر بریڈلی مارٹن نے خریدا تھا اور اس وقت سے یہ بروکلین کے میوزیم آف آرٹ میں رکھاہوا تھا۔

نیلام گھر سدبیز کے مطابق یہ دنیا میں میسو پوٹیمیا کی قدیم تہذیب کی ان چند باقیات میں سے ہے جو آثارِ قدیمہ کے عام قدر دانوں کے پاس ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف کی کے مطابق اس مجسمے کی نیلامی کے انچارج اور ماہر رچررڈ کیریسی اور فلورنٹ ہائنز کا کہنا ہے کہ’ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ہمیں ’گوئینل لائنس‘ کو چھونے کا موقع ملا۔ یہ آرٹ کے سب سےشاندار نمونوں میں سے ایک ہے‘۔ دونوں ماہرین نے اسے ’دنیا کا بہترین مجسمہ‘ قرار دیا ہے۔

اس سے قبل نیلام ہونے والے مہنگے ترین مجسمے کا اعزاز مشہور مصور اور مجسمہ ساز پکاسو کے مجسمے’ ٹیٹ ڈی فیم‘ کے پاس تھا جو گزشتہ ماہ نیویارک میں انتیس اعشاریہ ایک ملین ڈالر میں نیلام ہوا تھا۔

اس مجسمے نے مہنگے ترین آثارِ قدیمہ کی نیلامی کا ریکارڈ بھی توڑا ہے۔ اس سے قبل نیلام کیا جانے والا سب سے مہنگا آثارِ قدیمہ ایک دو ہزار سال قدیم کانسی کا مجسمہ تھا جس کی بولی اٹھائیس اعشاریہ چھ ملین ڈالر لگی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد