چوری شدہ پینٹنگ لاکھوں میں نیلام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیس سال پہلے چوری ہونے کے بعدگندگی کے ڈھیر تک پہنچنے والی آئل پینٹنگ کو نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں دس لاکھ انچاس ہزار ڈالر میں فروخت کر دیا گیا۔ میکسیکو کے مصور روفینو تومایو کی انیس سو ستر میں بنائی گئی پینٹنگ اس کے مالکان کے گودام سے چوری ہو گئی تھی۔ یہ پینٹنگ الزبتھ گبسن نامی خاتون کو کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی اور اس پینٹنگ کی مالیت معلوم ہونے پر الزبتھ نے مالکان کو پینٹنگ واپس کر دی تھی۔ تصویر واپس کرنے پر مالکان نے الزبتھ کو سات ہزار پاؤنڈ انعام دیا تھا۔ پینٹنگ کے مالکان نے یہ تصویر سدبیز میں نیلامی میں انیس سو ستتر میں خریدی تھی اور سدبیز کے نائب صدر آگسٹ یوریب کے مطابق یہ پینٹنگ تصویر ساڑھے چھبیس ہزار پاؤنڈ میں فروخت کی گئی تھی۔ الزیبتھ نے کہا کہ وہ آرٹ کو نہیں سمجھتیں اور ان کی دوست نے دیوار پر ٹنگی پینٹنگ کو دیکھ کر کہا کہ شاید یہ قیمتی پینٹینگ ہو۔ پینٹنگ کے مالکان نے انیس سو اٹھاسی میں چوری ہونے پر حکام کو مطلع کیا تھا۔ اس پینٹنگ کی معلومات انٹر نیٹ پر بھی ڈالی گئی تھی اور امریکہ کا تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی اس پینٹنگ کی چوری کی تحقیقات اب بھی کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں پاکستان کی خواتین مصور15 June, 2005 | فن فنکار بغداد کا دھماکہ آرٹ03 February, 2005 | فن فنکار آرٹ گیلری: ننگوں کے لیے داخلہ مفت31 July, 2005 | فن فنکار بنگالی فن پاروں کی پاکستان میں نمائش30 April, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||