ڈیوڈ: صفائی مکمل، نمائش شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لگ بھگ ایک سو سال کے بعد، مشہور زمانہ اطالوی مصور اور سنگ تراش مائیکل اینجلو کی زندہ جاوید تخلیق ’ڈیوڈ‘ کو ایک بار پھر اپنے مکمل تخلیقی ظہور کے ساتھ شائقین کی تفنن طبع کے لۓ کھول دیا گیا ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس فقید المثال مجسمے کو دیکھ رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر سال ڈیڑھ ملین سے زائد لوگ اس مجسمے کو دیکھتے ہیں۔ اس قدم آدم مجسمے کو فلورنس کے جس عجائب گھر میں رکھا گیا ہے اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر 70 کے عشرے سے اس مجسمے کو دیکھنے والوں کی تعداد میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ سفید ماربل سے بنا ہوا یہ مجسمہ اب صفائی کے بعد ایک مرتبہ پھر مائیکل اینجلو کے تخلیقی عروج کو خراجِ تحسین دلوانے کا باعث بنا ہوا ہے۔ اکیڈیمیا میوزیم فلورنس کی منتظم کرسٹینا ایسی ڈینی کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کا مجسمہ گویا مغربی تہذیب کی ایک علامت بن گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جس قدر ڈیوڈ کے مجسمے کی پذیرائی کی جاتی ہے دنیا میں شاید ہی کسی اور تخلیق کی کی جاتی ہو۔ مائیکل اینجلو کا یہ شاہکار محبت کا ایک حوالہ بن گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مجسمے کے گرد کھڑے شائقین اس کی وجاہت اور تخلیقی حُسن میں کھو سے جاتے ہیں۔ اس مجسمے کی تیاری کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مائیکل اینجلو نے جب اسے بنانے کے لۓ اس قدر بڑے ماربل کا انتخاب کیا تو ابتدائی طور پر مائیکل کے ساتھ کام کرنے والوں نے اسے مسترد کر دیا لیکن پھر مائیکل اینجلو نے خود اس سنگ تراشی کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ ایک سو سال سے اس مجسمے کی صفائی نہیں ہوئی تھی لیکن اب اس منصوبے کے لیے نیدرلینڈ اور امریکہ کی نجی فاؤنڈیشن نے مالی معاونت کی ہے۔ لندن میں مقیم پروفیسر ڈرائزمین نے کہا ہے کہ 19 ویں صدی کے بعد یہ بات پرانی تصور کی جانے لگی کہ مجسموں کو صاف کیا جائے اور ماحولیات کے باعث ہونے والی خرابیوں کو دور کیا جائے لیکن اب ڈیوڈ کے اس مجسمے کو کمالِ فن سے صاف کیا گیا ہے اور اس سارے عمل میں نہایت احتیاط برتی گئی ہے۔ پروفیسر ڈرائّزمین کے بقول متعدد لوگوں نے اس کام کی مخالفت کی جن میں امریکہ کے پروفیسر جیمز بیک بھی شامل تھے۔ صفائی کرنے والوں نے روئی کے گالوں کو تقطیر شدہ پانی میں بھگو بھگو کر ایک ایک انچ کی صفائی کی ہے جس کے بعد ڈیوڈ کے مجسمے کے خدوخال یوں نمایاں ہوئے جیسے وہ مجشمہ نہ ہو ایک جیتا جاگتا وجود ہو۔ کیسا کمالِِ فن ہے یہ اُس سنگ تراش کا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||