BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 May, 2004, 18:28 GMT 23:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیوڈ: صفائی مکمل، نمائش شروع
ڈیوڈ
بعض ماہرین پتھر کے واحد ٹکڑے سے تراشے گئے ’ڈیوڈ‘ کی صفائی کے منصوبے کے مخالف تھے
لگ بھگ ایک سو سال کے بعد، مشہور زمانہ اطالوی مصور اور سنگ تراش مائیکل اینجلو کی زندہ جاوید تخلیق ’ڈیوڈ‘ کو ایک بار پھر اپنے مکمل تخلیقی ظہور کے ساتھ شائقین کی تفنن طبع کے لۓ کھول دیا گیا ہے۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس فقید المثال مجسمے کو دیکھ رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر سال ڈیڑھ ملین سے زائد لوگ اس مجسمے کو دیکھتے ہیں۔ اس قدم آدم مجسمے کو فلورنس کے جس عجائب گھر میں رکھا گیا ہے اس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر 70 کے عشرے سے اس مجسمے کو دیکھنے والوں کی تعداد میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔

سفید ماربل سے بنا ہوا یہ مجسمہ اب صفائی کے بعد ایک مرتبہ پھر مائیکل اینجلو کے تخلیقی عروج کو خراجِ تحسین دلوانے کا باعث بنا ہوا ہے۔

اکیڈیمیا میوزیم فلورنس کی منتظم کرسٹینا ایسی ڈینی کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کا مجسمہ گویا مغربی تہذیب کی ایک علامت بن گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جس قدر ڈیوڈ کے مجسمے کی پذیرائی کی جاتی ہے دنیا میں شاید ہی کسی اور تخلیق کی کی جاتی ہو۔ مائیکل اینجلو کا یہ شاہکار محبت کا ایک حوالہ بن گیا ہے۔
طاقت اور قوت کے ساتھ ساتھ ڈیوڈ کا یہ مجسمہ حُب الوطنی کے احساس کا ایک مکمل نمونہ ہے اور ان خوبیوں کے علاوہ مجسمے کی مجموعی خوبصورتی نے اسے جیسے ایک سُپر سٹار بنا دیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس مجسمے کے گرد کھڑے شائقین اس کی وجاہت اور تخلیقی حُسن میں کھو سے جاتے ہیں۔ اس مجسمے کی تیاری کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مائیکل اینجلو نے جب اسے بنانے کے لۓ اس قدر بڑے ماربل کا انتخاب کیا تو ابتدائی طور پر مائیکل کے ساتھ کام کرنے والوں نے اسے مسترد کر دیا لیکن پھر مائیکل اینجلو نے خود اس سنگ تراشی کا فیصلہ کیا۔
تب یہ کہا جا رہا تھا کہ ماربل کا معیار اچھا نہیں ہے کیونکہ اس میں رگیں نمایاں ہیں جس کی وجہ سے سنگ تراشی مشکل ہو جائے گی اور پھر اس کے ٹوٹنے کا احتمال بھی ہے۔

گزشتہ ایک سو سال سے اس مجسمے کی صفائی نہیں ہوئی تھی لیکن اب اس منصوبے کے لیے نیدرلینڈ اور امریکہ کی نجی فاؤنڈیشن نے مالی معاونت کی ہے۔

لندن میں مقیم پروفیسر ڈرائزمین نے کہا ہے کہ 19 ویں صدی کے بعد یہ بات پرانی تصور کی جانے لگی کہ مجسموں کو صاف کیا جائے اور ماحولیات کے باعث ہونے والی خرابیوں کو دور کیا جائے لیکن اب ڈیوڈ کے اس مجسمے کو کمالِ فن سے صاف کیا گیا ہے اور اس سارے عمل میں نہایت احتیاط برتی گئی ہے۔

پروفیسر ڈرائّزمین کے بقول متعدد لوگوں نے اس کام کی مخالفت کی جن میں امریکہ کے پروفیسر جیمز بیک بھی شامل تھے۔ صفائی کرنے والوں نے روئی کے گالوں کو تقطیر شدہ پانی میں بھگو بھگو کر ایک ایک انچ کی صفائی کی ہے جس کے بعد ڈیوڈ کے مجسمے کے خدوخال یوں نمایاں ہوئے جیسے وہ مجشمہ نہ ہو ایک جیتا جاگتا وجود ہو۔

کیسا کمالِِ فن ہے یہ اُس سنگ تراش کا
پتھر کے اس مجسمے میں ہے جان پڑ گئی

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد