اداکار انور سولنگی انتقال کرگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹی وی اور ریڈیو کے نامور اداکار انور سولنگی جمعرات کی رات کو انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر پچاس برس تھی۔ انور سولنگی کا تعلق سندھ کے ضلع نوابشاھ سے تھا۔ ان کے پسماندگان میں دو بیٹیاں اور ایک چار سالہ بیٹا شامل ہیں۔ انور سولنگی گزشتہ کچھ عرصے سے قلب اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انور سولنگی نے اپنے کیریئر کی ابتدا انیس سو ستر میں ریڈیو پاکستان سے کی تاہم ان کی پہچان انیس سو چوہتر کے بعد پاکستان ٹیلیویژن بنا جس کے مختلف ڈراموں میں ان کی اداکاری کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ پاکستان کے ان گنے چنے سینیئر اداکاروں میں سے ایک تھے جنہیں اپنے کردار میں ڈھل جانے کی صلاحیت حاصل تھی۔ انہوں نے ٹی وی اور ریڈیو پر پانچ سو کے قریب ڈراموں میں کام کیا جن میں سندھی اور اردو ڈرامے شامل ہیں۔ انور سولنگی کے مقبول ڈراموں میں رانی کی کہانی، چھوٹی سی دنیا، دیواریں، جنگل، ہوائیں اور ماروی شامل ہیں۔ یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ سولنگی اداکار کے علاوہ کہانی کار اور شاعر بھی تھے اور چند ماہ قبل ہی ان کی شاعری اور کہانیوں کا مجموعہ ’زہر بھرے پیالے‘ شائع ہوا تھا۔ تاہم انور سولنگی کی اپنی کہانی پاکستان میں زیادہ تر فنکاروں کی کہانیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔ وہ اپنی زندگی میں پاکستانی معاشرے میں فنکار کا احترام نہ ہونے کی وجہ سے ایک حد تک غیرمطمئن بھی رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں پتہ ہوتا کہ فنکاروں کے ساتھ معاشرے کا ایسا برتاؤ ہے تو وہ کبھی اداکار نہیں بنتے۔ انور سولنگی کو انیس سو پچانوے میں ایک بڑا دھچکہ اس وقت پہنچا جب ان کی ایک بیٹی علالت کے باعث انتقال کر گئی جس کی بڑی وجہ ان کی معاشی تنگ دستی تھی۔ انور سولنگی ایک حد تک اپنی بیٹی کی موت کا ذمہ دار خود کو سمجھنے لگے۔ انہیں اس کا ہمیشہ ملال رہا کہ وہ اپنے حالات کے باعث اپنی بیٹی کا اچھا علاج نہ کرا پائے۔
انور سولنگی کے بھانجے جاوید نے بتایا کہ ان کے ماموں گزشتہ ایک ہفتے سے سرکاری ہسپتال میں زیر علاج تھے، مگر نہ تو حکام نے اور نہ دوستوں نے ان کی خبر لی۔ اردو اور سندھی ڈراموں میں انور سولنگی کے ساتھ کام کرنے والے اداکار گلاب چانڈیو کا کہنا ہے کہ وہ ایک مکمل اداکار تھے۔ تمام جونیئر اداکار ان کا بہت احترام کرتے تھے کیونکہ وہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ گلاب چانڈیو کو حکومت سے شکوہ ہے کہ اس نے پوری زندگی اپنے فن کے لیے وقف کرنے والے اس اداکار کی کوئی مدد نہیں کی جس کی انہیں ضرورت تھی۔ انور سولنگی کی نمازِ جنازہ جمعہ کے روز سہراب گوٹھ میں ادا کی گئی جس کے بعد سخی حسن قبرستان میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||