گم گشتہ پاکستانی فلم کی باز یافت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے ایک عالمی میلے میں ناظرین نے ایک ایسی پاکستانی فلم کا نظارہ کیا ہے جو نصف صدی پہلے گُم ہوگئی تھی۔ 1958 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے مصنف معروف شاعر فیض احمد فیض تھے اور ہدایتکار اے جے کاردار۔ فلم کا نام تھا: جاگو ہوا سویرا۔ یہ پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل تھا اور اسے دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ جس وقت مغربی بنگال میں ستیہ جیت رے آپو کی کہانی فلما رہے تھے عین اس وقت مشرقی بنگال میں بھی پاکستانی فلم کا ایک تاریخ ساز شاہکار فلمایا جا رہا تھا۔ مصنف اور ہدایتکار کی طرح ’جاگو ہوا سویرا‘ کے موسیقار اور فوٹو گرافر بھی اپنے اپنے فن میں منفرد حیثیت رکھتے تھے ۔ تمرِبارن چٹو پادھیائے وہی موسیقار ہیں جنہوں نے 1935 میں سہگل کی فلم دیوداس کا میوزک دیا تھا اور جرمنی میں پیدا ہونے والے والٹر لیزی وہی کیمرہ مین ہیں جنھیں بعد میں زوبرا دی گریٹ (1964) کی فوٹو گرافی پر آسکر انعام سے نوازا گیااور 1983 میں ہیٹ اینڈ ڈسٹ کی عکاسی پر برطانیہ کا بافٹا انعام دیا گیا۔ فرانس کے شہر نانت میں منعقدہ جس میلے میں اس ہفتے جاگو ہوا سویرا کی نمائش ہوئی ہے وہ تھری کانٹی نینٹس یعنی سِہ برِاعظی میلہ کہلاتا ہے اور اس میں ہر برس ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی فلمیں پیش کی جاتی ہیں۔ اس مرتبہ اس میلے کے منتظمِ اعلٰی جلدو فِلیپ نے پاکستان پہ توجہ مرکوز کی اور اہلِ یورپ کو پاکستانی فلموں سے متعارف کرانے کا بِیڑہ اٹھا کر وہ کراچی اور لاہور کے سفر پر روانہ ہوئے۔
غیر کمرشل فلموں کا حصول البتہ اتنا آسان نہ تھا۔ 1958 میں بننے والی پاکستانی فلم جاگو ہوا سویرا کے بارے میں انھوں نے بہت کچھ پڑھ، سُن رکھا تھا لیکن جب اسکے پرنٹ کی تلاش شروع ہوئی تو پاکستان بھر میں کہیں اسکا سراغ نہ ملا۔ ڈھاکہ میں حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھیں بھی کچھ علم نہ تھا۔احتیاطاً بھارت کے فلم خزانے میں بھی جھانک کر دیکھا گیا مگر اس فلم کی کوئی جھلک نظر نہ آئی۔ چونکہ فلم کو 1958 میں ماسکو فلمی میلے میں انعام مِل چُکا تھا اس لئے وہاں بھی رابطے کئے گئے مگر معلوم ہوا کہ سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد علمی، ادبی، ثقافتی اور فلمی بساط بھی کم از کم عارضی طور پر لپیٹی جاچکی ہے اور جب بنیادی مسائل سے فرصت ملے گی تو تبھی روسی حکام اس طرف توجہ دے سکیں گے۔ ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد فِلیپ کو خیال آیا کہ کیوں نہ لندن کے فلمی ذخیرے کھنگالے جائیں اور یہ فیصلہ انتہائی سود مند ثابت ہوا کیونکہ بالآخر جاگو ہوا سویرا کا وہ پرنٹ جو ماسکو میں دکھایا گیا تھا لندن کے ایک فلمی تہہ خانے سے برآمد ہوا۔
پچاس برس کے بعد اس گم گشتہ فلمی شاہکار کی بازیافت بذاتِ خود ایک خوش کُن خبر تھی لیکن فرانس کے سہ برِاعظمی میلے میں اسکی نمائش ایک ایسا واقعہ ہے جس پر پاکستانی فلم سے وابستہ ہر شخص ناز کر سکتا ہے کیونکہ اس نمائش کے دوران یورپ کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے فلمی شائقین نے انتہائی رغبت بلکہ قدرے مرعوبیت سے اسکو دیکھا اور دِل کھول کے سراہا۔ پاکستان سے اس میلے میں شرکت کےلئے جو افراد باضابطہ طور پر فرانس گئے اُن میں نیشنل کالج آف آرٹس کے شعبہ فلم و ٹیلی ویژن کی سربراہ شیریں پاشا، فلم ڈسٹری بیوٹر ستیش آنند، پی این سی اے کی جانب سے جمال شاہ اور معروف اداکارہ ریما بھی شامل تھیں۔ شیریں پاشا کی نیم دستاویزی فلم ٰہیما ٰ بھی میلے میں دکھائی گئی اور صبیحہ سومار کی خاموش پانی بھی، اِن کے علاوہ جمیل دہلوی کی ٹاورز آف سائِنلس بھی میلے میں شامل تھی جو کہ پارسی رسومِ مرگ کے حوالے سے زندگی اور موت کے ازلی تماشے پر ایک طنز ہے۔ جاوید جبار کی مسافر (بیانڈ دی لاسٹ ماؤنٹین) 1975 میں بنی تھی اور نئی نسل کے فلم بین اس سے آشنا نہیں ہیں۔ یہ وطن لوٹنے والے ایک ایسے نوجوان کی کہانی تھی جس کے باپ کو مشکوک حالات میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔ جب یہ نوجوان باپ کے قاتلوں کی کھوج میں نکلتا ہے تو اس پر ملک کی سیاسی اور سماجی زندگی کے کئی گمبھیر راز فاش ہوتے ہیں۔ میلے میں پاکستان کی جو کامیاب کمرشل فلمیں شامِل کی گئیں ان میں انور کمال پاشا کی گُم نام، مسعود پرویز کی کوئل، سنگیتا کی مٹھی بھرچاول اور شعیب منصور کی خدا کےلئے شامل ہیں۔ معروف دانش ور، نقّاد اور فلمی مورّخ آئی اے رحمان نے فرانس کے اس فلمی میلے کے نام اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس محض چند جلے ہوئے سٹوڈیو، تباہ شدہ سنیما ہال اور فلم سازی کا ٹوٹا پھوٹا سامان تھا لیکن ہماری فلم انڈسٹری ققنس کی راکھ سے نِکل کر منظرِ عام آگئی اور نا گفتہ بہ حالات میں بھی روحی، وعدہ، جاگو ہوا سویرا، کوئل، نیند ، گمنام، قاتل، انار کلی، چوڑیاں اور خدا کےلئےجیسی فلمیں پیش کیں۔ انھوں نے کہا کہ جو فلمی صنعت ایوب خان کے دورِ جبر اور ضیاء الحق کی آرٹ کُش پالیسیوں کے جہّنم سے صحیح سلامت نکل آئی وہ یقیناً اتنی سخت جان ہے کہ آج کے ناموافق حالات میں بھی ہمت نہیں ہارے گی اور سیاسی، سماجی، ثقافتی اور کاروباری حلقوں میں اپنا جائز مقام حاصل کر کے رہےگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||