BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 16:44 GMT 21:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ادائیگی کا ماہر اداکار، شفیع

اداکار شفیع محمد
سن اسی کی دہائی ختم ہوئی تو ڈرامے پر پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری بھی ختم ہوگئی
1976 کے آخری ایام میں سردیوں کی ایک اُداس شام تھی جب ایک ٹی وی سیریز کی آخری قسط سے فارغ ہونے کے بعد میں لاہور ٹی وی کی عمارت سے باہر آ کر اپنی موٹرسائیکل کی طرف بڑھ رہا تھا کہ چپراسی بھاگتا ہوا آیا اور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بولا کہ کمرے میں ایک ضروری فون آیا ہے۔

میں اس وقت تک دستانے چڑھا چُکا تھااور کنٹوپ پہن رہا تھا۔ ظاہر ہے میں قطعاً اس موڈ میں نہیں تھا کہ اپنی زرِہ بکتر اتار کر پھر سے دفتر میں جاؤں لیکن چپراسی نے بتایا کہ فون پر اداکار محمد علی ہیں۔

انھوں نے مجھے کبھی فون نہیں کیا تھا۔ ٹی۔وی اور فلم انڈسٹری کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں اور پیشہ ورانہ سطح پر ان دونوں اداروں میں کبھی دوستی کی فضا نہیں رہی۔ اداکار محمد علی سے میرا سرسری سا رابطہ یوں تھا کہ زمانہء طالب علمی میں جب سیاسی ہنگاموں کے باعث تعلیمی ادارے چھ ماہ تک بند رہے تو میں نے آوارہ گردی کےلئے ملتان روڈ کا انتخاب کیا اور اس آوارگی کو ذرا منظم شکل دینے کےلئے ہدایتکار ایس سلیمان کے ساتھ بطور ایک نائب کے کام شروع کر دیا۔ ان دنوں ایس سلیمان دو فلمیں ڈائریکٹ کر رہے تھے جن میں زیبا اور محمد علی مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

اسی باعث اداکار محمد علی میری صورت سے آشنا تھے۔بہر حال محمد علی نے مجھے بتایا کہ ریڈیو پاکستان حیدر آباد کا ایک نوجوان صداکار فلمی دنیا میں قسمت آزمائی کےلئے لاہور آیا ہوا ہے اور جب تک اسے فلموں میں کام نہیں ملتا آپ اسے ٹی وی پر موقعہ دیجئے۔

اگلے روز محمد علی نے نصرت ٹھاکر اور قنبر علی شاہ کو بھی فون کیا اور اسی نوجوان کی سفارش کی۔ میں یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا کہ سفارشی آدمی کا بوجھ میرے سر سے اُترا، اب کوئی اور پروڈیوسر اس سے نمٹے گا۔

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ٹیلی ویژن ڈرامے ان دنوں تھوک کے بھاؤ نہیں ہوتے تھے۔ پاکستان میں صرف پی۔ٹی۔وی کی نشریات دیکھی جا سکتی تھیں جہاں ہفتے میں صرف ایک دِن ڈرامہ نشر ہوتا تھا، لیکن کچھ اس اہتمام سے کہ لوگ ساری مصروفیات چھوڑ کے ڈرامہ دیکھنے بیٹھ جاتے تھے۔

محمد علی کے شہر سے آئے ہوئے نوجوان شفیع محمد کو کئی ماہ تک کسی فلم یا ٹی۔وی ڈرامے میں کام نہ مل سکا۔

1977 کے انتخابات کا وقت آن پہنچا۔ سات برس پہلے 1970 میں پاکستان ٹیلی ویژن نے بہترین الیکشن نشریات پیش کر کے بڑا نام کمایا تھا اور عوام توقع کر رہے تھے کہ اس بار بھی پاکستان ٹیلی ویژن انتخابات کے موقعے پر بہترین تفریحی پروگرام پیش کرکے اپنا معیار برقرار رکھے گا۔

این ٹی ایم کا دور
سن 80 کا عشرہ ختم ہوا تو ڈرامے پر پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری بھی ختم ہوگئی۔ این۔ٹی۔ایم نے تفریح کے متبادل راستے کھول دیئے اور چاند گرہن نامی کھیل نے گویا اس امر پہ مہرِ تصدیق ثبت کردی کہ ڈرامہ اب پی ٹی وی کے ہاتھ سے نکل کر پرائیویٹ ہاتھوں میں آگیا ہے

ٹیلی ویژن کے افسرِ اعلٰی آغا ناصر کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے تمام سٹیشنوں سے مختلف طرح کے پروگراموں کی منصوبہ بندی کی۔ انتخابی نتیجوں کے اعلانات کے درمیان جو وقفے آتے تھے ان میں چلانے کےلئےچھوٹے چھوٹے چُٹکلےتیار کرنے کا فریضہ مجھے سونپا گیا۔

جب ان ڈرامائی لطیفوں کی ریہرسل ہو رہی تھی تو وکیلوں والے کالے کوٹ میں ملبوس گھنے سیاہ بالوں والا ایک نوجوان کمرے میں داخل ہوا اور ایک کونے میں بیٹھ کر ریہرسل دیکھنے لگا۔ یہی وہ نوجوان تھا جس کی سفارش محمد علی نے کی تھی۔ کافی صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد چائے کے وقفے میں شفیع محمد میرے پاس آیا اور گھمبیر آواز میں بتایا کہ وہ واپس سندھ جا رہا ہے کیونکہ اتنا لمبا عرصہ لاہور میں قیام کے باوجود اسے نہ تو فلموں میں کام ملا ہے او نہ ہی ٹی۔وی ڈراموں میں۔

میں نے کہا کہ الیکشن کا ہنگامہ ختم ہوجائے تو کسی ڈرامے میں تمھیں ٹرائی کریں گے۔

چائے کا وقفہ ختم ہوا اور ریہرسل پھر سے شروع ہوگئی۔ منظر ایک حکیم کے کھوکھے کا تھا جہاں ایک گاہک دوا لینے آیا ہے لیکن اداکار سے دوا کا نام ٹھیک طرح نہیں لیا جارہا تھا۔ دو تین اداکاروں نے کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ فارغ بیٹھے ہوئے شفیع محمد نے رضاکارانہ پیش کش کی کہ وہ کوشش کرنا چاہتا ہے۔ دوا کا نام تھا ٰ ٰ اطریفل اُستوخدّوس زمانیٰ ٰ ۔۔۔ اور شفیع محمد نے تھوڑی سی ریہرسل کے بعداس لفظ پر قابو پالیا۔۔۔ اور یوں تین منٹ کے ایک مزاحیہ سِکٹ میں سندھ سے آئے ہوئے اداکاری کے شوقین نوجوان شفیع محمد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اولین موقعہ مِلا۔

کالے کوٹ والا یہ نوجوان بعد میں کس طرح چھوٹی سکرین پر چھا گیا، یہ کہانی ہر اس شخص کو معلوم ہے جو پاکستان ٹیلی ویژن پر ڈرامے کے عروج و زوال کا نظارہ کرتا رہا ہے۔

ٹی وی پر پہلی رونمائی کے بعد دس برس تک شفیع محمد سے ملاقات کا موقعہ نہ ملا۔ 1986 میں امریکہ سے واپسی پر کراچی میں عارضی قیام کے دوران پروڈیوسر اقبال انصاری نے مجھ سے ایک سیریل لکھنے کی فرمائش کی۔ جب سکرپٹ مکمل ہوگیا تو ہیرو کے انتخاب کا مرحلہ پیش آیا۔ کردار چونکہ روایتی ہیرو کا نہیں تھا اس لئے نگاہِ انتخاب شفیع محمد پر پڑی۔

شفیع محمد کو شکوہ تھا کہ کیریر کی ابتدا میں لاہور والوں کے یہاں اسکی کوئی پذیرائی نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ میرے سیریل میں بظاہر اس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی لیکن پروڈیوسر نے اسے بتایا کہ یہ کوئی معمولی کردار نہیں بلکہ اس میں ہیملٹ کی پراگندہ خیالی اور اِیڈیٹ کی سادہ دلی یک جان ہوگئی ہیں اور اسے تمھارے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔ اقبال انصاری کی تقریر سن کر شفیع محمد نے ایک چیلنج کے طور پر برزخ نامی سیریل میں پرنس کا وہ کِردار قبول کرلیا اور پوری خود سپردگی سے اسے نبھایا۔

سن 80 کا عشرہ ختم ہوا تو ڈرامے پر پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری بھی ختم ہوگئی۔ این۔ٹی۔ایم نے تفریح کے متبادل راستے کھول دیئے اور چاند گرہن نامی کھیل نے گویا اس امر پہ مہرِ تصدیق ثبت کردی کہ ڈرامہ اب پی ٹی وی کے ہاتھ سے نکل کر پرائیویٹ ہاتھوں میں آگیا ہے۔

چاند گرہن شفیع محمد کی طرح فریال گوہر کے کیرئر کا بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوا لیکن فریال نے بطور اداکارہ اس راہ میں مزید آگے جانے سے گریز کیا جبکہ شفیع محمد منزلوں پہ منزلیں مارتا ہوا فن کی انتہائی بلندیوں تک پہنچ گیا۔

نوجوانی کا دور ختم ہوتے ہی اس نے کیریکٹر رول قبول کرنے شروع کردئیے تھے اور کیریکٹر اداکاری کو کمالِ فن تک پہنچایا تھا۔

کیریکٹر ایکٹر بننے کا واحد نقصان یہ ہوا کہ شفیع محمد خود کو جسمانی طور پر سمارٹ رکھنے کی ذمہ داری سے آزاد ہوگیا چنانچہ کھانے پینے کی احتیاط سے بھی کنارہ کش ہوگیا۔

شفیع محمد کو شکوہ تھا کہ - - -
شفیع محمد کو شکوہ تھا کہ کیریر کی ابتدا میں لاہور والوں کے یہاں اسکی کوئی پذیرائی نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ میرے سیریل میں بظاہر اس نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی لیکن پروڈیوسر نے اسے بتایا کہ یہ کوئی معمولی کردار نہیں بلکہ اس میں ہیملٹ کی پراگندہ خیالی اور اِیڈیٹ کی سادہ دلی یک جان ہوگئی ہیں اور اسے تمھارے سوا کوئی نہیں کر سکتا

مکالمات کی ادائیگی میں شفیع محمد کا اپنا ایک غیر تھیٹریکل انداز تھا جو گھِسے پٹے مکالمات کو بھی کم از کم قابلِ قبول بنا دیتا تھا جبکہ اچھے مکالمات اسکے لبوں پہ آتے ہی کھیل کی شان کو سہ چند کر دیتے تھے۔ شفیع کی مکالمہ بولنے کی اس بے پناہ صلاحیت کو بہترین انداز میں مصنف اصغر ندیم سید نے استعمال کیا۔ اصغر کے لکھے ہوئے مکالمات دیکھ کر ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ مواد اس نے کسی اور اداکار کو ذہن میں رکھ کے لکھا ہوگا۔

شفیع محمد طویل مکالمے کو ایک نگاہ میں تول کر اسکے کئی حصّے کر لیا کرتا تھا۔ ناتجربہ کار پروڈیوسروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ اگرچہ بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتا، لیکن جب کسی طویل مکالمے کی ادائیگی کے دوران پروڈیوسر اسکے بنے بنائے گراف کو خراب کردیتا تو شفیع کے لئے ضبط کرنا مشکل ہوجاتا۔

شفیع محمد بنیادی طور پر ٹیلی ویژن کا اداکار تھا اور اسکی تربیت ملٹی کیمرہ پروڈکشن کے ماحول میں ہوئی تھی --- یعنی ایسے ماحول میں جہاں اداکار سٹیج کی طرح مسلسل مکالمے اور ایکشن کی ادائیگی جاری رکھتا ہے اور کئی کیمرے مختلف فاصلوں اور زاویوں سے اسکی تصویرکشی کرتے رہتے ہیں۔ یہ طریقِ کار اداکار کو ایسی آزادی مہیا کرتا ہے جس میں وہ ادائیگی کا سارا اتار چڑھاؤ اپنے کنٹرول میں رکھ سکتا ہے جبکہ فلمی سیٹ پر واحد کیمرے کے سامنے آپکو سارا ایکشن چھوٹے چھوٹے اجزاء میں توڑ کر پیش کرنا ہوتا ہے اور تسلسل کا تاثر قائم کرنے کی ذمہ داری اداکار کی بجائے ڈائریکٹر اور ایڈیٹر کے کندھوں پہ جاپڑتی ہے۔ ظاہر ہے کہ فلم کا کیمرہ اداکار سے ایک مختلف طرح کی کاریگری (کرافٹ) کا مطالبہ کرتا ہے۔

شفیع محمد نے یہ کرافٹ بھی سیکھا لیکن اس مہارت پر کبھی فخر نہ کرسکا کیونکہ اسکے اصل جوہر ٹیلی ویژن کے سیٹ پر ہی کھُلتے تھے جہاں وہ اپنی پرفارمنس میں آزاد تھا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ تلاش، روبی، ایسا بھی ہوتا ہے، بیوی ہوتو ایسی وغیرہ میں کام کرنے کے باوجود وہ خود کو کبھی فلمی اداکار نہ بنا پایا۔

دو برس پہلے ریلیز ہونے والی سلاخیں اسکی آخری اہم فلم تھی اور اس میں اپنی اداکاری کا کریڈٹ وہ بہت حد تک امجد اسلام امجد کو دیتا تھا جس نے شفیع کی فنی افتادِ طبع کے مطابق مکالمات لکھ کے دئیے اور نوجوان ہدایتکار شہزاد رفیق نے بھی اسے اپنی ادائیگی کا گراف بنانے کی کھُلی چھُوٹ دی۔

58 برس کر عمر ایک کیریکٹر ایکٹر کی اُٹھان کا زمانہ ہوتا ہے۔ شفیع محمد کا ایکٹنگ کیرئر اب پوری آب و تاب کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ ابھی اسے کئی لازوال کردار ادا کرنے تھے لیکن شاید وہ کمرشل ازم کی انتہا پر پہنچے ہوئے پاکستانی ڈرامے کے مستقبل سے مایوس ہوچُکا تھا ۔

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

ناول نگار شوکت صدیقیشوکت صدیقی
’خذا کی بستی‘ کے مصنف انتقال کر گئے
سلطان راہیعروج و زوال و عروج
نیفڈک، رنگیلا اور مولا جٹ: لالی وڈ کی کہانی
اسی بارے میں
اسد امانت علی انتقال کرگئے
08 April, 2007 | فن فنکار
موسیقار او پی نیر کا انتقال
28 January, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد