ایک وِلن کی موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
الیاس کاشمیری نے نِصف صدی پر پھیلے ہوئے اپنے فلمی کیرئر میں پانچ سو کے قریب فلموں میں کام کیا۔ یوں تو انہوں نے ہیرو سے لیکر وِلن اور منچلے نوجوان سے لیکر بوڑھے جاگیردار تک ہر رول میں ڈھلنے کی کوشش کی لیکن وِلن کا سانچہ اُن پر کچھ ایسا فِٹ بیٹھا کہ چالیس برس تک وہ مسلسل وِلن کا کردار ہی کرتے رہے۔ لاہور کی فلم انڈسٹری اگرچہ 1924 سے قائم تھی لیکن یہاں کا ہر فنکار پر پُرزے نکالتے ہی کلکتے یا بمبئی کا رُخ کرتا تھا اور آل انڈیا سطح پر شہرت حاصل کرنے کے خواب دیکھتا تھا۔ لاہور کے فنکاروں میں دیوانند، پران، اوم پرکاش نیر، اے آر کاردار، ایم اسماعیل، ڈی این مدھوک، کیدار شرما، غلام حیدر، فیروز نظامی، ظہور راجہ اور نذیر نے بمبئی جاکر اپنے فن کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ کیدار شرما ہدایتکاری کی طرف نکل گئے، کاردار اور نذیر نے بھی فلم سازی اور ڈائریکشن کی طرف توجہ مبذول کی۔ دیوانند اور پران نے اداکاری کی دنیا میں ممبئی پر راج کیا، مدھوک نے گیت نگاری میں نام پیدا کیا جبکہ غلام حیدر، فیروز نظامی اور لاہور ریڈیو کے نوجوان گلوکار او پی نیّر نے موسیقار کے طور پر شہرت حاصل کی۔ نذیر نے لاہور میں خاموش دور کی کئی فلموں میں کام کیا تھا۔ بمبئی پہنچنے کے بعد بھی وہ اپنے پنجابی دوستوں کو بمبئی مدعو کرتا رہا اور وہاں کی فلم نگری سے انہیں متعارف کراتا رہا۔ 1946 میں اس نے دراز قد اور خوبرو نوجوان الیاس کاشمیری کو بمبئی بلایا اور اپنی فلم ’ملکہ‘ میں شوبھنا سمرتھ کے مقابل ہیرو کا رول دیا۔
تقسیمِ ہند کے بعد الیاس کاشمیری کئی مسلمان فنکاروں کے ہمراہ لاہور آگئے جہاں دو برس تک تو انہیں کوئی کام نہ ملا لیکن 1949 میں جب آغا جی اے گُل نے فلم ’مندری‘ بنائی تو آہو چشم راگنی کے مقابل خوبرو الیاس کاشمیری کو ہیرو کا رول مِل گیا۔ یہ پاکستان میں انکی پہلی فلم تھی۔ انہوں نے چند اُردو فلموں میں بھی کام کیا لیکن انہیں اصل کامیابی پنجابی فلموں کے ذریعے ہی نصیب ہوئی۔ 1956 میں ’ماہی منڈا‘ ان کی پہلی کامیاب فلم کہلا سکتی ہے جس کے ایک ہی برس بعد انہیں ’یکے والی‘ جیسی سُپر ہٹ فلم میں کام مِل گیا۔ اگرچہ اُردو فلم اُنکی شخصیت اور مزاج کو راس نہ تھی لیکن 1957 میں ڈبلیو زیڈ احمد نے اپنی فلم ’وعدہ‘ میں صبیحہ سنتوش کے ساتھ الیاس کاشمیری کو ایک ایسے رول میں کاسٹ کیا جو خود فلم ’وعدہ‘ کی طرح لا زوال ثابت ہوا۔اسطرح کی کامیابی وہ صرف ایک مرتبہ اور حاصل کرسکے جب 1963 میں انہوں نے خود فلم ’عشق پر زور نہیں‘ پروڈیوس کی۔ یہاں انکے مقابل اسلم پرویز اور جمیلہ رزّاق تھیں اور الیاس کاشمیری ہیرو نہ ہوتے ہوئے بھی ایک ڈاکٹر کے رول میں ساری فلم پہ چھائے ہوئے تھے۔ الیاس کاشمیری کی کامیاب کمرشل فلموں کا دوسرا دور 1970 کے بعد شروع ہوا۔ فلم ’بابل‘ اور ’بشیرا‘ نے جہاں سلطان راہی کے لیے مستقبل میں ایک عظیم فلمی ہیرو بننے کا راستہ ہموار کیا، وہیں الیاس کاشمیری کو بھی کامیاب ترین وِلن کا تاج پہنا دیا۔ اس سے قبل یہ تاج بڑھک کے بادشاہ ’مظہر شاہ‘ کے سر کی زینت تھا۔ یہی زمانہ بطور ایک کامیڈین منور ظریف کے عروج کا زمانہ بھی تھا اور 1973 میں الیاس کاشمیری اور منور ظریف نے فلم ’بنارسی ٹھگ‘ میں ایک ساتھ نمودار ہوکر تماشائیوں سے زبردست داد بٹوری۔ اسی زمانے میں ’مرزا جٹ‘، ’باؤ جی‘، ’بدلہ‘، ’زرقا‘، ’دلاں دے سودے‘، ’دیا اور طوفان‘، ’سجن بے پرواہ‘، ’سلطان‘، ’ضدی‘، ’خوشیا‘، ’میرا نام ہے محبت‘ اور ’وحشی جٹ‘ جیسی فلمیں بھی منظرِ عام پر آئیں اور الیاس کاشمیری پاکستان کے معروف ترین اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔
سن ستّر کی دہائی پاکستان فلم انڈسٹری کے عروج کا زمانہ تھا۔ 1974 میں ایک سو بارہ فلمیں پروڈیوس ہوئیں اور تعداد کا یہ ریکارڈ آج تک قائم ہے۔ اگر سن پچہتر سے سن اسی تک کی فلمی فہرست ہر نگاہ ڈالی جائے تو آپکو ہر تیسری، چوتھی فلم میں الیاس کاشمیری کا نام دکھائی دے گا۔ 1924 میں پیدا ہونے والے الیاس کاشمیری سن اسی کی دہائی میں پہنچ کر اگرچہ بڑھاپے کی حدود میں داخل ہو چُکے تھے لیکن اپنے چھ فٹ ڈھائی انچ قد اور جان دار آواز کی بنیاد پر اب بھی انہیں ظالم جاگیردار کا کردار آسانی سے مِل جاتا تھا۔ یہ سلسلہ سن نوّے کی دہائی تک جاری رہا۔ انیس سو چھیانوے میں جب سلطان راہی کی اچانک موت کے باعث پنجابی فلموں کا کاروبار ٹھپ ہوا تو فلمی ولن کو بھی اپنے فن کی بساط لپیٹنی پڑی۔ گزشتہ سات برس سے الیاس کاشمیری بالکل گمنامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ شوگر کی بیماری نے انہیں پہلے ہی مضمحل کر رکھا تھا لیکن پیر کا زخم جب گینگرین کی شکل اختیار کر گیا تو ڈاکٹروں کو ٹانگ کاٹنی پڑی۔ اپنے آخری دِنوں میں وہ ایک عجیب سے احساسِ گناہ میں مبتلا دکھائی دیتے تھے اور بیماری سے پیدا ہونے والے تمام مصائب کو اپنی فلمی زندگی کی رنگینیوں کا نتیجہ گرداننے لگے تھے۔
کچھ عرصہ ہوا ایک ٹی وی چینل کی ٹیم ان سے انٹرویو کرنے کےلیے گئی لیکن کیمرے کی جھلک دیکھتے ہی الیاس کاشمیری نے شدید بیزاری اور نفرت سے منہ پھیر لیا اور کانپتی ہوئی آواز میں چلانے لگے ’یہ شیطانی کام ہے، یہ دوزخ کا ایندھن ہے، اسے بند کرو، اسے دور لے جاؤ‘۔ جس شخص نے پچاس برس تک کیمرے کے سامنے گھن گرج کا مظاہرہ کیا تھا آج وہ کیمرے کی ہلکی سی جھلک دیکھ کر سہم گیا تھا۔ پچاس برس کے فلمی کیرئر میں وہ کئی بار وِلن کی عبرت ناک موت کے تجربے سے گذر چُکا تھا، لیکن فلم بندی کے بعد وہ مسکراتا ہوا اُٹھتا اور کپڑے جھاڑ کر کسی دوسری فلم کے سیٹ پر، یا پھر سستانے کےلیے گھر چلا جاتا۔ لیکن بدھ بارہ دسمبر کی دوپہر کو وِلن کی موت کا ایک مختلف منظر دیکھنے میں آیا۔ کسی کمرشل فلم کے اختتامی سین کی طرح جب ولن نے آخری ہچکی لی تو اسکا کوئی دوست، رشتےدار، ہمسایہ یا مداح اُس کے پاس نہ تھا۔ آخری ایام کا واحد ساتھی اسکا گھریلو ملازم سرہانے کھڑا تھا اور شاید سوچ رہا تھا کہ ولن ابھی کپڑے جھاڑ کر اُٹھے گا اور مسکراتا ہوا کسی دوسری فلم کے سیٹ کی طرف روانہ ہوجائے گا لیکن اس بار ولن نے اپنی اداکاری میں واقعی حقیقت کا رنگ بھر دیا تھا۔ |
اسی بارے میں کراچی: شفیع محمد انتقال کر گئے18 November, 2007 | فن فنکار اسد امانت علی انتقال کرگئے08 April, 2007 | فن فنکار موسیقار او پی نیر کا انتقال 28 January, 2007 | فن فنکار اداکار ادیب انتقال کر گئے27 May, 2006 | فن فنکار اداکار محمد علی کا انتقال ہو گیا19 March, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||