سنجے پھرسلاخوں کے پیچھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ سپر سٹار سنجے دت کو ٹاڈا عدالت کے تحریری فیصلے کے بعد پیر کو ایک مرتبہ پھر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سنجے دت کو ایک بار پھر پونے کی یروڈا جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس وقت تک رہنا ہے جب تک انہیں سپریم کورٹ سے ضمانت نہیں مل جاتی۔ سنجے دت کو، جنہیں انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے سلسلے میں خصوصی ٹاڈا عدالت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے چھ سال قید کی سزا سنائی تھی، سپریم کورٹ نے فیصلہ کی نقل ملنے تک عارضی ضمانت پر رہا کیا تھا۔ ٹاڈا عدالت کے جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے سنجے سمیت تینتالیس مجرموں کو پیر کو فیصلے کی کاپی دینے کے لیے طلب کیا تھا۔سنجے صبح ہی اپنے وکلاء سمیت عدالت میں حاضر ہو گئے تھے۔ نیلی شرٹ اور جینز میں ملبوس سنجے نے وہاں موجود صحافیوں سے ان کے لیے دعا کرنے کی اپیل کی۔ ان کے ساتھ ان کے ساتھی یوسف نل والا بھی تھے جنہیں ان کا ساتھ دینے کے جرم میں سزا ہوئی ہے۔ چار ہزار تین سو چالیس صفحات پر مشتمل فیصلے کی کاپی ملنے کے بعد سنجے کے وکیل سپریم کورٹ میں اپیل داخل کریں گے۔
سنجے دت کی وکیل فرحانہ شاہ کا کہنا ہے کہ سنجے کو ضمانت مل سکتی ہے کیونکہ ان کا پرانا ریکارڈ اچھا ہے۔’عدالتی کارروائی کے دوران دی گئی ضمانت کا انہوں نے کبھی غلط استعمال نہیں کیا اس لیے عدالت عالیہ سے ضمانت ملنا مشکل نہیں ہے لیکن فیصلہ کو چیلنج کرنے کے لیے وکلاء کی ٹیم قانونی مشورے کے بعد ہی عدالت میں چیلنج کرے گی۔‘ ایڈوکیٹ مجید میمن کے مطابق سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ عدالت کے پاس پہلے ہی کافی مقدمے التواء میں ہیں۔’اگر دیوالی کی چھٹی سے پہلے سنجے کی اپیل عدالت کے سامنے آجاتی ہے تو شاید سنجے دیوالی گھر منا سکیں لیکن ایسا مشکل لگ رہا ہے۔‘ شاہ کے مطابق فیصلے کی کاپی میں عدالت نے سنجے کو ٹاڈا قانون سے بری کرنے کی جو وجہ بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ ’سنجے نے اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ منگایا تھا اس میں خصوصی طور پر اے کے 56 رائفل کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔وہ اسلحہ بم دھماکہ کی سازش کا حصہ نہیں تھا۔‘ ٹاڈا عدالت نے بم دھماکوں کے مقدمے میں سو مجرموں کو سزائیں سنائی تھیں جن میں سنجے کو سب سے آخر میں اکتیس جولائی کو چھ سال قید بامشقت کی سزا دی گئی تھی۔ سنجے کو ممبئی کی آرتھر روڈ جیل سے پونے کی یروڈا جیل میں رکھا گیا تھا جہاں انہوں نے بینت کی کرسیاں بنانے کا کام قبول کیا تھا۔تئیس دن گزارنے کے بعد عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنےکا حکم دیا تھا کیونکہ انہیں فیصلے کی کاپی نہیں ملی تھی اور سپریم کورٹ کے ایک حکم کے مطابق کسی مجرم کو اس وقت تک قید نہیں رکھا جا سکتا جب تک اسے فیصلے کی نقل نہیں مل جاتی۔ |
اسی بارے میں حکمنامے میں تاخیر، سنجے کا فائدہ27 September, 2007 | فن فنکار سنجے دت ضمانت پر رہا ہوگئے23 August, 2007 | فن فنکار سپریم کورٹ میں سنجے دت کی اپیل07 August, 2007 | فن فنکار سنجے دت کو چھ برس قید31 July, 2007 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||