BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 September, 2007, 14:31 GMT 19:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسکرنامزدگی، عدالت میں

فلم ایکلویہ
فلم ’ایکلویہ‘ کوانڈیا کی جانب سے آسکر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
بالی وڈ فلم’ دھرم‘ کی ہدایت کار بھاؤنا تلوار نےفلم’ایکلویہ‘ کی آسکر نامزدگی کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوتنتر کمار نے سنیچر کواس کیس کی سماعت کے بعد اسے دس اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

فلم فیڈریشن آف انڈیا (ففی) کے گیارہ جیوری ممبران نے چوبیس ستمبر کو اپنے فیصلہ میں ودھوونود چوپڑہ کی فلم ’ایکلویہ‘ کوانڈیا کی جانب سے آسکر میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔

فلم ایکلویہ کے فلمساز ودھو ونود چوپڑہ نے تلوار کےاس اقدام کو ایک افسوسناک پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ’تلوار نےجو تنازعہ کھڑا کیا ہے اس سے بین الاقوامی سطح پر انڈین فلم اندسٹری کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے‘۔

WSG پکچرز کے بینر تلے بنی فلم دھرم کی ہدایتکار بھاؤنا تلوار ہیں اورانہوں نے ممبئی ہائی کورٹ میں اپنی عرضداشت کے ذریعہ ففی کے فیصلہ کو چیلنج کیا ہے۔

عرضداشت میں تلوار نے کہا ہے کہ’ ایک ایسا ادارہ جو اکاڈمی ایوارڈ کے لیے فلموں کا انتخاب کرتا ہے اسے بہترین فلم کا انتخاب کرنا چاہیئے لیکن انہیں یہ سن کر حیرانی ہوئی کہ ایک ایسی فلم کا انتخاب کر لیا گیا جس نے نہ تو باکس آفس پر اچھا بزنس کیا اور نہ ہی نقادوں نے اس فلم کی تعریف کی جبکہ ان کی فلم دھرم کی انڈیا میں ہی نہیں پوری دنیا میں تعریف کی گئی ہے۔

اپنی عرضداشت کے ذریعہ تلوار نے الزام لگایا ہے کہ فلم ایکلویہ کے انتخاب سے نہ صرف انہیں بلکہ ملک کے تمام فلم شیدائیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

ففی کے فیصلے کے بعد سے ہی بالی وڈ میں اس انتخاب پر انگلیاں اٹھنے لگی تھیں۔بیشتر فلمی ہستیوں نے اس پر رائے دینے سے اپنا دامن بچایا لیکن انوپم کھیر، ساجد خان، ہدایت کار سنیل درشن نے کھل کر اس فیصلہ اور جیوری ممبران پر نکتہ چینی کی۔

ففی کےچیئرمین وندو پانڈے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ’انہوں نے پہلے فلم دھرم کا نام تک نہیں سنا تھا لیکن فلم دیکھنے کے بعد انہیں لگا کہ یہ ایک شاہکار فلم ہے اور اگر میں اس فلم سے کسی طرح منسلک ہوتا تو مجھے فخر ہوتا لیکن فلم ایکلویہ جیوری کا متفقہ فیصلہ تھا‘۔

ذرائع ابلاغ میں بھاؤنا تلوار کے بیانات کے بعد ایکلویہ کے فلمساز ودھو ونود چوپڑہ نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر تلوار کو ففی کےجیوری ممبران سے کوئی شکایت تھی تو وہ اپنی فلم کو پیش کرنے سے پہلے ہی اعتراض اٹھاتیں لیکن انہوں نے فیصلے کے بعد یہ اعتراض جتایا۔

چوپڑہ نے کہا کہ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ جیوری میں کون سے ممبران ہیں۔

تلوار نے فلم ایکلویہ کے ایڈیٹر رنجیت بہادر کے جیوری میں شامل ہونے پر اعتراض کیا تھا۔ان کےاس اعتراض پر چوپڑہ کا کہنا تھا کہ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ جیوری میں کون سے ممبران ہیں۔

ففی کے ذریعہ آسکر کے لیے فلم کی نامزدگی پر پہلی مرتبہ اعتراض نہیں ہوا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ برس ہی جب فلم ’رنگ دے بسنتی‘ کو ففی نے آسکر کے لیے نامزد کیا تو چوپڑہ نے اس پراعتراض کیا تھا اور بعد میں ان کی فلم لگے رہو منا بھائی کو آسکر میں جنرل زمرہ میں بھیجا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد