 | خاص فن پارہ   فرائیڈ کی اس پینٹنگ کی اتنی قیمت لگنا ہرگز غیر متوقع نہیں۔۔۔ ایک قریبی دوست کا پورٹریٹ ہونے کی وجہ سے بھی یہ ایک خاص فن پارہ ہے۔  چارلس ڈپلن، آرٹ ایکسپرٹ |
لندن کی ایک آکشن میں کسی بھی زندہ یورپی آرٹسٹ کی مہنگی ترین بکنے والی پینٹنگ کا ریکارڈ اس وقت ٹوٹ گیا جب لوشیاں فرائیڈ کا بنایا ہوا ایک پورٹریٹ سات اعشاریہ آٹھ ملین پاؤنڈ میں فروخت ہوا۔ جنگ کے بعد کی اور ہم عصر پینٹنگز کی لندن کے نیلام گھر کرسٹیز میں ہونے والی سیل میں فرائیڈ کے بنائے ہوئے اپنے دوست بروس برنارڈ کے اس پورٹریٹ کا تخمینہ پانچ ملین پاؤنڈ لگایا گیا تھا۔ اسی نیلام میں فرانسس بیکن کی پینٹنگ ’ٹو مین‘ پانچ ملین پاؤنڈز سے کچھ زیادہ اور اینڈی واہول کی پینٹنگ ’تھری میرلنز‘ پانچ اعشاریہ چھ ملین پاؤنڈز میں فروخت ہوئی ہے۔ لوشیاں فرائیڈ بیسویں صدی کے اہم محقق و نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کے پوتے ہیں۔ وہ برلن میں پیدا ہوئے لیکن جرمنی میں ہٹلر کے عروج کے بعد ان کے والدین لندن آگئے اور لوشیاں کا مستقل گھر اب یہی ہے۔ آرٹ ایکسپرٹ چارلس ڈپلن کا کہنا ہے کہ فرائیڈ کی اس پینٹنگ کی اتنی قیمت لگنا ہرگز غیر متوقع نہیں۔ ’فرائیڈ کی یہ پینٹنگ، جنہیں زیادہ تر لوگ برطانیہ میں عصرِ حاضر کا عظیم ترین آرٹسٹ مانتے ہیں، ہمیشہ ریکارڈ توڑنے والا شاہکار لگتی تھی۔ ان کے مطابق ’جہاں عصرِ حاصر کے فن پاروں کی قیمت بڑھنے کا رحجان ہے وہاں یہ ایک قریبی دوست کا پورٹریٹ ہونے کی وجہ سے بھی یہ ایک خاص فن پارہ ہے۔‘ بروس برنارڈ، جن کا انتقال دو ہزار میں ہوا، پکچر ایڈیٹر اور فوٹوگرافی اور پینٹگز کی کتابوں کے لکھاری تھے۔ آرٹ ایکسپرٹس کے اندازے کے مطابق اس ہفتے لندن میں ان فن پاروں کی فروخت سے پانچ سو ملین پاؤنڈز کی آمدنی متوقع ہے۔ |