BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 December, 2006, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بالی وڈ سنہ 2006: ایک کامیاب سال

فلم ’لگے رہو منا بھائی‘
’لگے رہو منا بھائی‘ میں گاندھی گیری نے نا انصافی اور برائی کو ہراد دیا
سنہ 2006 بالی وڈ کے لیے بہت اچھا سال ثابت ہوا ہے۔

اس کی خاص بات یہ ہے کہ جو فلمیں کامیاب ہوئی ہیں وو بالی وڈ کے روایتی فارمولے سے ہٹ کر ہیں۔

اس سال کی کامیاب ترین فلموں میں ’رنگ دے بسنتی‘ شامل ہے جو کہانی کے خونی اور پُر تشدد اختتام کے باوجود بہت مقبول رہی۔ اس فلم میں نوجوانوں کی حب الوطنی، مذھبی منافرت اور سیاست دانوں اور حکمرانوں کے جھوٹے اور منفی رویہ پر نظر ڈالی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ’لگے رہو منا بھائی‘ بھی انتہائی کامیاب رہی اور اس میں بھی سماج میں برائی اور جھوٹ سے نمٹنے کے لیے گاندھی گیری کا طریقہ بتایا گیا ہے۔

نامور سٹار ہرتک روشن کی سپر ہیرو فلم ’کرش‘ کے علاوہ ان کی ’دھوم 2‘ اور سٹارز عامر خان اور کاجول کی ’فنا‘ بھی کامیاب رہیں۔

اس سال کی سب سے غیر متوقع ہٹ فلموں میں چھوٹے بجٹ پر بنائی گئی فلم ’کھوسلا کا گھوسلا‘ ہے۔

اس فلم میں مِڈل کلاس کے شریف افراد کی ایک قبضہ گروپ سے ٹکر ہوتی ہے۔

’کھوسلا کا گھوسلا‘ میں ایک شریف مڈل کلاس خاندان کا شہر کے قبضہ گروپ سے ٹکر ہو جاتی ہے‘

فلمی صحافی اندو میرانی کا خیال ہے کہ سنہ 2006 کی فلمیں کامیابیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انڈیا کی فلم انڈسٹری کو اب یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ فلمیں دیکھنے والوں کو کیا کچھ چاہیے۔

’ان کو کوئی نئی چیز چاہیے ہوتی ہے۔ اب ہدایتکاروں کی کوشش یہی ہے کہ وہ فلموں میں کوئی نئی اور انفرادی چیز شامل کریں۔‘

بالی وڈ کے تجارتی امور کے ایک ماہر کومل نہتا بھی کہتے ہیں کہ بالآخر ہدایتکاروں کو ایک اچھے سکرپٹ کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے۔

’اب انہیں پتہ چل گیا ہے کہ اچھی فلم کی بنیاد اچھا سکرپٹ ہے۔‘

’کرش‘ کے فلمساز راکش روشن کا کہنا ہے کہ انڈیا کے شہروں میں ’سینے پلیکس‘ کے قیام سے بھی بہت فرق پڑا ہے کیونہ ان ملٹی سکرین سینیما گھروں کی وجہ سے ’تعلیم یافتہ لوگ واپس سنیما میں فلم دیکھنے آ رہے ہیں۔‘

فلموں نے کیا کمایا؟
دھوم 2: ساڑھے چھ ملین ڈالر کے بجٹ پر نبنائی گی فلم نے چودہ ملین ڈالر سے زیادہ کما لیے۔
کرش: ساڑھے پانچ ملن ڈالر بجت پر بنی، بارہ ملین ڈالر کما لیے۔
لگے رہو منا بھائی: 3.3 ملین ڈالر کے بجٹ پر بنی اور فلم نے تقریباً بارہ ملین ڈالر کمائے ہیں۔
فنا: ساڑھے چار ملین ڈالر پر بنائی گئی فلم نے ساڑھے دس ملین ڈالر کمائے۔

ایک سکرین والے روایتی سنیما گھر میں فُل ہاؤس کے لیے 800 سے ہزار ٹکٹوں کی فروخت ضروری تھی لیکن ان ملٹی سکرین سنیما کامپلکسز میں صرف 200 ٹکٹوں کی فروخت میں ہاؤس فُل ہو جاتا ہے اور سینے پلیکس میں عموماً پانچ سکرین پر مختلف فلموں کی نمائش ساتھ چل رہی ہوتی۔

سینے پلیکس میں ٹکٹ کی قیمت زیادہ ہونے کے باجود لوگ یہاں فلم دیکھنا اس لیے پسند کرتے ہیں کہ اس کا ماحول اچھا ہے اور فلم کی نمائش تکنیکی لحاظ سے بہتر ہوتی ہے۔

انڈیا میں فلموں کی مانگ کے علاوہ بیرون ملک میں بھی ان فلموں کی ایک بڑی مارکٹ ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں اکثر ہٹ فلموں کے علاوہ بھیفلمیں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال شاہ رخ خان کی فلم ’کبھی الوداع نہ کہنا‘ ہے جو کہ سپر سٹار کاسٹ کے باوجود انڈیا میں فلاپ ہوئی لیکن بیرون ملک میں ہٹ ہو گئی۔

ایسی کامیابی اس لیے بھی ممکن ہے کہ بیرون ملک میں ٹکٹ کی قیمت انڈیا کے ٹکٹ کی قیمت سے چار گنا زیادہ ہے۔

بالی وڈ میں اب یہ احساس بھی ہو گیا ہے کہ فلموں کو فرنچائز کرنے سے بھی خوب پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔ فلموں کے ویڈیو گیم، کپڑوں، فون کے رِنگ ٹونز اور فلموں کے کلپ بیچنے سے بھی کافی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔

موبائل فون کمپنی ’ائرٹیل‘ کے ہریش گاندھی بتاتے ہیں’بالی وڈ موسیقی اور کلپس سے ہماری آمدنی نمایاں ہے۔‘

’دھوم 2‘ منفرد ایکشن اور سپر سٹاڑز کی وجہ سے کامیاب رہی

اس بدلتے ہوئے ماحول میں بالی وڈ کے فلمساز مختلف اور نئی فلمیں بنانی کی ہمت کر رہے ہیں۔

اندو میرانی کہتے ہیں ’چھوٹے بجٹ پر اچھے سکرپٹ کے ساتھ بنائی گئی فلمیں اب کامیاب ہو رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پروڈیوسر اب رِسک لینے سے کم گھبرا رہے ہیں۔‘

اور ان تمام مثبت تبدیلیوں سے لگتا ہے کہ سنہ 2007 بھی بالی وڈ کے لیے ایک کامیاب سال ثابت ہونا چاہیے۔

عامر خان’فلم دل کے قریب ہے‘
رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے: عامر خان
بالی وڈ: پرانی فلمیں رنگین ہونگیبلیک اینڈ وائٹ
بالی وڈ: پرانی فلمیں رنگین ہونگی
عامر خانتاریخ،ادب اور بالی وڈ
برصغیر کی تاریخ اور ادب، فلمسازوں کی پسند
ندیم شبنمسپر ہِٹ فلمیں
1979 فلمی صنعت کا تاریخ ساز سال
اسی بارے میں
’رنگ دے بسنتی ایک خاص فلم ہے‘
26 September, 2006 | فن فنکار
قصہ فلمی کسنگ کا
09 December, 2006 | فن فنکار
مغلِ اعظم کا اصل المیہ
21 October, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد