پٹوردھن کی ’جنگ، جہاد اور امن‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ برس کی طویل قانونی لڑائی کے بعد دستاویزی فلموں کے لیئے معروف آنند پٹوردھن کی انعام یافتہ فلم ’فادر سن اینڈ ہولی وار‘ اب سرکاری ٹی وی چینل دور درشن پر بھی د کھائی جا ئے گی۔ اس کے لیئے پٹوردھن کو انتھک کوشش کرنی پڑی اور بالآخر سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد یہ ممکن ہوسکا ہے۔ فلم ’فادر سن اینڈ ہولی وار‘ خواتین کے ساتھ تشدد اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیئے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کے موضوع پر مبنی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’فلم نے سماجی برائیوں کی تصویر کشی کی ہے اور اس میں سماج کے لیے ایک پیغام ہے‘۔ اس فلم کو 1996 میں قومی انعام سے نوازہ گیا تھا لیکن دور درشن نے اسے دکھانے سے انکار کردیا تھا۔ دور درشن اور پٹوردھن کی فلموں کے درمیان یہ پہلی رسہ کشی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ڈی ڈی نے ان کی تین فلمیں عدالت کے حکم کے بعد نشرکی تھیں۔ پٹوردھن نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ سرکاری چینل نے شروع ہی سے ان کے خلاف یہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ ’بیس برس قبل میری پہلی فلم 'بمبئی ہماراشہر' کی نمائش سے انکار کردیاتو ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یہ فلم نشر ہوئی۔ پھر پنجاب میں شدت پسندی اور خالصتان پر مبنی فلم ’ان متروں کی یاد پیاری‘ کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا۔ ہائی کورٹ نے پھر نشر کرنے کا حکم دیا۔ بابری مسجد پر بنی فلم ’رام کے نام‘ بھی عدالت کے حکم کے بعد دکھائی گئی لیکن تب تک مسجد منہدم کی جا چکی تھی‘۔ ان تمام فلموں کو نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازہ جاچکاہے لیکن پھر ڈی ڈی کو انہیں نشر کرنے میں کیا پریشانی ہے۔ پٹوردھن کہتے ہیں کہ دور درشن نام نہاد آزادی کا دعوٰی کرتا ہے ۔ ’در اصل وہ سرکاری پروپیگنڈے کا ذریعہ ہے۔ سرکار کے خلاف وہ کچھ بھی برداشت نہیں کرسکتا اور میری فلموں میں سرکار یا فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے جو انہیں ہضم نہیں ہوپاتا‘۔
پٹوردھن کہتے ہیں کہ حکومت یا سینسر بورڈ کا یہ رویہ بڑا عجیب ہے کہ وہ فلم کو انعام و اعزاز کے لائق تو سمجھتے ہیں لیکن عوام تک اس کی رسائی کے مخالف ہیں۔ ’وہ کہتے ہیں عام لوگ ایسی فلمیں سمجھ نہیں سکتے جبکہ میرا تجربہ ہے کہ ایسی فلموں سے اعلٰی طبقہ ڈرتا ہے اور عوام اسے سمجھتے و سراہتے ہیں‘۔ پٹوردھن کی پانچویں دستاویزی فلم ’جنگ اور امن‘ کو بھی نیشنل ایوارڈ مل چکا ہے اور وہ بھی ڈی ڈی پر نشر ہونے کی منتظر ہے۔ پٹوردھن کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے احکامات سے لگتا ہے ڈی ڈی دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ ’عدالت نے کہا ہے کہ میری فلموں کے ساتھ ڈی ڈی کا رویہ نہ صرف غلط ہے بلکہ جان بوجھ کر مجھےنشانہ بنایا گیا۔ اگر دوبارہ ایسا کیا گیا تو عدالت ان کے خلاف سختی کر سکتی ہے‘۔ وہ کہتے ہیں فادر سن اینڈ ہولی وار‘ کے بعد ’جنگ اور امن‘ نشر کی جائے گی۔ یہ فلم ’جوہری طاقت اور ہتھیاروں کےخلاف ہے۔اس میں جوہری توانائی پیدا کرنے سے آس پاس کے لوگوں پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس پر بھی بات کی گئی ہے اور یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کے لیئے بنائی گئی فلم ہے‘۔ پٹوردھن کی فلم ’رام کے نام‘ کو بڑی شہرت ملی تھی۔ ہندو نظریاتی تنظیموں نے اس کے خلاف ایک فلم بنائی تھی اور اسے بھی بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ پٹوردھن کہتے ہیں کہ مجھے جوابی فلم بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ’سچائی میں آنچ ہوتی ہے اور حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سچائی کے لیئے لڑتے ہیں اور اسی لیئے حکومت کے خلاف نو کیس جیتے ہیں۔ ’میں نے ڈی ڈی کے خلاف پانچ مقدمے ہائی کورٹ میں اور دو سپریم کورٹ میں لڑے اور دو سینسر بورڈ کے خلاف اور سبھی میں کامیابی ملی ہے۔ میری فلم کا ایک شاٹ تو کیا ایک فریم تک کٹ نہیں ہوا ہے‘۔ |
اسی بارے میں جھانسی کی رانی، خان کی انا اور ڈیڑھ لاکھ کا فوٹو10 July, 2006 | فن فنکار سلمان، غیر قانونی اسلحہ کا الزام خارج04 May, 2006 | فن فنکار انڈین فلمی صنعت بھیڑ چال کا شکار22 April, 2006 | فن فنکار 2006 کے آئیفا ایوارڈز دبئی میں19 April, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||