BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 March, 2006, 16:12 GMT 21:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خواجہ خورشید انور، ایک رسیلے موسیقار

خواجہ خورشید انور (21 مارچ 1912 --- 30 اکتوبر 1984)
پاکستان اور ہندوستان میں موسیقی کے چاہنے والے ہر سال 21 مارچ کو خواجہ خورشید انور کی سالگرہ بڑی چاہت سے مناتے ہیں۔ برصغیر کا یہ عظیم موسیقار 21 مارچ 1912 میں میانوالی میں پیدا ہوا۔

مہدی حسن کی آواز میں ’مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے‘، نورجہاں کی آواز میں ’دل کا دیا جلایا‘، ’رم جھم رم جھم پڑے پھوار‘ اور ان جیسے ان گنت لافانی گیتوں کے خالق خواجہ خورشید انور آج ہم میں نہیں لیکن اُن کی ترتیب دی ہوئی دھنیں آج بھی موسیقی کے پرستاروں کے دلوں کو گرماتی ہیں۔

اپنے عہد کے اس عظیم موسیقار کے تخلیقی سفر کا آغاز ویسے تو 1939 میں آل انڈیا ریڈیو لاہور سے ہوتا ہے لیکن یہ بات 1941 کی ہے جب ان کی ترتیب دی ہوئی موسیقی کی پہلی فلم کڑمائی بمبئی (اب ممبئی) سے ریلیز ہوئی۔ اور یوں گلوکارہ راجکماری کی آواز میں ’ماہی وے راتاں‘ سے خواجہ صاحب کے فلمی موسیقی کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔

فلموں میں کلاسیکی موسیقی کے خالق
 خواجہ صاحب سے زیادہ مشرقی کلاسیکی موسیقی کا ادراک شاید ہی کسی اور فلمی موسیقار کو ہو۔
موسیقار وزیر افضل

انیس سو تریپن میں بمبئی سے لاہور منتقل ہونے کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر اٹھارہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی جن میں انتظار ہیر رانجھا اور کویل جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔ فلم انتظار کا گانا ’چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار‘ خواجہ صاحب کی موسیقی میں گلوکارہ نورجہاں کا گایا ہوا پہلا گانا ہے۔

انیس سو چالیس اور پچاس کی دہائیوں کے لاہور کو اگر فن و ادب کا گہوارہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا، یہ وہ دور تھا جب مال روڈ پر پرانی انارکلی کے قریب واقع پاک ٹی ہاؤس میں انقلابی شعراء، ادیب اور موسیقار گرما گرم چائے کی بھاپ اور سگریٹ کے دھوئیں کے دبییز بادلوں میں فن و ادب کی باریکیوں پر رات گئے تک بحث کیا کر تے تھے۔

اُس بوہیمین لاہور میں خواجہ خورشید انور کے ہم عصروں میں ویسے تو کئی بڑے نام ہیں لیکن اِن میں فیض احمد فیض، استاد دامن اور راجندر سنگھ بیدی جیسی شخصیات نمایاں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان دوستوں میں ایک دوسرے کے شعبوں کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔

خواجہ خوشید انور کی جوانی کے دن

خواجہ خورشید انور موسیقار کے علاوہ ایک کامیاب تمثیل نگار، شاعر اور ہدایتکار بھی تھے۔ بحیثیت ہدایتکار انہوں نے ہمراز، چنگاری اور گھونگٹ جیسی فلمیں بنائی اور اِن فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دی۔

اُن کے والد خواجہ فیروز الدین ایک مشہور وکیل تھے۔ خواجہ خورشید انور نے انیس سو پینتیس میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفے میں ایم اے کرنے کے بعد 1936 میں آئی سی ایس کا امتحان تو پاس کرلیا لیکن کالج کے ابتدائی زمانے میں جب انقلابی تنظیم نوجوان بھارت سبھا کے رہنما بھگت سنگھ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ لاہور بوسٹل جیل میں سزائے موت کا انتظار کررہے تھے تو اِسی تنظیم کا رکن ہونے کی پاداش میں خواجہ صاحب کو جیل جانا پڑا اور بعد میں یہی وجہ رہی کہ انگریز سرکار نے انہیں انڈین سول سروس کے لئے مناسب نہ سمجھا۔

پاکستان کے ترقی پسند صحافی آئی اے رحمان کا کہنا ہے کہ وہ ایک بم کیس میں دھرے گئے تھے لیکن بغیر کوئی مقدمہ قائم ہوئے اپنے والد کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ان کی جلد ہی گلوخلاصی ہوگئی۔ آئی اے رحمان نے مزید بتایا کہ خواجہ صاحب خاصے کم گو اور تنہائی پسند واقع ہوئے تھے اور ان کی قریبی دوستی صرف فیض احمد فیض کے ساتھ ہی تھی۔

ان کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے آئی اے رحمان نے بتایا کہ ایک دفعہ جب ان کی ملاقات ہوئی تو خواجہ صاحب اپنے دھیمے انداز میں گویا ہوئے کہ: ’تماری صحت اچھی معلوم ہوتی ہے، اسکا مطلب یہ ہے کہ تمہارا ذہن سو چکا ہے۔‘

ملکۂ ترنم نور جہاں کے ساتھ

خواجہ صاحب کے جاننے والوں میں ارشد محمود کا نام بھی آتا ہے۔ ارشد محمود موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پہلے موسیقی پر شائع ہونے والے جریدے کے مدیر بھی ہیں۔ نوجوانی کے دنوں میں ارشد محمود لاہور میں ریکارڈنگ کمپنی ای ایم آئی سے منسلک تھے جہاں خواجہ صاحب اپنی موسیقی ریکارڈ کروایا کرتے تھے۔

ارشد محمود نے بتایا کہ کہ ایک دفعہ خواجہ صاحب نے موسیقار بابا چشتی سے کہا کہ ’تم نے نورجہاں سے الل ٹپ پنجابی گانےگوا کر اس کی آواز کی تمام لوچ خراب کردی ہے۔ لخت جگر کا گانا ’چندا کی نگری سے آجا رے نندیا‘ جیسا گانا کیوں نہیں بنایا‘۔

موسیقار وزیر افضل خواجہ صاحب کے باقاعدہ شاگرد تھے اور اِن کے کام میں خواجہ صاحب کے سروں کی جھلک بھی صاف نظر آتی ہے۔ وزیر افضل کہتے ہیں کہ خواجہ صاحب سے زیادہ مشرقی کلاسیکی موسیقی کا ادراک شاید ہی کسی اور فلمی موسیقار کو ہو۔

اکثر ناقدین موسیقی کا خیال ہے کہ پاکستان میں چالیس سے لے کر ستر کی دہائی تک جو موسیقی تخلیق ہوئی ہے اُس کی مثال بعد کے ادوار میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا اس کی وجہ پاکستان میں جمہوری روایات کی کمی تو نہیں ہے، آئی اے رحمان نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ اُس دور کے زیادہ تر موسیقاروں کی فہم و فراست کا ارتقاء تقسیم سے پہلے کا ہے اور یہ وہ ماحول تھا جسکی کمی بعد میں بہت شدت سے محسوس کی گئی اور کی جارہی ہے۔

خواجہ خورشید انور کے بیٹے عرفان خواجہ آجکل امریکہ میں مقیم ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب مجھے اپنے والد کی کوئی بات یاد نہ آتی ہو اور اگر کسی دن نہ بھی آئے تو انکا کوئی پرستار فون یا ای میل کرکے خواجہ صاحب کی یاد دلا دیتا ہے۔

گلوکار مہدی حسن کے ساتھ

دنیا کا ہر فنکار ایک ایسی تخلیق کی تمنا کرتا ہے جو رہتی دنیا تک لوگوں کو اسکا نام یاد دلاتی رہے ۔ ’کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی‘ کی تشریح موسیقی کی جہت میں خواجہ خورشید انور کی تخلیق کردہ موسیقی سے بہتر شاید ہی کوئی اور موسیقار کرسکے۔

تیس اکتوبر انیس سو چوراسی کو برصغیر پاک و ہند کا یہ مایہ ناز موسیقار ہم سے جدا ہوا اور اسی سال ان کے ہم عصر فیض احمد فیض، راجندر سنگھ بیدی اور استاد دامن بھی رخصت ہوئے۔

خواجہ صاحب نے اپنی پوری زندگی فن کے معاملے میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اُن کی موت پر احمد راہی نے کہا کہ عزت کی روٹی تو سب کھاتے ہیں لیکن عزت سے بھوکا رہنا صرف خورشید صاحب کو آتا تھا۔

اسی بارے میں
لالی وڈ آج اور کل، قسط 11
19 September, 2005 | فن فنکار
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد