جیکسن کوطرز زندگی بدلنا ہوگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائیکل جیکسن کے وکیل کا کہنا ہے کہ پاپ اسٹار اب لڑکوں کو اپنے بیڈروم میں نہیں سلائیں گے انہیں اپنا طرز زندگی بدلنا ہوگا۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے تمام دس معاملات میں بری ہونے کے بعد مائیکل جیکسن نے خود کوئی بیان نہیں دیا۔ ان کے وکیل تھامس میزرو نے امریکی ٹی وی پر کہا کہ جیکسن اب ایسا کبھی نہیں کریں گے۔اور خود کو ایسے حالات میں کبھی نہیں ڈالیں گے۔ میزرو نے کہا ’مائیکل چار ماہ تک چلنے والے اس مقدمے سے ٹوٹ سے گئے ہیں اور وہ ان کی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں کیونکہ مائیکل جیکسن کا وزن کم ہوگیا وہ سو نہیں پا رہے تھے اور کئی مرتبہ ہم لوگوں میں صبح تین چار بجے بھی بات چیت ہوتی تھی‘۔ عدالت سے بری ہونے کے بعد پیر کی شام مائیکل جیکسن اور ان کے وکیلوں نے شام کیسے گزاری اس بارے میں پوچھے جانے پرمسٹر میزرو نے کہا ہم لوگوں نے بے فکر ہوکر وقت گزارہ ان کے گھر والے جمع ہوئے اور دعائیں کیں اور یہ سب بہت سنجیدہ اور پر سکون ماحول میں ہوا۔ ویسےمائیکل جیکسن کو اپنی آزادی کی بڑی قیمت چکانی پڑ رہی ہے جو کسی بھی عام مدعا علیہ کو دیوالیہ کر سکتی ہے۔ خیال ہے کہ جیکسن کو اپنے وکیلوں کی ٹیم کو پانچ ملین ڈالر اد اکرنے ہوں گے جن میں ان کے مشہور وکیل تھامس میزرو شامل ہیں۔ اس سے جیکسن کی مالی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران استعاثہ نے کہا تھا کہ ان پر 300 ملین ڈالر کا قرضہ ہے اور وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔
حالانکہ اکثر مقدمات میں وکیلوں کی فیس پہلے سے طے ہو جاتی ہے لیکن اس طرح کے کیس میں جس میں اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا کہ کتنا کام کرنا پڑ سکتا ہے وکیل گھنٹوں کے حساب سے فیس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ مسٹر میزرو جیسے وکیل اکثر 500 پاؤنڈ گھنٹے کے حساب سے فیس لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ پرائیوٹ تحقیق کاروں نے بھی اس مقدمے میں اہم رول ادا کیا ہے جس میں استغاثہ کے اہم گواہ اروزو اور ان کے افراد خانہ کے بارے میں اہم معلومات نکالنا ہے۔ اور ان کی خدمات بھی سستی نہیں ملتیں۔ اپنے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے مائیکل جیکسن کو کچھ سخت اقدامات کرنے پڑ سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||