’نہیں: کبھی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپر سٹار مائیکل جیکسن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ اداکار ماکاؤلے کلکن نے عدالت میں اس بات سے انکار کیا ہے کہ مائیکل جیکسن نے ان کے ساتھ کسی قسم کی (جنسی) زیادتی کی ہے۔ کلکن جو بچے کے کردار میں اداکاری کرتے رہے ہیں اور جن کی عمر اب چوبیس برس ہے، کہتے ہیں کہ وہ ماضی میں مائیکل جیکسن کے ساتھ ان کے بستر پر سوئے ہیں لیکن مائیکل پر جنسی زیادتی کے الزامات سراسر بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ نے ان سے کبھی نہیں پوچھا آیا مائیکل پر لگنے والےالزامات درست تھے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان الزامات کے بارے میں پہلی مرتبہ ٹیلی وژن پر سنا تھا۔ مائیکل جیکسن پر آج کل ان الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے کہ انہوں نے ایک تیرہ سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ مائیکل جیکسن تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ ان الزامات میں یہ الزام بھی ہے کہ وہ تیرہ برس کے بچے کو شراب پلاتے رہے ہیں اور یہ کہ انہوں نے یہ سازش بھی کی کہ بچے اور اس کے اہلِ خانہ کو قید میں رکھا۔ اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو چھیالیس سالہ مائیکل جیکسن کو بیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ کلکن نےجو فلم ’ہوم الون‘ میں کام کرنے کے بعد مشہور ہوئے، جرح کے دوران بتایا کہ نوے کی دہائی میں جب وہ مائیکل جیکسن کے ہاں جاتے تو ان کے بستر پر سویا کرتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر چودہ برس تھی۔ جب مائیکل جیکسن کے وکیل تھامس نے ان سے پوچھا کہ کیا کبھی عالمی شہرت یافتہ گلوکار (مائیکل جیکسن) نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تو کلکلن کا جواب تھا ’ کبھی نہیں۔‘ انہوں نے وکیلِ استغاثہ کی اس بات کو بھی مسترد کر دیا کہ ممکن ہے مائیکل جیکسن نے زیادتی اس وقت کی ہو جب کلکن سو رہے تھے۔ استغاثہ کے گواہوں نے کہا ہے کہ مائیکل جیکسن نے کلکن کو نامناسب انداز سے چھوا تھا۔ کلکن کا کہنا تھا کہ انہیں جیکسن کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے کیونکہ دونوں کی شہرت اس وقت ہوئی جب وہ کم سن تھے۔ کلکن تیسرے ایسے گواہ ہیں جن کے حوالے سے جیکسن پر جنسی زیادتی کا الزام لگا ہے۔ تاہم اب تک عدالت میں تینوں گواہوں نے جنسی زیادتی کے ارتکاب سے انکار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||