جیکسن مقدمہ: ماں پر الزام تراشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپر سٹار مائیکل جیکسن کے وکلاء اب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مدعی لڑکے کی والدہ جینٹ ار ویزو دھوکے باز ہیں اور انہوں نے پیسے کے عوض کینسر میں مبتلا اپنے بیٹے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ مائیکل جیکسن کے دفاع میں پیش ہونے والے گواہوں کا کہنا تھا کہ جینٹ ار ویزو ایک طرف تو حکومت سے امدادی رقم وصول کرتی رہیں اور دوسری طرف انہوں نے اپنی آمدن کے ذرائع کو چھپانے کی کوشش کی۔ گواہوں نے عدالت کے سامنے اس بات کے شواہد پیش کیے کہ جب جینٹ ار ویزو نے مائیکل جیکسن پر انہیں حبسِ بےجا میں رکھنے کے الزامات عائد کیے اس دوران انہوں نے خریداری اور طعام و آرام پر سات ہزار ڈالر خرچ کیے۔ تاہم مائیکل جیکسن نے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور اغوا کی سازش کرنے کے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ اس سے پہلے مائیکل جیکسن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ اداکار ماکاؤلے کلکن نے عدالت میں اس بات سے انکار کیا تھا کہ مائیکل جیکسن نے ان کے ساتھ کسی قسم کی (جنسی) زیادتی کی ہے۔
کلکن جو بچے کے کردار میں اداکاری کرتے رہے ہیں اور جن کی عمر اب چوبیس برس ہے، کہتے ہیں کہ وہ ماضی میں مائیکل جیکسن کے ساتھ ان کے بستر پر سوئے ہیں لیکن مائیکل پر جنسی زیادتی کے الزامات سراسر بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ نے ان سے کبھی نہیں پوچھا آیا مائیکل پر لگنے والےالزامات درست تھے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان الزامات کے بارے میں پہلی مرتبہ ٹیلی وژن پر سنا تھا۔ مائیکل جیکسن پر آج کل ان الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے کہ انہوں نے ایک تیرہ سالہ بچے کا جنسی استحصال کیا۔ مائیکل جیکسن تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ ان الزامات میں یہ الزام بھی ہے کہ وہ تیرہ برس کے بچے کو شراب پلاتے رہے ہیں اور یہ کہ انہوں نے یہ سازش بھی کی کہ بچے اور اس کے اہلِ خانہ کو قید میں رکھا۔ اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو چھیالیس سالہ مائیکل جیکسن کو بیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ کلکن تیسرے ایسے گواہ ہیں جن کے حوالے سے جیکسن پر جنسی زیادتی کا الزام لگا ہے۔ تاہم اب تک عدالت میں تینوں گواہوں نے جنسی زیادتی کے ارتکاب سے انکار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||