فلم سنز کیخلاف عیسائی مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں فلم سنز کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ بعض عیسائی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ اس فلم سے عیسائی راہب کے کچھ متنازعہ مناظر نکال دیے جائیں۔ لیکن فلم کے پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ فلم کسی خاص طبقے کو نشا نہ بنانے کے لیے نہیں ہے اس لیے اس پر اعتراض درست نہیں ہیں۔ پرڈیوسر ونود پانڈے کی فلم ’سنز‘ کے خلاف کیتھولک سیکولر فورم نے ممبئی میں ایک احتجاجی مارچ کیا۔ بعد میں فورم کے سیکریٹری جوزف ڈائس نے ایک وفد کے ساتھ ریاست کے وزیراعلی ولاس راؤ دیس مکھ اور فلم سینسر بورڈ کو ایک عرضداشت پیش کیا۔ فورم کا کہنا ہے کہ فلم سے ان مناظر کو نکال دینا چاہیں جس میں راہب اپنے مذہبی لبادے اور اور ہاتھ میں روزری لیے ہوئے اپنی ہیروئین کے ساتھ بستر میں ہے۔ فورم کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ کسی فرقے کے متعلق بنائی گئی فلم کو سنسر بورڈ سے منظور کرنے سے پہلے اسکرینگ کے وقت اس فرقے کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے۔ فلم پر پابندی لگانے کے لیےاسی فورم نے عدالت کا سہارا لیا تھا۔ لیکن عدالت نے اس فلم کو ریلیز کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ فلم کے پرڈیوسر ونود پانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فلم انہوں نےاخبار میں شائع ایک مضمون سے متاثر کو کر بنائی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فلم حقیقی واقعات پر مبنی ہے اور اس کے مناظر کہانی کے مطابق فلمائے گئے ہیں لیکن فلم کسی فرقے یا شخص کے خلاف نہیں ہے۔ فلم کی نمائش کے خلاف ایک سیاسی جماعت نے بھی مظاہرہ کیا تھا۔ پارٹی کارکنان نے شہر کے ایک تھیٹر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور اب وہاں پولیس کا پہرہ ہے۔ کیتھولک فورم کے سیکریٹری جوزف ڈائس کا کہنا ہے کہ اگر انکے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا تو وہ احتجاج میں شدت پیدا کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||