چار نئی فلمیں ملتی جلتی اور مختلف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلمی شائقین کے لیےبڑی خوشخبری یہ ہے کہ جمعہ کو بالی ووڈ کی چار فلمیں ایک ساتھ ریلیز ہوئی ہیں۔ ہر فلم اپنے آپ میں ایک ہے۔ سب میں مشترک بات پیار و محبت کے جذبات ہیں لیکن ہر فلم کی کہانی اس کی پیسکش کاانداز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مدہوشی، رائٹر سے ڈائریکٹر بننے والے تنویر خان کی بطور ہدایت کار پہلی پیشکش ہے۔ مدہوشی میں کہانی کا تانہ بانہ ہالی ووڈ کی مشہور فلم''بیوٹی فل مائنڈ'' سے ماخوذ ہے۔ تنویر خان نے اسے اپنے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلم میں جان ابراہم اور بیپاشا باسو نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔
پرانی ہندی فلموں کی طرح [انوپما] بپاشا کے والدین اپنی بیٹی کی شادی اپنے قریبی دوست کے بیٹے سے طے کرتے ہیں لیکن لڑکی باپ سے کہتی ہے کہ وہ کسی اور سے محبّت کرتی ہے۔ والدین کے اس اصرار پر کہ اس نے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی تھی۔ پتہ چلتا ہے کہ اس کا عاشق ایک خفیہ تنظیم میں کام کرتا ہے لیکن بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ حقیقیت میں اس تیسرے شخص کا وجود ہی نہں ہے۔ ششی رنجن کی فلم ’دوبارہ‘ کی کہانی بھی کچھ نئی نہیں ہے۔ ایک آدمی (جیکی شراف) دو خواتین کے عشق میں گرفتار ہے۔ ایک طرف بیوی (مہما چودھری) اور دوسری طرف اس کی سابقہ گرل فرینڈ ( روینہ ٹنڈن) ہے۔ ذہنی طور پر مریض گرل فرینڈ (روینہ) صحت یاب ہونے پر بتاتی ہے کہ اس کی ایک تیرہ سالہ اولاد اسکے بوائے فرینڈ سے ہی ہے ۔ میاں بیوی کے درمیاں اختلاف کی بنیاد یہیں سے پڑتی ہے اور کہانی میں ایک نیا موڑ آتا ہے۔ تم سا نہیں دیکھا، مہیش بھٹّ پروڈکشن کی نئی فلم ہے۔ ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو ایک امیر باپ کی بگڑی اولاد ہے۔ اسے نہ تو اپنی ذمّہ داریوں کا احساس ہے اور نہ ہی عشق یا محبّت سے کوئی لگاؤ صرف عیش کرنا اسکی عادت ہے۔
ایک روز اس کی ملاقات شہر میں بار کی ایک لڑکی (دیا مرزا) سے ہوتی ہے۔ اس لڑکی سے ملنے کے بعد ہی اسے محبت کا احساس ہوتا ہے لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی لڑکے کے گھر والوں کو یہ رشتہ قطی پسند نہیں ہے۔ اداکار اوم پوری کی نئی فلم ’کنگ آف بالیووڈ‘ میں ایک جذباتی کہانی کومزاحیہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم میں کرن کمار (اوم پوری) اپنے زمانے کے مشہور اداکار ہیں اور اپنی اداکاری کے سبب ’ کنگ آف بالیووڈ‘ کے خطاب جانے جاتے ہیں۔ بڑھا پے میں بالی ووڈ کا یہ سپر اسٹار چاہتا ہے کہ اسکا بیٹا بھی وہی کارنامہ انجام دے لیکن بیٹے کو فلموں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بیٹے کے انکار کے بعدوہ خود قسمت آزمائی کرتے ہیں اور انہیں کامیابی بھی ملتی ہے۔
فلم میں بالیووڈ کے ان اداکاروں پر مزاحیہ انداز میں طنز کیا گیا ہے جو طویل عمری کے باوجود بھی ہر طرح کے رول کے لیےتیار ہوجاتے ہیں جس کے سبب نئے اداکاروں کو موقع نہیں ملتا۔ چاروں فلمیں مختلف انداز کی ہیں لیکن باکس آفس پر ان میں سے جو سب سے زیادہ ناظرین کو اپنی طرف کھینچ سکے گی وہی کامیاب کہی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||