’شیکسپیئر کو بالی وڈ بہت راس آتا‘

- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
دنیا کے عظیم ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کی موت کے 400 سال بعد بھی ان کی تخلیقات کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
انڈیا کے معروف ڈرامہ نگار حبیب تنویر سے ایک بار بڑے ادیب اور تھيئٹر یا سینیما میں ان کی کامیابی پر بات ہو رہی تھی تو انھوں نے پریم چند کے ہندوستانی سینیما میں ناکام ہونے کے اعتراف کے ساتھ کہا تھا کہ شیکسپیئر کو بالی وڈ بہت راس آتا۔
اس وقت بالی وڈ میں شیکسپیئر کے ڈرامے ’اوتھیلو‘ پر مبنی فلم ’اومکارا‘ ریلیز ہوئی تھی جس میں سیف علی خان، کرینہ کپور، اجے دیوگن وغیرہ نے اداکاری کی تھی اور اسے ناظرین نے بہت پسند کیا تھا اور یہ ہدایتکار وشال بھاردواج کی فلم ’مقبول‘ کے بعد شیکسپیئر کے ڈراموں پر مبنی دوسری پیشکش تھی۔
ایسا نہیں کہ شیکسپیئر کو اس سے قبل ہندی سینیما میں پیش نہیں کیا گيا تھا لیکن حال میں شیکسپیئر ایک ’کریز‘ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
سنہ 2014 میں آنے والی فلم ’حیدر‘ میں بشارت پیر نے تو ناموں تک خیال رکھا ہے جیسے پرنس ہیملٹ کی جگہ حیدر، اوفیلیا کی جگہ ارشیہ، گرٹریوڈ کی جگہ غزالہ، کنگ ہیملٹ کی جگہ ہلال، کلاڈیئس کی جگہ خرم، پولونیئس کی جگہ پرویز، لائرٹس کی جگہ لیاقت وغیرہ۔

،تصویر کا ذریعہvishal bhadhwaj
وشال بھاردواج کو شیکسپیئر سے خاص لگاؤ نظر آتا ہے اور اس کا اندازہ ان کی سنہ 2003 میں آنے والی فلم ’مقبول‘ سے ہوتا ہے جو کہ ’میکبتھ‘ پر مبنی ہے۔ اس کے پلاٹ، کردار اور واقعات بہت حد تک میکبتھ سے مماثل ہیں۔
وشال بھاردواج نے کہا تھا: ’شیکسپیئر آج تک کے عظیم قصہ گو ہیں۔ ان کی کہانیوں میں انسانی ڈرامے کی پرتیں ہیں۔ میرے خیال سے انھیں کہیں بھی اور کسی بھی زبان میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ میں شیکسپیئر کی تخلیق پر اپنی ساری زندگی گزار سکتا ہوں۔‘
حبیب تنویر نے بھی شیکسپیئر کی انسانی فطرت سے ہم آہنگی کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ ’وہ انسانی فطرت کی روح سے واقف تھے اور اس کو پیش کرنے پر قدرت رکھتے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہر حال بالی وڈ میں شیکسپیئر کے ڈرامے کے متعلق پہلی کامیاب کوشش گلزار نے کی تھی جب انھوں نے ’کامیڈی آف ایررز‘ پر مبنی فلم ’انگور‘ بنائی تھی اور اس میں شیکسپیئر کی تخلیقی صلاحیت کا اعتراف بھی کیا گیا تھا۔ معروف اداکار سنجیو کمار اور دیون ورما کی اداکاری نے لوگوں کو متاثر کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGulzar
ہندوستان میں جب پارسی تھيئٹر اپنی بلندیوں پر تھا تب بھی شیکسپیئر کے ڈرامے براہ راست پیش کیے جا رہے تھے جن میں ’رومیو اور جولیٹ‘، ’مرچینٹ آف وینس‘، ’کنگ لیئر‘ وغیرہ خاصے مقبول تھے۔
ہندی سینیما میں گلزار سے قبل بھی ’کامیڈی آف ایررز‘ پر مبنی فلم ’دو دونی چار‘ (1968) آ چکی تھی جس میں کشور کمار اور تنوجا کی اداکاری تھی۔
سنہ 2010 میں آنے والی فلم ’10ایم ایل لو‘ شیکسپیئر کے ڈرامے ’اے مڈ سمر نائٹس ڈریم‘ پر مبنی تھی جس میں نیل بھوپلم، تارا شرما، کوئل پوری اور پورب کوہلی وغیرہ نے اداکاری کی تھی۔
شیکسپیئر کے ڈرامے ’رومیو اینڈ جولیٹ پر سب سے زیادہ کوشش ہوئی ہے اور محبت کی اس لازوال داستان کے اثرات بالی وڈ میں بہت نمایاں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUTV
سنجے لیلا بھنسالی کی سنہ 2014 میں آنے والی فلم ’رام لیلا گولیوں کی راس لیلا‘ ہو یا حبیب فیصل کی ’عشق زادے‘ یا پھر منیش تیواری کی سنہ 2013 میں ریلیز ہونے والی فلم ’عشق‘ سبھی ’رومیو اینڈ جولیئٹ‘ پر مبنی ہیں۔
حیدر سے قبل ہیملٹ پر منبی فلم ’کرم یوگی‘ (2011) بھی آ چکی تھی۔ ویسے انڈیا کی مختلف زبانوں، بطور خاص بنگالی اور ملیالم، میں بننے والی فلموں میں بھی شیکسپیئر کے اثرات نظر آتے ہیں۔







