’شیکسپیئر معاشرے میں اعلیٰ مالی حیثیت کے حامل تھے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
انگلینڈ میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ برطانوی شاعر اور ناول نگار ولیم شیکسپیئر کے تباہ شدہ مکان کے مقام کی کھدائی سے ملنے والے آثار ان کی زندگی کے بارے میں ہماری معلومات کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔
ان آثار سے پتا چلتا ہے کہ سٹریٹ فورڈ اپون ایون میں ان کےمکان نیو پیلس میں 20 کمرے تھے، جن میں ایک بڑا باورچی خانہ اور شراب خانہ بھی شامل تھا۔
<link type="page"><caption> لندن میں شیکسپیئر فیسٹیول کا آغاز</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2012/04/120424_shakespeare_festival_zs" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> لندن اولمپکس کے موقع پر اردو میں شیکسپیئر </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2012/06/120608_shakespeare_drama_updated" platform="highweb"/></link>
ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں ایک اعلیٰ مالی حیثیت رکھتے تھے۔
اس مکان کو 1759 میں اس کو خریدنے والے شخص ریویرینڈ فرانسس گیسٹرل نے مسمار کروا دیا تھا جو آئے دن اپنے گھر پر شیکسپیئر کے مداحوں کی آمد سے ناراض رہتا تھا۔
شیکسپیئر کو آج بھی انگریزی زبان کا سب سے بڑا شاعر اور ادیب مانا جاتاہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیکسپیر کی جائے پیدائش کی ٹرسٹ کے ایک ترجمان ڈاکٹر پال ایڈمنسن نے بتایا کہ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیکسپیئر بہت سفر کیا کرتے تھے اور اپنا وقت سٹریٹ فورڈ میں اپنے آبائی گھر اور لندن میں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے درمیان صرف کرتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں نیو پیلس سے ملنے والی معلومات کے بعد شیکسپیئر کی سوانح عمری کی جو تصویر سامنے آرہی ہے اس سے لگتاہے کہ شیکسپیئر اپنے کام کے لیے بہت سفر کیا کرتے تھے۔ ان کا خاندانی گھر سٹریٹ فورڈ میں تھا جبکہ ان کی پیشہ ورانہ زندگی لندن میں گزرتی تھی۔'
پال نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ شیکسپیئر کے آخری 26 ڈرامے نیو پیلس میں ہی لکھے گئے ہوں جہاں وہ 1597 سے 1616 میں اپنی وفات تک رہے۔







