نباتیات کی کتاب میں شیکسپیر کی ’اصل تصویر‘

1484 صفحوں پر محیط یہ کتاب سنہ 1598 میں شائع ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن1484 صفحوں پر محیط یہ کتاب سنہ 1598 میں شائع ہوئی تھی

ایک ماہرِ تعلیم کے مطابق نباتیات کی چار سو سال پرانی ایک کتاب میں ولیم شیکسپیر کی تصویر ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ تصویر ان کی زندگی میں بنائی گئی تھی۔

ماہرنباتیات اور مؤرخ مارک گرفتھس نے 16 ویں صدی کی اس تصویر کی شناخت کے لیے ’ذہین صفر‘ کلیے کا سہارا لیا۔

ان کا کہنا ہے: ’شیکسپیر ایسا ہی دکھائی دیتا تھا، اپنی اصل زندگی میں۔‘

اس دریافت کے بارے میں تفصیلات جریدے ’کنٹری لائف‘ کے اس ہفتے کے شمارے میں سامنے آئی ہے۔

میگزین ایڈیٹر مارک ہیجز اسے ’اس صدی کی ادبی دریافت‘ قرار دیتے ہیں۔

لندن میں روز پلے ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شیکسپیر کی تصویر ’دنیا کے اس عظیم ترین ادیب کی زندگی کی واحد تصویر تھی۔‘

انھوں نے کہا ’انھوں نے مڈسمر نایٹس ڈریم لکھا اوروہ کچھ ہی عرصہ میں ہیملٹ لکھنے والے تھے۔ وہ فلمی ستاروں کی طرح خوش شکل تھے۔‘

تصویر کے بارے میں گرفتھس کا دعویٰ ہے کہ یہ شیکسپیر کی ہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنتصویر کے بارے میں گرفتھس کا دعویٰ ہے کہ یہ شیکسپیر کی ہی ہے

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ شیکسپیر کی تصویر کے بارے میں اس طرح کے دعوے کیے گئے ہیں۔

سنہ 2009 میں کوبے نامی ایک پینٹنگ کو شیکسپیر برتھ پلیس ٹرسٹ میں نمائش کے لیے پیش کی گیا تھا۔

ٹرسٹ کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ فن کا یہ نمونہ اصل پورٹریٹ ہے تاہم کچھ ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ تصویر شیکسپیر کی نہیں ہے۔

گرفتھس نے یہ دریافت عظیم ماہر نباتیات اور ’دی ہربل‘ یا ’جنرل ہسٹری آف پلانٹس‘ کے مصنف جان گیرارڈ کی سوانح حیات پر تحقیق کرتے ہوئے کی۔

1484 صفحوں پر محیط یہ کتاب سنہ 1598 میں شائع ہوئی تھی اور اسے انگریزی زبان میں پودوں کے موضوع پر سب سے ضخیم کتاب سمجھا جاتا ہے۔

مارک گرفتھس نے منگل کو کہا کہ وہ جانتے تھے کہ اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کی صرف دس کاپیاں بچی ہیں جس کے سرورق پر ولیم روجرز کی کندہ کاری کی ہوئی تصویر ہے۔

کندہ کاری کی ہوئی چار تصاویر کے بارے میں خیال ہے کہ یہ خیالی تصاویر ہیں۔

تاہم گرفتھس نے ان شکلوں کی ’اصل شناخت‘ جاننے کے لیے ان کے گرد سجاولٹی بیل بوٹوں اور دیگر شکلوں کو ڈی کوڈ کیا۔

ان میں مصنف گیرارڈ، معروف ماہر نباتیات ریمبرٹ ڈوڈیونز اور ملکہ ایلزبیتھ کے خزانچی لارڈ برگھلے کی تصاویر شامل تھیں۔

جبکہ چوتھی تصویر کے بارے میں گرفتھس کا دعویٰ ہے کہ یہ شیکسپیر کی ہے۔

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ شیکسپیر کی تصویر کے بارے میں اس طرح کے دعوے کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ شیکسپیر کی تصویر کے بارے میں اس طرح کے دعوے کیے گئے ہیں

گرفتھیس کنٹری لائف میگزین میں لکھتے ہیں: ’یہ چوتھا آدمی کارٹونش یا سٹائل یافتہ نہیں ہے۔ یہ مونوکروم ہوسکتا ہے، اپنی دلکش لباس میں، اور صرف تین اشارعہ پانچ انچ لمبا ہے، لیکن ایسا ہی صدیوں سے سمجھاجارہا تھا۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں: ’وقت کے ساتھ ساتھ جب شیکسپیر کی تصاویر ایک منافع بخش سودا تھا، روجرز کی کندہ کی ہوئی تصویر یاد سے مٹ گئی۔ یہ کیموفلاج شکلیں ہیں۔‘

یونیورسٹی آف برمنگھم کے شیکسپیر انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر مائیکل ڈوبسن کہتے ہیں وہ اس نظریے سے ‘بالکل متاثر‘ نہیں ہوئے ہیں۔

‘میں نے تصفیلی دلائل نہیں دیکھے لیکن کنٹری لائف بلاشبہ پہلا اشاعتی ادارہ نہیں جس نے اس قسم کا دعویٰ کیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’اور اس بارے میں کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کسی نے سوچا ہو کہ شیکسپیر اس وقت ایسا دکھائی دیتا تھا۔‘