عقاب پر مبنی کتاب کو سیموئل جانسن انعام

،تصویر کا ذریعہ
شاعرہ، تاریخ داں اور فطرت میں دلچسپی رکھنے والی مصنفہ ہیلن میکڈونلڈ کو سنہ 2015 کے غیر فکشن ادب کے سیموئل جانسن انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
انھیں یہ انعام ان کی کتاب ’ایچ فار ہاک‘ کے لیے دیا گیا ہے اور اس کی انعامی رقم 20 ہزار برطانوی پاؤنڈ ہے جو تقریباً 32 لاکھ پاکستانی روپے کے برابر ہے۔
ججوں نے ان کی کتاب کو ’دوسروں سے مختلف‘ قرار دیتے ہوئے انعام کا مستحق قرار دیا۔
واضح رہے کہ یہ انعام گذشتہ 16 برسوں سے دیا جا رہا ہے اور پہلی بار کسی ذاتی یادداشت کو یہ انعام ملا ہے۔
اس کتاب میں میکڈونلڈ نے اپنے عقاب کو تربیت دینے کے بارے میں بتایا ہے کہ کس طرح اس نے انھیں اپنے والد کی موت کے غم کو غلط کرنے میں مدد کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار کی شارٹ لسٹ میں خواتین لکھنے والوں کی تعداد مردوں سے زیادہ تھی۔

،تصویر کا ذریعہ
منگل کو اس انعام کے اعلان سے قبل میکڈونلڈ نے کہا کہ بچپن سے ہی ان کو شکاری پرندوں میں زبردست دلچسپی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ والد کی اچانک موت کے بعد ان کے دل میں ایک قوش قزل یا چرخ (ایک قسم کا بڑا باز جس کے پر چھوٹے ہوتے ہیں) کو پالنے اور اسے تربیت دینے کا ’جنون‘ سوار ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ ’اس قسم کے باز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت ظالم، جنونی اور خونی قاتل ہوتا ہے۔‘
ایچ فار ہاک میں انھوں نے میبل نام کی ایک مادہ باز کے بارے میں لکھا ہے کہ انھوں نے اسے کس طرح تربیت دی اور اسے کیسے سدھایا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس غم و اندوہ کے عالم میں میرے دل میں جو طوفان اٹھ رہے تھے وہ اس کا عکاس تھی۔
’اس کا کوئی ماضی یا مستقبل نہیں تھا، وہ بس حال میں جی رہی تھی، وہ انتہائی غضب ناک اور زندگی سے بھرپور تھی۔

،تصویر کا ذریعہThinkstock
’میں نے اس کے ساتھ اتنا وقت گزارا کہ میں یہ بھول گئی کہ انسان ہونا کیا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ میں انسان سے زیادہ خود کو باز سمجھنے لگی۔ اس نے مجھے موت اور زندگی کے بارے میں گہرائی سے سوچنے پر مجبور کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ کتاب فطرت اور ہمارے گرد کی دنیا کے نام ایک محبت نامہ بھی ہے۔‘
جیوری کی سربراہ کلیئر ٹوم لین نے کہا: ’وائلڈ لائف اور ماحولیات کے بارے میں اس قدر معلومات سے پر تصنیف میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘







