کیا پرینک ویڈیوز واقعی مزاحیہ ہوتی ہیں؟

ڈوم جولی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے شرارت جوش و جنون ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنڈوم جولی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے شرارت جوش و جنون ہے

گذشتہ ایک سال کے دوران یو ٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیوز میں بہت سی شرارت پر مبنی ویڈیوز شامل بھی ہیں۔ یہ شرارت یا مذاق اکثر و بیشتر حیران کن ہوتے ہیں اور کبھی کبھی بے رحمانہ بھی، لیکن کیا یہ مذاق واقعی پر مزاح ہیں؟

آن لائن ویڈیو کے چند بڑے سٹارز اپنی ویڈیوز کو مقبول بنانے کے لیے اجنبی لوگوں کو بے وقوف بناتے یا ان کے ساتھ شرارت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

بی بی سی ٹرینڈنگ نے ان میں سے چند لوگوں سے بات کی، جن میں وہ کامیڈین بھی شامل ہیں جو بے جا آپ کی نجی زندگی میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ فوسی ٹیوب کے نام سے شہرت حاصل کرنے والے صالح اراکات سے بھی بات کی گئی جن کے مذاق اکثر سنجیدہ نکات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس کی وجہ سے انھیں اجنبیوں سے تصادم کا سامنا رہتا ہے۔

وٹالی جن کا اصلی نام وٹالی ڈوروویتسکیی ہے، یوٹیوب کے ایک مشہور سٹار ہیں۔ وہ لاکھوں ناظرین کے لیے نقلی پرتشدد اور جرائم پر مبنی مناظر پیش کر کے لوگوں کا ردعمل دکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں ان کی وہ متنازع ویڈیو بھی شامل ہے جس میں مردوں کو خواتین سے بات کرنے کے طریقے بتائے گئے ہیں۔

ایسی ہی ایک شرارتی ویڈیو میں وہ ایک بس سٹاپ پر لوگوں کے درمیان جاکر ایک سوٹ کیس رکھ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے بھاگ جاتے ہیں ’آپ کی زندگی، آپ کا انتخاب، آپ کے پاس صرف 60 سیکنڈ ہیں۔‘

گذشتہ ایک سال کے دوران یو ٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیوز میں متنازعہ دل لگی والی ویڈیوز شامل ہیں

،تصویر کا ذریعہYouTube

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ایک سال کے دوران یو ٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویڈیوز میں متنازعہ دل لگی والی ویڈیوز شامل ہیں

وٹالی نے بی بی سے کو بتایا کہ ان کا ’چینل اپنے چبھتے ہوئے مذاق کی وجہ سے نمایاں ہے۔ میں ان لوگوں کو جو اسے حد سے تجاوز کرنا کہتے ہیں، جواب دیتا ہوں کہ یہ سنہ 2015 ہے۔ لوگ جوش و جنون سے پُر اور سنسنی خیز چیزیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔‘

دل لگی پسند کرنے والے کامیڈین کائی ہمفریز وٹالی کے مداح ہیں۔ انھوں نے کہا: ’میرا خیال ہے وٹالی جو بھی کرتے ہیں وہ اپنی تخلیقی قدروں اور پیغام کی وجہ سے وہ فن کا درجہ رکھتا ہے۔‘

لیکن ہر کوئی اس بات سے متفق نہیں ہے۔ کامیڈین نیش کمار کہتے ہیں کہ ’پرینک (شرارتی) ویڈیوز مجھے پریشان کر دیتی ہیں، کیونکہ جب بھی میں انھیں دیکھتا ہوں، مجھے مذاق کا شکار ہونے والے سے ہمدردی ہوتی ہے، اور میں ہمیشہ سوچتا ہوں کہ اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو مجھے ضرور غصہ آتا۔

’کبھی کبھی میں یہ اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ آخر اس میں مزاح کہاں تھا۔ یہ دل لگی باز کیا واقعی اتنے چالاک ہیں کہ وہ جان بوجھ کر ایسا مذاق کر رہے ہیں جن کا مثبت یا منفی ردعمل آ سکتا ہے؟‘

موجودہ دور میں شرارتی ویڈیوز کے بانی شاید ڈوم جولی ہیں جن کی چینل فور پر چلنے والی سیریز ’ٹرگر ہیپی ٹی وی‘ 15 سال قبل پہلی بار نشر ہوئی تھی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ وہ اس مزاح کی صنف میں آنے والے نئے مواد سے حیران ہیں۔

شرارتیں بعض اوقات خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں
،تصویر کا کیپشنشرارتیں بعض اوقات خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں

جولی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر روز آپ کے پاس ہر جگہ سے اتنا مواد آتا ہے جن میں مختلف محرکات سے کام لیا جاتا ہے۔

’ان میں سے بعض واقعی ظالمانہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں مصر میں ایک دل لگی باز پیرس ہلٹن کو ایک ہوائی جہاز پر لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ مرنے والی ہیں کیونکہ یہ جہاز تباہ ہونے والا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی میں ایک شخص ہے جو اپنی رفتار کے اعتبار سے چارلی چپلن سے مطابقت رکھتا ہے اور وہ لوگوں درمیان تیزی سے بھاگتے ہوئے ان کو تھپڑ رسید کرتا چلتا ہے اور آتی جاتی ٹیکسیوں میں چوزے پھینکتا ہے۔‘

جولی کہتے ہیں: ’میرے لیے مذاق کا مطلب مکمل طور پر جوش و جنون ہے، اور اسے کرنے میں واقعی جوش و جنون کے عروج پر پہنچنا ہوتا ہے اور اپنے پروگرام کو بند کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ میں تھک چکا تھا۔‘

ان دل لگی بازوں تو خطرہ رہتا ہے لیکن اگر غلطی سے آپ کسی ایسی ویڈیو خود کو دیکھیں تو کیا ہو؟ یو ٹیوب نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ان کے لیے لوگوں کی نجی زندگی بہت اہم ہے۔ اگر وہ بلااجازت کسی ویڈیو میں آنے کی وجہ سے پریشان ہیں تو وہ ہمیں رپورٹ کر سکتے ہیں اور وہ ویڈیو وہاں سے ہٹا دی جائے گی۔‘