بالی وڈ میں سپر ہٹ والدین کی فلاپ اولادیں

،تصویر کا ذریعہUniversal PR
بالی وڈ میں پاؤں جمانے کے لیے کسی ’گاڈ فادر‘ ہونا ضروری ہے اور جن کے والدین فلم انڈسٹری سے ہوں تو ان کے کریئر کی راہ قدرے آسان ہو جاتی ہے۔
اس طرح کے خیالات کا عموماً اظہار کیا جاتا ہے لیکن بالی وڈ میں کئی ایسے والدین بھی ہیں جو فلم انڈسٹری کی معروف شخصیات میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان کے بچوں کو وہ کامیابی نصیب نہ ہو سکی جو انھوں نے حاصل کی تھی۔
پیش ہیں ایسے چند بچے۔
1۔ ابھیشیک بچن

،تصویر کا ذریعہAP
اداکار امیتابھ بچن کے بیٹے ابھیشیک بچن نے سنہ 2000 میں جے پی دتہ کی فلم ’رفيوجي‘ سے کریئر کا آغاز کیا۔
فلم کا باکس آفس پر برا حال رہا۔ ایک ہٹ فلم کے لیے ابھیشیک بچن کو تقریبا چار سال انتظار کرنا پڑا۔
اس دوران ان کی 14 فلمیں فلاپ رہیں۔ سنہ 2004 میں آنے والی منی رتنم کی فلم ’یوا‘ ابھیشیک بچن کی پہلی ہٹ فلم تھی۔
اس کے بعد ان کی ’بنٹی اور ببلی،‘ ’گرو،‘ ’دھوم‘ اور ’سرکار‘ جیسی چند فلموں کو ہی کامیابی ملی لیکن ابھیشیک اپنے والد جیسی شہرت کے آس پاس بھی نہ پہنچ سکے۔
2۔ بوبی دیول

،تصویر کا ذریعہBeena Ahuja
اپنے زمانے کے ایکشن سٹار دھرمیندر کے بڑے بیٹے سنی دیول نے فلم انڈسٹری میں اپنی جگہ بنائی لیکن چھوٹے بیٹے بابی دیول امید کے مطابق نہ چل سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 1995 میں کریئر کا آغاز کرنے والے بابی دیول نے تقریبا41 فلموں میں کام کیا ہے۔
ان میں سے ’گپت،‘ ’سولجر،‘ ’بادل،‘ ’ہمراز‘ اور ’دوستانہ‘ جیسی فلموں کو ہی کامیابی مل سکی باقی تمام ناکام رہیں۔
3۔ تشار کپور

،تصویر کا ذریعہColors
مشہور اداکار جيتیندر کی بیٹی ایکتا کپور نے بطور پروڈیوسر ٹی وی اور فلموں میں اپنا سکہ جمایا لیکن ان کے بیٹے تشار کو اداکار کے طور پر زیادہ مقام حاصل نہیں ہو سکا۔
تشار نے فلم ’مجھے کچھ کہنا ہے‘ سے سنہ 2001 میں اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ ان کی فلم ’غائب،‘ ’خاکی،‘ ’گول مال‘ سیریز، ’دا ڈرٹی پکچر‘ اور ’کیا سوپر کول ہیں ہم‘ کامیاب رہیں۔
4۔ لو سنہا

،تصویر کا ذریعہ
اپنی بھاری بھرکم آواز سے لوگوں کو ’خاموش‘ کرنے والے اداکار شتروگھن سنہا کے بیٹے لو سنہا نے سنہ 2010 میں فلم ’صدیاں‘ میں کام کیا لیکن ان کو کوئی توجہ نہیں مل پائی البتہ ان کی بیٹی سوناکشی سنہا نے فلم ’دبنگ‘ کے بعد پیچھے مڑ کرنہیں دیکھا۔
لو سنہا کی فلم نہ مبصرین کو پسند آئی اور نہ ہی ناظرین کو۔
5۔ سنیل آنند

بالی وڈ کے سدا بہار اداکار دیو آنند کے بیٹے سنیل آنند نے 80 کی دہائی میں ’آنند ہی آنند،‘ ’کار تھيف‘ اور ’میں تیرے لیے‘ جیسی فلموں کے ذریعہ بالی ووڈ میں اپنا پاؤں جمانے کی کوشش کی لیکن ہر بار منہ کے بل گرے۔
انھوں نے سنہ 2001 میں فلم ’ماسٹر‘ سے بالی وڈ میں ڈائریکٹر کے طور پر دوسری اننگز کی ابتدا کرنی چاہی لیکن اس میں بھی ناکامی ہاتھ لگی۔
6۔ مہاکشيہ چکرورتی

،تصویر کا ذریعہSoap Box PR
’ڈسکو ڈانسر‘ متھن چکرورتی کے بیٹے مہاکشيہ چکرورتی نے سنہ 2008 کی فلم ’جمّي‘ سے بالی وڈ میں قدم رکھا۔
فلم نہ تو تجزیہ نگاروں کو جچی اور نہ ہی ناظرین کو بھائی۔ مہاكشيہ آج بھی اپنے والد سے الگ پہچان بنانے کی کوشش میں لگے ہیں۔
7۔ فردين خان

’قربانی،‘ ’دھرماتما،‘ ’جانباز‘ جیسی زبردست فلمیں بنانے والے اداکار اور پروڈیوسر ڈائریکٹر فیروز خان نے اکلوتے بیٹے فردين خان کو ’پریم اگن‘ فلم سے لانچ کیا گیا تھا۔
فردين نے رام گوپال ورما کی کچھ فلموں میں کام کیا جن میں انھیں کامیابی بھی ملی لیکن والد کی موت کے بعد ان کے فلمی سفر پر ایک قسم کا بریک سا لگ گیا۔
8۔ ایشا دیول

،تصویر کا ذریعہHouture Images
’ڈريم گرل‘ ہیما مالنی اور دھرمیندر کی بیٹی ایشا دیول نے ماں کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے فلموں میں اداکاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایشا فلم انڈسٹری میں اپنی ماں کی طرح ’ڈريم گرل‘ نہیں بن سکیں۔
ان کا کریئر سنوارنے کے لیے ہیما مالنی نے ’ٹیل می او گاڈ‘ فلم کی ہدایت بھی کی لیکن اس کوشش سے بھی ایشا دیول کا کریئر نہیں سنبھلا۔
9۔ کمار گورو

،تصویر کا ذریعہMohanlal churiwala
اپنے زمانے کے ’جبلی کمار‘ کہے جانے والے اداکار راجندر کمار کے بیٹے کمار گورو اپنی پہلی فلم ’لو سٹوری‘ سے راتوں رات سپر سٹار بن گئے تھے۔
تاہم اس کے بعد ان کی کوئی بھی فلم باکس آفس پر نہ چل سکی۔ فلم ’نام‘ چلی بھی تو سنیل دت کے بیٹے سنجے دت بازی لے گئے۔







