’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ کی نمائش جاری رہے گی

فلم کی ریلیز کے تقریباً 20 سال بعد یش راج فلمز اور ’مراٹھا مندر‘ دونوں نے باہمی رضامندی سے فلم ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنفلم کی ریلیز کے تقریباً 20 سال بعد یش راج فلمز اور ’مراٹھا مندر‘ دونوں نے باہمی رضامندی سے فلم ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا

ممبئی کے ایک سینما گھر نے فلم بینوں کے دباؤ کے بعد مشہور بالی وڈ فلم ’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ کی 20 سال سے جاری نمائش کو روکنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔

مراٹھا مندر نامی سینما نے کچھ دن قبل یہ کہہ کر فلم کی نمائش روک دی تھی کہ فلم سے آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے۔

’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ کی نمائش سنہ 1995 سے جاری تھی۔

سینما گھر کے مطابق فلم کی نمائش روکنے کے چند گھنٹوں کے بعد ہی انھیں مداحوں کے فون آنا شروع ہوگئے جو فلم کی دوبارہ نمائش شروع کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

مراٹھا مندر کے مالک منوج دیسائی نے بی بی سی کو بتایا ’نمائش روکنے کے دو گھنٹے کے اند ہی ہمیں 230 فون کالیں موصول ہوئیں، ممبئی کے علاوہ نئی دہلی اور احمد آباد سے بھی فون آئے۔ اس کے علاوہ دبئی کے ایک ریڈیو سٹیشن سے بھی فون آیا جس میں ہمیں بتایا گیا کہ وہاں سے لوگ جب بھی ممبئی آتے ہیں وہ یہ فلم دیکھنے آتے ہیں، ہمیں اس طرح کے ردِعمل کی امید نہیں تھی۔‘

فلم کی دوبارہ نمائش کا فیصلہ سینما گھر اور اس فلم کو بنانے والی کمپنی ’یش راج فلمز‘ نے مل کر کیا ہے۔

یہ فلم بھارتی تاریخ میں کسی بھی تھیٹر میں سب سے طویل دکھائی جانے والی پہلی فلم ہے

،تصویر کا ذریعہYASHRAJ FILMS

،تصویر کا کیپشنیہ فلم بھارتی تاریخ میں کسی بھی تھیٹر میں سب سے طویل دکھائی جانے والی پہلی فلم ہے

خیال رہے کہ شاہ رخ خان اور کاجول کی یہ فلم بھارتی تاریخ میں کسی بھی تھیٹر میں سب سے طویل دکھائی جانے والی پہلی فلم ہے۔

اگرچہ مراٹھا مندر فلم کو ہٹانے کے حق میں اس وقت تک نہیں تھا جب تک کہ اسے یہ فلم دیکھنے والے ناظرین ملتے رہے تاہم فلم کے مارننگ شو کے لیے تھیٹر کے عملہ کو تھوڑا زیادہ کام کرنا پڑ رہا تھا۔

فلم کی ریلیز کے تقریباً 20 سال بعد یش راج فلمز اور مراٹھا مندر دونوں نے باہمی رضامندی سے فلم ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس فلم کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ ماہ امریکی صدر براک اوباما نے بھی دورۂ بھارت کے دوران اپنے خطاب میں اس فلم کا ایک جملہ بولا تھا۔