اب دکھائی نہیں دیں گے ’راج اور سمرن‘

 گذشتہ بیس سال سے فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کی نمائش ممبئی کے ایک تھیٹر میں جاری تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشن گذشتہ بیس سال سے فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کی نمائش ممبئی کے ایک تھیٹر میں جاری تھی۔

بالی وڈ فلم ’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ 1009 ہفتے مسلسل کامیاب نمائش کے بعد جمعرات کو ممبئی کے ’مراٹھا مندر‘ تھیٹر سے اتر گئی۔

فلم آخری بار ’مراٹھا مندر‘ میں صبح سوا نو بجے دکھائی گئی، اسے گذشتہ سال دسمبر میں’مراٹھا مندر‘ کی زینت بنے پورے 1000 ہفتے ہو گئے تھے۔

شاہ رخ خان اور کاجول کی کاسٹ پر مشتمل یہ فلم بھارتی تاریخ میں کسی بھی تھیٹر میں سب سے طویل دکھائی جانے والی پہلی فلم ہے۔

اگرچہ ’مراٹھا مندر‘ فلم کو ہٹانے کے حق میں اس وقت تک نہیں تھا جب تک کہ اسے ’دل والے دلہنيا لے جائیں گے‘ کے لیے ناظرین ملتے رہے۔

لیکن فلم کے مارننگ شو کے لیے تھیٹر کے عملہ کو تھوڑا زیادہ کام کرنا پڑ رہا تھا۔

فلم کی ریلیز کے تقریباً 20 سال بعد یش راج فلمز اور ’مراٹھا مندر‘ دونوں نے باہمی رضامندی سے فلم ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کا شمار بھارتی سینما کی کامیاب ترین فلموں میں ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ کا شمار بھارتی سینما کی کامیاب ترین فلموں میں ہوتا ہے۔

فلم کے مرکزی کردار یورپ کے تفریحی دورے کے دوران محبت میں گرفتار جاتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ نوجوان خاتون کی بھارت میں منگنی طے ہوئی ہوتی ہے۔

تاہم وہ اپنے والدین کو رضامند کرنے میں کامیاب ہو جاتے اور ایک ساتھ زندگی گزارنے کا آغاز کرتے ہیں۔

اس فلم کی شہرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ ماہ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی دورہ بھارت کے دوران اپنے خطاب میں اس فلم کا ایک جملہ بولا تھا۔