مشکلات کے باوجود پاکستانی فیشن صنعت ترقی کی راہ پر

منتظمین کو امید ہے کہ فیشن انڈسٹری پاکستان کی تصویر کو تبدیل کرنے کے ساتھ کمائی کا راستہ بھی کھول سکے گی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنمنتظمین کو امید ہے کہ فیشن انڈسٹری پاکستان کی تصویر کو تبدیل کرنے کے ساتھ کمائی کا راستہ بھی کھول سکے گی
    • مصنف, شبنم محمود
    • عہدہ, بی بی سی ایشین نیٹ ورک

پاکستان میں سماجی اور اقتصادی مشکلات کے باوجود اس کی فیشن کی صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیشن ڈیزائنروں کاروبار اب اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان کے فیشن ڈیزائنر اب برطانیہ جیسے ممالک کو اپنے ڈیزائن برآمد کر اس کاروبار کو مزید فروغ دینے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان فیشن ویک لندن میں منعقد کیا جا رہا ہے۔

فیشن ڈیزائنر ہنی وقار کہتی ہیں ’برطانیہ میں فیشن کے کاروبار کی بڑی گنجائش موجود ہے اور یہ پاکستانی ڈیزائنرز کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ وہاں جا کر دنیا کے سامنے پاکستان کا یہ رخ پیش کریں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیشن ڈیزائنروں کاروبار اب اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیشن ڈیزائنروں کاروبار اب اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے

پاکستانی ڈیزائنر آہستہ آہستہ برطانیہ کے بازاروں میں اپنی جگہ مستحکم کر رہے ہیں اور وہ لندن، برمنگھم اور مانچسٹر میں اپنا کام شروع کر رہے ہیں۔

پاکستان کی ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی رابعہ آغا کہتی ہیں ’پاکستان کی فن ثقافت کا اپنی تاریخ ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ہم اسے بازار تک لائیں اور اسے یورپ کی ضرورتوں کے حساب سے ڈھالیں۔‘

لیکن کیا پاکستان بین الاقوامی فیشن کی دنیا سے مقابلے کے لیے تیار ہے؟

پاکستانی ڈیزائنر آہستہ آہستہ برطانیہ کے بازاروں میں اپنی جگہ مستحکم کر رہے ہیں اور وہ لندن، برمنگھم اور مانچیسٹر میں اپنا کام شروع کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی ڈیزائنر آہستہ آہستہ برطانیہ کے بازاروں میں اپنی جگہ مستحکم کر رہے ہیں اور وہ لندن، برمنگھم اور مانچیسٹر میں اپنا کام شروع کر رہے ہیں

برطانیہ کی فیشن بلاگر سارہ خان کا کہنا ہے ’میرے خیال سے ایشیائی اور پاکستانی فیشن کو اپنی اصلی طاقت کو دکھانے کا موقع اب تک نہیں ملا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لندن میں پاکستان فیشن ویک نے ہمیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں کہ ہم فیشن کی دنیا کو کیا دے سکتے ہیں۔‘

منتظمین کو امید ہے کہ فیشن انڈسٹری پاکستان کی تصویر کو تبدیل کرنے کے ساتھ کمائی کا راستہ بھی کھول سکے گی۔