لندن میں پاکستان فیشن شو

- مصنف, عتیقہ چوہدری
- عہدہ, بی بی سی رپورٹر، لندن
برطانیہ کے درالحکومت لندن میں اتوار کو روایت فیشن ویک اختتام پذیر ہوا جس میں پاکستان کے سترہ فیشن ڈیزائنرز نے اپنے ملبوسات کی نمائش کی۔
یہ فیشن ویک پانچویں بار لندن میں منعقد ہوا جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ اگلے سال یہ فیشن ویک پیرس میں ہو گا۔
اس فیشن ویک پر بہت تنقید کی جاتی ہے کہ یہ لندن اور پیرس میں اس لیے منعقد کیا جاتا ہے کہ رضاکارانہ طور پر ماڈلز مل جاتی ہیں۔
اس فیشن ویک کے ڈائریکٹر عدنان انصاری نے کہا ’ہاں ہم اس فیشن ویک سے پیسے بناتے ہیں لیکن وہ پیسے بل کی ادائیگیوں میں جاتے ہیں۔ ہاں ہم غیر معروف ماڈلز کو استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے ان ماڈلز کو تجربہ حاصل ہوتا ہے۔‘

عدنان نے مزید کہا کہ جیسا کہ کسی بھی نئی تنظیم کو شروع میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی طری پاکستان فیشن ویک کو بھی سامنا کرنا پڑا۔
’ہم نئے ابھرتے ہوئے فیشن ڈیزائنرز کو اپنی ملبوسات پیش کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ اور اگلے سال ہم پیرس میں فیشن ویک کریں گے۔ ہم جیسے جیسے آگے بڑھیں گے ہم مزید بہتر ہوتے جائیں گے۔‘
پانچویں پاکستان فیشن ویک کی شروعات سنیچر کو گل احمد کی ملبوسات کے ساتھ ہوئی تھی۔

اس روز ناظرین میں سے ایک شخص نے درخواست کی کہ انہوں نے بھی ماڈلنگ کرنی ہے تو انہیں ماڈلز کے ساتھ ریمپ پر لایا گیا۔ یہ قدم ناظرین میں بہت سراہا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فیشن شو کے زیادہ تر ماڈلز کا تعلق برطانیہ سے ہی تھا ماسوائے چند ماڈلز کے جن میں فوزیہ امان بھی شامل ہیں۔
اس فیشن ویک کے بعد فوزیہ امان نے کہا ’یہ میرا پانچواں پاکستان فیشن ویک ہے۔ ایسے شو بہت اہم ہیں کیونکہ انگلینڈ میں پاکستانیوں کی اتنی بڑی تعداد موجود ہے۔ اگر ہم یہ ملبوسات لے کر نہ آییں تو انگلینڈ میں رہنے والے پاکستانیوں کو یہ لباس ملیں ہی نہ۔‘
فیشن ویک میں حصہ لینے والے ڈیزائنرز میں رانا نعمان، عائشہ اعجاز، سونیا باٹلہ، سیم اینڈ ہما ناز شامل تھیں۔








