امیتابھ اور ریکھا کی سالگرہ ایک دن
امیتابھ کے لیے سرپرائز پارٹی

امیتابھ بچن کی 72 ویں سالگرہ پر ان کی بہو اور معروف اداکارہ ایشوریہ رائے بچن نے ایک مخصوص قسم کی پارٹی کا انتظام کیا ہے۔
ایشوریا رائے اس پارٹی کو صیغۂ راز میں رکھنا چاہتی تھیں اور امیتابھ کو سرپرائز دینا چاہتی تھیں لیکن یہ ہو نہ سکا اور امیتابھ بچن کو قبل از وقت اس کا علم ہو گیا۔
بہر حال پارٹی تو پارٹی ہے اور وہ ہوئی۔
11 اکتوبر کو امیتابھ بچن 72 سال کے ہو رہے ہیں لیکن چونکہ اس دن ہندوؤں کا ایک تہوار کروا چوتھ بھی ہے اس لیے امیتابھ کے اعزاز میں دی جانے والی پارٹی ایک دن پہلے یعنی دس اکتوبر کی شام کو دی گئی۔ دس اکتوبر تو اداکارہ ریکھا کا بھی جنم دن ہے۔
پارٹی کا انعقاد ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کیا گیا اور امیتابھ بچن نے ٹوئٹر پر لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں اور وہ 73 ویں سال میں قدم رکھتے ہوئے سب سے زیادہ خوش ہیں۔
اس میں بچن خاندان کے بے حد قریبی لوگوں کو ہی بلایا گیا تھا۔
ایشوریہ نے امیتابھ کے پسندیدہ کھانے کا بندوبست کیا اور پارٹی میں امیتابھ کی فلموں کے نغمے بجائے گئے۔
عالیہ اور عامر کی تلاش خطرناک

،تصویر کا ذریعہAFP
اگر آپ بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کے مداح اور پرستار ہیں اور آپ انٹرنیٹ پر ان کی تصاویر یا ان کے نام سے خبریں تلاش کرتے ہیں تو ہوشیار ہو جائیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عالیہ کے بارے میں جاننے کی بیتابی آپ کے موبائل یا کمپیوٹر کو وائرس کا شکار بنا سکتی ہے۔
یہ دعویٰ انٹرنیٹ سیکورٹی فراہم کرنے والی ایک اینٹی وائرس کمپنی میک ایفی نے کیا ہے۔
یہ کمپنی ہر سال ایسے فنکاروں کی فہرست تیار کرتی ہے جن کو انٹرنیٹ پر تلاش کرنے کے دوران وائرس آپ کے کمپیوٹر سسٹم پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔
عالیہ کے بعد اس فہرست میں دوسرے نمبر پر عامر خان ہیں۔
گذشتہ سال اس فہرست میں پرینکا چوپڑا اور شاہ رخ خان کے نام سرفہرست تھے۔
آخرامراؤ جان میڈیا سے دورکیوں؟

،تصویر کا ذریعہJayesh Seth
فلم اداکارہ ریکھاکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کبھی بھی دوپہر سے پہلے تصاویر نہیں كھنچواتي تھیں۔
سنہ 1995 سے پہلے انھوں نے کوئی تصویر بغیر میک اپ کے نہیں کھنچوائی۔
انھیں کتوں سے بے حد لگاؤ ہے۔ کل یعنی دس اکتوبر کو ریھکا 60 سال کی ہو گئیں۔ ریکھا کے بارے میں ایسی ہی کئی دلچسپ باتیں ان سے وابستہ کئی سینئر صحافیوں نے بی بی سی سے شیئر کیں۔
ریکھا نے اپنی زندگی میں بہت کم انٹرویوز دیے۔ میڈیا سے وہ بات ہی نہیں کرتیں۔
سینیئر صحافی پروينہ بھاردواج بتاتی ہیں کہ اپنے کریئر کے آغاز میں ریکھا نہیں جانتی تھیں کہ کس سے کیا بات کرنی چاہیے۔
پروينہ کہتی ہیں کہ ایک بار انھوں نے ایک خاتون صحافی سے اپنی ذاتی زندگی کی کچھ باتیں کہہ ڈاليں۔ ریکھا نے اس صحافی کو اپنا دوست سمجھا۔ لیکن اس صحافی نے وہ ساری باتیں ایک کتاب میں چھاپ دیں۔ اس کتاب میں آدھا سچ اور آدھا جھوٹ لکھا تھا۔ تب سے ریکھا نے میڈیا سے دوری بنا لی۔







