’بوہے باریاں‘ ایک مرتبہ پھر انڈین فلم میں، پاکستانی گلوکارہ حدیقہ کیانی ’چوری‘ پر مایوس

،تصویر کا ذریعہYT/HADIQA/KANIKA
شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جسے پاکستانی گلوکارہ حدیقہ کیانی کا گیت ’بوہے باریاں‘ یاد نہیں ہو گا۔
سنہ 1999 میں اس گیت کے ریلیز ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے اسے سراہا اور یہ پاکستان کا ایک مقبول عام گانا بنا۔ اس گیت کی مقبولیت کے بعد انڈیا کی ہندی فلموں میں ’بوہے باریاں‘ نغمے کی تال سے ملتے جلتے بہت سے گیت سامنے آئے۔
جیسا کہ سنہ 2002 میں پریتی زنٹا، جمی شیرگل اور ارجن رامپال کی فلم ’دل ہے تمہارا‘ کا گیت ’دل لگا لیا میں نے تم سے پیار کر کے‘ یا پھر سنہ 2002 میں ہی شاہ رخ، سلمان اور مادھوری دکشت کی فلم کا گانا ’ہم تمہارے ہیں، تمہارے صنم‘۔
لیکن اب یہی پاکستانی گیت ایک نئی ریلیز میں تال و سر اور اس کے کچھ ابتدائی الفاظ کے ساتھ سُنائی دے رہا ہے۔ اس گیت کو مشہور میوزک کمپنی ’سا رے گا ما میوزک‘ نے انڈین گلوکارہ کنیکا کپور کی آواز میں ’اوریجنل‘ کے طور پر پیش کیا ہے۔ گانے کے بول ہیں، ’بوہے باریاں تے نالے کنڈا ٹپ کے، آوں گِی ہوا بن کے بوہے باریاں۔‘
گانے میں سنائی دینے والے باقی بول مختلف ہیں لیکن پاکستانی گلوکارہ حدیقہ کیانی نے اپنی انسٹاگرام سٹوریز میں تال اور بوہے باریاں کے ساتھ لائنوں کے استعمال پر اعتراض کیا ہے۔ اس اعتراض پر کنیکا کپور کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ان دنوں کے علاوہ ماضی میں جب انڈیا اور پاکستان کے گلوکاروں کے گیتوں پر سرقہ یا انسپائریشن کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہINSTA/HADIQAKIANIOFFICIAL
حدیقہ نے کیا لکھا؟
حدیقہ نے لکھا: ’بوہے باریاں اور میرے البم روشنی کے تمام گیتوں کے کاپی رائٹس میرے پاس ہیں۔ بوہے باریاں گیت میری ماں نے لکھا تھا۔ اگر کوئی کہہ رہا ہے کہ میرے پاس حقوق ہیں تو یہ غیر قانونی ہے اور میری ٹیم ایکشن لے رہی ہے۔ ہمارے پاس روشنی البم کے سامنے آنے سے پہلے کے کاپی رائٹ دستاویزات ہیں۔ کسی کمپنی کو اس کے حقوق نہیں دیے گئے ہیں۔ کسی کمپنی کے پاس میرے دستخط والے یا گانوں کی اجازت دینے والی کوئی دستاویز نہیں ہے۔ میں کافی دیر تک اس مسئلے پر خاموش رہی۔‘
حدیقہ جس روشنی البم کی بات کر رہی ہیں وہ سنہ 1999 میں آیا تھا۔ اس البم میں 14 گانے تھے۔ البم کی ریلیز کے بعد حدیقہ کو کافی مقبولیت ملی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اے آر وائی نیوز کی خبروں میں استعمال ہونے والی انسٹاگرام سٹوریز کے سکرین شاٹ میں حدیقہ کے ردعمل کو تفصیل کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
حدیقہ کے مطابق: ’ایک اور دن اور ایک اور بار بے شرمی سے میری ماں کے لکھے ہوئے گانے کی نقل۔ نہ کسی نے حقوق مانگے، نہ کسی نے رائلٹی دی۔ انھوں نے صرف میری ماں کے لکھے ہوئے گیت کو دوبارہ ریکارڈ کیا تاکہ وہ آسانی سے پیسہ کما سکیں۔ شاہ رخ، پریتی زنٹا جیسے سٹارز کی کئی بالی وڈ فلموں میں یہ کئی بار چوری ہو چکا ہے۔ یہ گانا سٹیج پر تقریباً ہر دوسرے گلوکار نے پیسہ کمانے کے لیے گایا ہے۔ بہت سی ویڈیوز کو یوٹیوب پر دو کروڑ سے زیادہ ویوز ملے ہیں۔ مجھے صرف ’اوریجنل سانگ بوہے باریاں، حدیقہ کیانی‘ لکھ کر کریڈٹ دے دیتے ہیں۔‘
حدیقہ مزید لکھتی ہیں: ’میں ابھی زندہ ہوں اور اگر آپ میرے گانے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو میری اجازت لیں۔ کسی اور کے گانوں سے پیسے کمانا اچھی بات نہیں ہے۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں کسی گلوکار کے خلاف نہیں ہوں۔ میں صرف اس سارے عمل سے مایوس ہوں۔ ویسے پاکستانی میوزک سے چوری جاری ہے۔‘
بی بی سی نے اس معاملے پر حدیقہ سے رابطہ کیا ہے تو ان کی قانونی ٹیم کا کہنا تھا کہ وہ اس گانے کو غیر قانونی طور پر استعمال کرنے کے خلاف اقدام کر رہے ہیں جو حدیقہ کیانی کی والدہ خاور کیانی نے قریب تین دہائیاں قبل لکھا تھا۔
'گلوکارہ (کنیکا کپور) کے دعوے جھوٹ اور اپنے مفادات کے تحفظ پر مبنی ہیں۔ ہم انھیں اس لاعلمی پر قصوروار نہیں ٹھہراتے مگر لاعلمی کوئی وجہ نہیں کہ ایسے مواد کو غیر قانونی طور پر استعمال کیا جائے جس کے جملہ حقوق محفوظ ہوں۔'

،تصویر کا ذریعہINSTA/KANIKAKAPOOR
کنیکا کپور نے کیا لکھا؟
ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کنیکا کپور نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
کنیکا نے کہا: ’اس گانے کو سننے والا جان جائے گا کہ یہ اوریجنل گیت ہے۔ مکھڑے سے لے کر اندر کے بند تک۔ ہم نے صرف ہک لائن (بوہے باریاں) کا استعمال کیا ہے۔ ہم نے ایک پرانے لوک گیت کی لائن اٹھا لی۔ میرے اور کمپنی کے مطابق یہ ایک لوک گیت ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
کنیکا کہتی ہیں: ’ہم نے اس گانے کے کئی ورژن سنے ہیں اور کسی نے بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ہم نے لوک گیت کو کاپی پیسٹ نہیں کیا۔ ہم نے صرف دو سطروں سے تحریک لی ہے۔ یہ گیت لکھنے والے کمپوز کرنے والے کنور جونیجا اور شروتی رانے کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں کسی کا کام چوری کر رہی ہوں تو یہ غلط ہے۔‘
کنیکا نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا: ’یہ بات مجھے مایوس کرتی ہے کہ میں نے ان کا گانا چرایا یا ہم انھیں کریڈٹ نہیں دے رہے ہیں۔ میرے خیال سے اس معاملے پر منفی ہونے کے بجائے ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ مجھے بہت سارے نفرت انگیز پیغامات مل رہے ہیں۔ اس سے مایوسی ہوتی ہے کہ لوگ کتنی جلدی کسی نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM/KANIKA/HADIKA
کنیکا کپور اور حدیقہ کیانی: کچھ اور چیزیں
کنیکا کپور نے ہندی فلموں میں کئی گانے گائے ہیں۔
لکھنؤ سے تعلق رکھنے والی کنیکا کے گانوں کی فہرست میں بے بی ڈول، دیسی لک، سپر گرل، پشپا فلم کا او بولیگا یا او او بولیگا، چٹیاں کلایاں وے جیسے گیت شامل ہیں۔ کنیکا اصل میں لکھنؤ کی رہنے والی ہیں۔
اس کے ساتھ دوسری جانب حدیقہ کیانی پاکستان کی گلوکارہ ہیں۔ اُن کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ حدیقہ نے کوک سٹوڈیو کے کئی سیزن کے لیے گیت گائے ہیں۔
عاطف اسلم کے ساتھ حدیقہ کا گایا ہوا ایک گانا ’ہونا تھا پیار، ہوا میرے یار‘ کو انڈیا میں بھی بڑے پیمانے پر سنا اور سراہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حدیقہ نے انڈیا میں فواد خان کے مشہور سیریل ’زندگی گلزار ہے‘ میں بھی گانا گایا تھا۔
بوہے باریاں کے علاوہ، من دی موج اور جان جیسے گانے حدیقہ کے ہٹ گانے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا بمقابلہ پاکستان: ماضی میں گانوں کی نقل کی مثالیں
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انڈیا اور پاکستان کے گلوکار گانے یا دھن کی چوری کے الزامات پر آمنے سامنے آئے ہوں۔
اس کے ساتھ ایک ملک میں گائے گئے گانوں کا دوسرے ملک میں دوبارہ گا کر بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال منوج منتشیر کا حال ہی میں ریلیز ہونے والا گانا ’دل غلطی کر بیٹھا ہے، غلطی کر بیٹھا ہے دل۔۔۔ بول ہمارا کیا ہو گا‘ ہے۔ اس گیت کو زوبن نوٹیال نے گایا ہے۔
لیکن حقیقت میں یہ قوالی برسوں پہلے نصرت فتح علی خان سمیت کئی پاکستانی گلوکار گا چکے ہیں۔ اس قوالی کے الفاظ تھے، ’دل نے غلطی کی، دل نے غلطی کی۔۔۔ بول کفارہ کیا ہوگا؟‘
آئیے آپ کو ایسے ہی نغموں کی طویل فہرست میں سے 5 گیت کے بارے میں بتاتے ہیں۔
1. سنہ 1991 کی فلم ’سڑک‘، گیت ’تمھیں اپنا بنانے قسم کھائی ہے‘
ایسا لگتا ہے کہ گیت کی دھن مصطفیٰ زیدی کی غزل اور گلوکارہ مسرت نذیر کے گائے گیت ’چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔۔۔‘ سے لی گئی ہے۔
2. سنہ 1994 میں فلم ’انصاف اپنے لہو سے‘ کا گیت ’ہوا ہوا یہ ہوا اور سنہ 2017 میں مبارکاں فلم کا گانا- ’ہوا ہوا‘
ان دونوں گانوں کی دھن اور الفاظ دراصل 80 کی دہائی میں پاکستانی گلوکار حسن جہانگیر کے گائے گئے گیت سے ملتے جلتے ہیں۔
3. 2010 کی فلم دبنگ کا گیت ’منّی بدنام ہوئی ڈارلنگ تیرے لیے‘
ایسا ہی ایک گیت سنہ 1993 میں عمر شریف کی فلم مسٹر چارلی میں بھی تھا۔ گانے کے بول تھے، ’لڑکا بدنام ہوا۔۔۔ حسینہ تیرے لیے۔‘ بپی لہری نے بھی اسی انداز اور الفاظ میں ایک گیت گایا تھا۔
4. فلم بے وفا صنم کا گیت ’اچھا صلہ دیا تونے میرے پیار کا‘
1970 کی پاکستانی فلم وچھوڑا میں نور جہاں کا گایا ہوا گیت ’کوئی نوا لارا لا کے مینو بول جا، جھوٹھیاں وی اک اور جھوٹھ بول جا۔۔۔ اس گیت کے دھن کو سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بے وفائی کی بات کرتا ہے اور انڈیا کے دیہاتوں میں چلنے والے آٹو میں اس گیت کو سنا جاتا ہے۔
5. سنہ 1996 کی فلم ’راجہ ہندوستانی‘ کا گیت ’کتنا پیارا تجھے رب نے بنایا‘
سنہ 1997 میں اس دنیا سے رخصت ہونے والے نصرت فتح علی خان نے اپنی موت سے کئی سال قبل ایک قوالی گائی تھی جس کے بول تھے 'کِنا سوہنا تینوں رب نے بنایا، دل کرے دیکھتا رہوں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
نصرت فتح علی کے گانے اور بالی وڈ
ایسی ہی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی دیکھی جا سکتی ہے، جس میں ایک اینکر نصرت صاحب سے پوچھتی ہیں کہ آپ کی سب سے اچھی کاپی کس نے کی؟ اس پر نصرت نے جواب دیا، وجو شاہ اور انو ملک نے بھی اچھی کاپی کی ہے۔
میوزک ڈائریکٹر وجو شاہ نے فلم ’مہرہ‘ کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ اس فلم کا ایک مشہور گانا ہے ’تو چیز بڑی ہے مست مست۔۔۔‘
نصرت نے سنہ 1994 کی فلم سے چند سال قبل ایک قوالی گائی تھی۔ جن کے الفاظ تھے ’دم مست قلندر مست، مست۔۔۔ سخی لال قلندر مست مست۔‘
ایسا ہی ایک گیت سنہ 1995 کی فلم یارانہ کا ہے۔ گانے کے بول تھے ’میرا پیا گھر آیا ہو رام جی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس فلم کی ریلیز سے قبل نصرت فتح علی خان کی گائی ایک قوالی اب بھی یوٹیوب پر سنی جا سکتی ہے۔ اس قوالی کے بول ہیں، ’میرا پیا گھر آیا ہو لال نی‘
انڈین فلموں کے کچھ گانے بھی نقل کیے گئے
ایسا نہیں ہے کہ گانے چرانے یا انسپائر ہونے والوں کی فہرست میں صرف انڈینز ہی شامل ہیں۔
انڈین فلموں کے بھی کئی گانے غیر ملکیوں نے نقل کیے ہیں۔
سنہ 2012 میں فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ کے گانے ’سیارا‘ کی دھن سنہ 2013 میں مائل کٹک سنگر کے گانے راکیجا میں کاپی کی گئی۔
سنہ 2011 میں فلم ’را ون‘ کے گانے چھمک چھلو کی دھن سنہ 2013 میں ڈارا بوبامارا میں استعمال کی گئی تھی۔











