گانا چوری کا الزام: فرحان سعید اور سلیم مرچنٹ کی ٹوئٹر پر نوک جھوک

فرحان سعید

،تصویر کا ذریعہTwitter/@farhan_saeed

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تو چپقلش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں پڑوسی ممالک متعدد جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔ سنیچر کو دونوں ممالک کے گلوکاروں کے درمیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی ایک لفظی جنگ کیا چھڑی کہ آن لائن مخلوق بھی اس میں کود پڑی۔

اس بار پاکستانی گلوکار فرحان سعید کا گانا ’رویا‘ اور انڈیا کے سلیم مرچنٹ کا گانا ’ہاریا‘ اس لفظی جنگ کا سبب بنے۔

اس کی شروعات اس وقت ہوئی جب انڈین گلوکار سلیم مرچنٹ نے اپنے نئے گانے ہاریا کی ایک ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا یہ گانا یوٹیوب پر 2 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔ اب اسے محض اتفاق کہیں یا کبھی خوشی کبھی غم کہ ان خوشی کے لمحات میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے گلوگار فرحان سعید نے ٹوئٹر پر یہ الزام لگایا کہ ہاریا دراصل ان کے گانے رویا کا چربہ ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

اس کے بعد انھوں نے انڈین گلوکار پر اپنا گانا چرانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کم از کم یہ سب کرنے سے پہلے ان سے پوچھ ہی لیتے یا اگر چوری بھی کرنا تھی تو ڈھنگ سے یہ سب کیا ہوتا۔

رویا

،تصویر کا ذریعہTwitter/@farhan_saeed

سلیم مرچنٹ نے اپنے جواب میں اسے محض اتفاق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فرحان سعید کا گانا رویا پہلے نہیں سنا ورنہ وہ یقیناً بعد میں تیار کیے گئے اپنے گانے ہاریا میں تبدیلیاں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اس پروفیشن میں ایک دوسرے کو دیکھ کر آگے بڑھتے ہیں تو کئی بار ایسا ہونا ایک قدرتی امر بھی ہوتا ہے۔ قانون سرقہ یعنی کسی کے تخلیقی کام کو چوری کرنے سے متعلق الزام پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے کریئر میں کبھی ایسا نہیں کیا ہے۔

ہاریا

،تصویر کا ذریعہTwitter/@salim_merchant

یہ تو معلوم نہیں ہے کہ فرحان سعید نے سلیم مرچنٹ کی سفارش پر ان کی ساتھی گلوکار سلیمان مرچنٹ سے حقائق جاننے سے متعلق رابطہ کیا یا نہیں لیکن بظاہر وہ سلیم مرچنٹ کی وضاحت سے مطمین نظر آئے اور کہا کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو (پھر یہ درست ہوگا) تاہم یہ ہمارے گانے کے بول بھی ایک جیسے ہی ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے سلیم مرچنٹ سے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کر دیا۔

فرحان سعید

،تصویر کا ذریعہTwitter/@farhan_saeed

ایسا لگتا ہے کہ سلیم مرچنٹ معاملے کو مکمل سلجھانا چاہتے تھے۔ انھوں نے ایک اور ٹویٹ کیا اور پوچھا کہ آپ نے ان (سلیمان مرچنٹ) سے اس بارے میں تحقیقات کیوں نہیں کیں۔ کاش میرے پاس اس گانے کی پہلے سے کاپی ہوتی تو میں یہ سن کر یقیناً اپنے گانے میں ایسی تبدیلیاں کرتا کہ وہ رویا سے کافی حد تک مختلف ہوتا۔ تاہم انھوں نے آخر میں فرحان سعید کو یہ کہا کہ امید ہے کہ ان کی وضاحتوں کے بعد وہ حقیقت کے بارے میں جان چکے ہوں گے۔

سلیم مرچنٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@salim_merchant

اب اتنی وضاحتوں کے بعد فرحان سعید نے چپ سادھ لینے میں عافیت جانی۔ وہ شاید یہ تو ابھی بھی سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے اتنے اتفاقات ایک ساتھ واقع ہو جاتے ہیں تاہم جس طرح سلیم مرچنٹ نے ان سے بات کی اس سے معاملہ بگاڑ کے بجائے سلجھاؤ کی طرف ہی آگے بڑھا۔ اب اگر فرحان سیعد گڈ لک کہہ رہے ہوں صاف ظاہر ہے کہ اس کے بعد وہ ’سی یو ان کورٹ‘ کی دھمکی تو نہیں دیں گے۔

یہ ترقی پذیر ممالک میں ہی کیوں ہوتا ہے؟

ترقی پذیر ممالک میں انٹلیکچوئل پراپرٹی کو اتنی فوقیت نہیں دی جاتی اور یہاں کسی تخلیق کار کی تخلیق کو نقل اور چوری کرنا ایک معمول کی بات ہے جبکہ اس حوالے سے موجود قوانین پر عملدرآمد بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

کاپی رائٹس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور انڈیا میں موسیقی تخلیق کرنے والے اپنے اپنے تخلیقی کام کی نقل یا چوری کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہتے ہیں

اگر بات پاکستان اور انڈیا کی ہو تو دوسری درجنوں مشترک قدروں کے علاوہ موسیقی ایک ایسی چیز ہے جو ان ہمسایہ ممالک میں بسنے والوں کو جوڑتی ہے۔

تاہم گاہے بگاہے دونوں ممالک میں موسیقی تخلیق کرنے والے اپنے اپنے تخلیقی کام کی نقل یا چوری کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے رہتے ہیں۔

کچھ ماہ قبل پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک انڈین رکنِ پارلیمان پر آئی ایس پی آر کی جانب سے ریلیز کیے گئے ایک گیت کو نقل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

دوسری جانب انڈیا کی ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹھاکر راجہ سنگھ نے، جن پر گانا نقل کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا، ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 'وہ پاکستان کا گیت کیوں کاپی کریں گے' اور یہ کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کے 'پاکستان نے ان کے گانے کی کاپی کی ہو گی۔'