کوک سٹوڈیو سیزن 14: پروڈیوسر زلفی خان پر ’تو جھوم‘ کی دُھن چوری کرنے کا الزام، ’مجھے پیسے نہیں کریڈٹ دیا جائے‘

،تصویر کا ذریعہNADIR FIROZ KHAN FOR COKE STUDIO SEASON 14
- مصنف, عماد خالق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں کوک سٹوڈیو کے 14ویں ایڈیشن کا آغاز ہو گیا ہے اور گذشتہ ہفتے اس کا پہلا گانا ’تو جھوم‘ ریلیز کیا گیا ہے۔ ریلیز کے بعد نہ صرف یہ گانا پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہو رہا ہے اور ہزاروں افراد اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں بلکہ سیزن 14 کی شروعات میں اس گانے کے لیے پاکستانی گلوکارہ عابدہ پروین اور نصیبو لال کے سیٹ پر ملنے کی ایک ویڈیو کو بھی سوشل میڈیا پر خاصی پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔
تاہم جہاں ایک جانب یہ گیت ریلیز ہوتے ہی مقبولیت حاصل کر رہا ہے وہیں اس گیت کے متعلق ایک تنازع بھی منظر عام پر آیا ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان گلوکارہ اور موسیقار نرملا میگھانی نے کوک سٹوڈیو کے گانے ’تو جھوم‘ کے متعلق یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ اُن کی دھن ہے جسے زلفی نے استعمال کیا ہے۔
کوک سٹوڈیو پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گانے کی دھن چوری کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں اور اس نوعیت کا الزام بے بنیاد ہے۔
’یہ دھن میں نے زلفی کو بھیجی تھی‘
عمرکوٹ کے متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی نرملا میگھانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ'تو جھوم' گانے کی دھن ان کی بنائی ہوئی ہے اور یہ دھن انھوں نے تقریباً سات ماہ قبل زلفی کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی تھی۔
’یہ دھن میری ہے اور میں نے زلفی کو بھیجی تھی، انھیں سات ریکارڈنگز بھیجی تھیں، یہ دھن اُن میں سے ایک ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہNirmala Meghani
ان سے جب پوچھا گیا کہ انھوں نے یہ ریکارڈنگز کیوں بھیجیں تھیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک نئی آرٹسٹ ہوں، میں اُن کے ساتھ کام کرنا چاہتی تھی، میں نے انھیں بتایا کہ میں اوریجنل میوزک بناتی ہوں تاکہ وہ مجھے چانس دیں سکیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ریکارڈنگز زلفی کو بھیجنے کے بعد سے انھوں (زلفی) نے کبھی اُن سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’جب گذشتہ ہفتے میں نے یہ گانا سُنا تو فوراً میں نے کہا کہ یہ میری دھن ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
ان کے مطابق اس کے بعد بھی انھوں نے متعدد مرتبہ زلفی کو واٹس ایپ پر پیغامات بھیجے کہ اُن (نرملا) کا نام بھی اس دھن میں شامل کیا جائے لیکن زلفی کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔
نرملا کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ چھ سال سے میوزک کے شعبے میں ہیں اور حال ہی میں لندن میں بھی پرفارم کر کے آئی ہیں۔
زلفی اور کوک سٹوڈیو کا جواب
بی بی سی کو موصول ہونے والے کوک سٹوڈیو پاکستان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تو جھوم‘ گانے کی دھن چوری کرنے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ایک ویڈیو بھیجی جا رہی ہے جس میں کوک سٹوڈیو کے پروڈیوسر زلفی اور ایسوسی ایٹ پروڈیوسر عبداللہ صدیقی کے درمیان بات چیت کی تاریخ دیکھی جا سکتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کوک سٹوڈیو ٹیم گانے کی اصل دھن پر بہت پہلے ہی مئی 2021 میں کام شروع کر چکی تھی جب کہ اس وقت تک ایسا کوئی دعویٰ بھی سامنے نہیں آیا تھا۔
کوک سٹوڈیو کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ دعوے کے مطابق کوک سٹوڈیو کو دھن جون کے اواخر میں بھجوائی گئی جب زلفی سیزن میں اتنا مصروف تھے کہ انھیں اس دھن کو ڈاون لوڈ کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ کوک سٹوڈیو کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بات کے ثبوت بھی موجود ہے کہ زلفی کو بھجوائی جانے والی دھن کو ڈاون لوڈ نہیں کیا گیا تھا۔
بی بی سی کو کوک سٹوڈیو پاکستان کی جانب سے وصول ہونے والے وضاحتی پیغام میں ایک فون کے واٹس ایپ پر مئی کے مہینے میں ہونے والی گفتگو اور ایک ویڈیو ریکارڈنگ بھی بھیجی گئی ہے۔
فون کی ویڈیو سکرین پر 16 مئی کی تاریخ دیکھی جا سکتی ہے جس میں عبداللہ صدیقی نام پر کئی پیغامات میں ایک گانے کی دھن پر بات چیت دیکھی جا سکتی ہے۔
انھی پیغامات میں بھیجی جانی والی اس ویڈیو میں ایک کمپیوٹر سکرین نظر آ رہی ہے اور پہلے آواز آتی ہے کہ ’آپ نے آوازیں بھی انہی کی امیجن کرنی ہیں۔‘ جس کے بعد ایک دھن کمپیوٹر پر چلائی جاتی ہے اور ساتھ ہی گنگنانے کی آواز بھی آتی ہے۔
اس کے بعد آواز آتی ہے کہ ’کچھ اس طرح کا۔ یہ تو میں نے تھوڑی فیل دی ہے جیسے ان لوگوں کی ہے۔ عابدہ کی بھی ہے اور نصیبو کی بھی ہے۔ لیکن جب نصیبو اس کو کھینچ کر گائے اور مزے میں گائیں اور عابدہ اپنے مزے میں گائیں تو مجھے لگتا ہے کہ بڑی مزے کی ہے۔’
زلفی خان کا بھی بیان بی بی سی کو موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کا کام کسی سے نہ تو مستعار لیا جاتا ہے اور نہ ہی بنا کریڈٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ زلفی کا کہنا ہے کہ کوک سٹوڈیو کے موجودہ سیزن پر جب کام شروع کیا گیا تو ان کا ارادہ تھا کہ پوری دنیا پاکستانی میوزک سُنے۔
’ہمارا ارادہ تھا کہ اپنا میوزک اور ٹیلنٹ اس طرح پیش کیا جائے کہ ساری دنیا کو معلوم ہو کہ پاکستانی کیا کر سکتے ہیں۔ اور پاکستان قوم کون ہے۔ ہمارا ارادہ پاکستان کی ثقافت کی عزت کروانا تھا۔’
’کوک سٹوڈیو میں کام کرنا ایک ذمہ داری ہے جسے میں بہت فخر اور سنجیدگی سے کرتا ہوں۔ اور یقینا میں چاہتا ہوں کہ ملک بھر کے ہونہار اور نوجوان فنکاروں اور گلوکاروں کے ساتھ مل کر کام کر سکوں جو پاکستانی میوزک کا آج بھی ہیں او مستقبل بھی۔’

،تصویر کا ذریعہZulfiqar Jabbar Khan/Facebook
مجھے پیسے نہیں کریڈٹ دیا جائے
نرملا کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ دھن پاکستان میں فنکاروں کی پزیرائی کرنے والی مشہور سماجی شخصیت میاں یوسف صلاح الدین (میاں سلی) کو بھی اسی وقت بھیجی تھیں جب انھوں نے اپنی ریکارڈنگز زلفی کو بھیجیں۔
’میاں سلی بھی جانتے ہیں کہ یہ میری دھن ہے، میں نے سب سے پہلے اُن کو بھیجی تھی، میں اپنا ہر کام انھیں بھیجتی ہوں۔‘
اس دعوے کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی نے میاں یوسف صلاح الدین سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کوک سٹوڈیو کے گانے ’تو جھوم‘ کی دھن نرملا میگھانی کی دھن پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ نرملا کا گانا ہے، اس کی استھائی (گانے کا آغاز) بالکل وہ ہی ہے۔‘
میاں یوسف صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ’میں خود ایک میوزک کمپوزر ہوں، اس لیے جانتا ہو کہ یہ نرملا میگھانی کی دھن ہے جس میں بہت معمولی رد و بدل کیا گیا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’نرملا نے تقریباً سات ماہ پہلے یہ دھن مجھے بھی بھیجے تھی اور شاید مجھے سب سے پہلے بھیجی تھی، وہ ہمیشہ اپنا کام مجھے بھیجتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہNADIR FIROZ KHAN FOR COKE STUDIO SEASON 14
وہ کہتے ہیں کہ نرملا کا تو صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسے نام دیا جائے۔ یہ اس کا حق بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب یہ ایک پیچیدہ معاملہ بن گیا ہے اور اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ جب سب کے موبائل فرانزک ہوں گے اور دھن کا بھی سائنسی بنیادوں اور میوسیقی کے مطابق فرانزک کیا جائے گا تو معاملہ صاف ہو جائے گا۔‘
نرملا کہتی ہیں کہ ’مجھے پیسے نہیں چاہیے، میرا نام شامل کیا جانا چاہیے، مجھے اس دھن کے لیے کریڈٹ دیا جائے۔‘
قانونی چارہ جوئی کے متعلق جب ان سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے میں اپنے وکیل کے ساتھ مشاورت کر رہی ہیں اور جلد ہی ممکنہ طور پر اس پر مقدمہ دائر کریں گی۔
گلوکار سلمان احمد نے بھی ٹوئٹر پر زلفی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انھیں نرملا کو اس کا کریڈت دینا چاہیے۔
سلمان احمد کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہی نرملا میگھانی کو زلفی سے متعارف کروایا تھا جو بہت ٹیلنٹڈ ہیں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
میوزک پروڈیوسر علی مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نرملا کی دُھن اور کوک سٹوڈیو کے 'تو جھوم'میں بہت مماثلت ہے لیکن یہ محض ایک اتفاق بھی ہو سکتا ہے اور اگر یہ مماثلت اتفاق نہیں ہے کہ تو اس کا فیصلہ اب صرف عدالت ہی کر سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسی دھن یا موسیقی جس کو آرٹسٹ نے رجسٹر نہ کروایا ہو اس کے رائٹس کے دعویٰ کو ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے وہ بطور میوزک پروڈیوسر وہ سب کو یہی کہتے ہیں کہ وہ اپنے گانے نہ بھیجیں بلکہ خود جا کر سُنائیں۔
میوزک کی چوری کس زمرے میں آتی ہے؟
کسی بھی گانے کے بول، دھن وغیرہ کی نقل یا چوری انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس میں آتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کو اتنی فوقیت نہیں دی جاتی اور یہاں کسی تخلیق کار کی تخلیق کو نقل اور چوری کرنا ایک معمول کی بات ہے۔
جبکہ اس حوالے سے موجود قوانین پر عملدرآمد بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
موسیقی کے شعبے میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کیا ہیں، ان کی خلاف ورزی کیا ہے، خلاف ورزی کو جانچا کیسے جا سکتا ہے اور قانون میں کسی دوسرے کا کام نقل کرنے کی سزا کیا ہے؟ بی بی سی نے 2019 میں اس وقت ان سوالات پر شعبے کے ماہرین سے بات کی تھی جب پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سابق سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک انڈین رکنِ پارلیمان پر آئی ایس پی آر کی جانب سے ریلیز کیے گئے گیت کو نقل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
انٹلیکچوئل پراپرٹی اور خلاف ورزی
پاکستان میں انٹلیکچوئل پراپرٹی کا قانون کاپی رائٹس آرڈینینس 1962 موجود ہے اور میوزک، گانے، میوزیکل ورک یا موسیقی کی کیٹگری میں رجسٹر ہوتے ہیں۔
پاکستان میں انٹلیکچوئل پراپرٹی سے متعلقہ قوانین کے مطابق ایک گیت کے کاپی رائٹس کے مالک چار سے پانچ افراد ہو سکتے ہیں۔ مثلاً گانے کے بول لکھنے والا، گانے کا کمپوزر یا موسیقار، گانے والا یا گلوکار اور ری مکِسنگ کرنے والا۔
پاکستان میں انٹلیکچوئل پراپرٹی سے متعلقہ قوانین کے ماہر قانون دان ماجد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ 'تاہم اگر ایک فرد، کمپنی یا ادارہ ان تمام افراد کی خدمات پیسوں یا کسی اور چیز کے عوض لیتا ہے تو عموماً ایک معاہدہ کیا جاتا ہے جس کے تحت یہ افراد اپنے تمام حقوق سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور گانا مکمل طور پر اس فرد، کمپنی یا ادارے کی ملکیت بن جاتا ہے۔'
میوزک کمپنی ای ایم آئی پاکستان کے چیف آپریٹنگ آفیسر ذیشان چوہدری نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسی دوسرے کے گانے کو مختلف انداز سے گا سکتے ہیں مگر اس کے لیے اجازت ضروری ہے۔
٭٭٭'ایک گانا جس کے رائٹس کسی مخصوص کمپنی یا فرد کے پاس ہیں اس کی اجازت سے کوئی بھی شخص اس گانے کی ریورژننگ (نئے انداز سے گانا) کر سکتا ہے جس کو 'کور سانگ' کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اجازت اس بات کی بھی لے سکتے ہیں کہ آپ گانے کی کمپوزیشن وہی رکھیں گے مگر اس کے بول ایمپرووائز کریں گے اور یہ کاپی رائٹس کی اڈپٹیشن (موافقت) کہلاتی ہے۔ اسی طرح کسی گانے کی کمپوزیشن میں ایک خاص سُر کو آپ اپنے نئے گانے کے لُوپ میں چلا سکتے ہیں اور اس کو 'سیمپلنگ' کہتے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہNADIR FIROZ KHAN FOR COKE STUDIO SEASON 14
ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت آپ کسی کا گانا کسی بھی طرح استعمال کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے اس گانے کے حقوق رکھنے والے کی اجازت درکار ہوتی ہے اور اگر آپ یہ نہیں لیتے تو آپ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں جو پاکستان میں جرم ہے۔
کیا گانا رجسٹر کروانا ضروری ہے؟
ماجد بشیر کے مطابق پاکستانی قوانین کے تحت جس وقت ایک گانا تخلیق ہوتا ہے تو اس کو بنانے والا اس کے کاپی رائٹس کا مالک بن جاتا ہے۔
'اگر گانا کسی ادارے سے رجسٹر نہیں بھی کروایا تو کاپی رائٹس اس کو سب سے پہلے بنانے والے کا ہی ہو گا۔'
اس کی تفصیل بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ دعوے کی حد تک ہوتا ہے اور اگر کسی کے خلاف کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر قانونی چارہ جوئی کرنی ہو تو اس کے لیے گانے کو رجسٹر کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اس رجسٹریشن کی بنیاد پر آپ عدالت جا سکتے ہیں اور آپ کا کیس مضبوط ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
خلاف ورزی کی صورت میں عدالتی کارروائی
اگر ایک گانے کے کاپی رائٹس کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس گانے کے ملکیتی حقوق رکھنے والا شخص یا کمپنی عدالتی کارروائی شروع کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔
ماجد بشیر کے مطابق 'اگر آپ اس گانے پر پابندی چاہ رہے ہیں یا یہ چاہ رہے ہیں کہ آپ کا گانا گا کر کسی نے پیسے کمائے ہیں اور آپ اس رقم پر دعویٰ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو عدالت جانا ہو گا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتے ہیں کہ 'آپ کے پاس دو قانونی آپشنز ہیں یا تو کاپی رائٹ کی رجسٹریشن کی بنیاد پر آپ عدالت سے حکم امتناعی لے سکتے ہیں کہ اس گانے کو چلنے سے روکا جائے اگر کسی اور ملک میں روکنا ہے تو آپ کو اس ملک کی عدالت سے حکم نامہ لینا پڑے گا۔'
اس نوعیت کے کیسز کو دیکھنے کے لیے پاکستان میں بھی انٹلیکچوول پراپرٹی ٹرائبیونلز ہیں جن میں خصوصی جج تعینات کیے جاتے ہیں جن کو کاپی رائٹس کی سمجھ بوجھ ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری قانونی شکل یہ ہے کہ اگر گانا چوری کرنے والے شخص نے اس کو ریلیز کر کے کوئی مالی فائدہ لیا ہے تو آپ اس پر دعویٰ کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں صورتحال کیا ہے؟
انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے مرتب کردہ سالانہ رپورٹ اور اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 15 برسوں (سنہ 2006 سے سنہ 2021) کے دوران تخلیقی کاموں کو رجسٹر کرنے کی صرف 69646 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔
یاد رہے کہ تخلیقی کام میں صرف گانا نہیں بلکہ فلم، ڈرامہ، دستاویزی فلم، کتابیں، میگزین، لیکچر، ناول، کمپیوٹر پروگرام، پینٹنگز، ڈرائنگز، چارٹ، کیلی گرافی ورک، لوگو، ڈیزائن، مونو گرام، نقشے، ہر طرح کا آڈیو ویڈیو ورک وغیرہ شامل ہیں۔
پندرہ برسوں کے دوران ان 69646 درخواستوں کے عوض کاپی رائٹس سرٹیفیکٹ صرف 32202 کیسز میں دیے گئے۔
پاکستان میں گلوکار، فنکار اور دیگر تخلیقی کاموں سے تعلق رکھنے والے افراد بہت کم ہی اپنے کاپی رائٹس رجسٹر کرواتے ہیں اور اس قانون کی عملداری بھی کمزور دکھائی دیتی ہے۔












