کوک سٹوڈیو: ’کو کو کورینا‘ کا تیا پانچہ کرنے پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

،تصویر کا ذریعہYouTube
- مصنف, حسن بلال زیدی
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
خزاں کا موسم آتے ہی پاکستانی سوشل میڈیا صارفین صرف دو چیزوں کے بارے میں پوسٹ کرتے نظر آتے ہیں: شمالی علاقہ جات میں برف باری یا کوک سٹوڈیو کا نیا سیزن۔ لیکن اس سال تو درختوں کی پت جھڑ کا سلسلے شروع ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا پر صارفین اپنی قابلیت جھاڑنے لگے ہیں۔
یہ کوک سٹوڈیو کا گیارہواں سال ہے، اور اب تک شو کے مداح اس بات کے عادی ہوچکے ہیں کہ ایک شو کے تین گانوں میں سے کوئی تو اچھا ہوگا ہی۔ لیکن اگر آپ ہیش ٹیگ #CokeStudio11 پر نظر دوڑائیں تو زیادہ تر لوگ اسے کوس رہے ہیں۔
ہر سال کی طرح اس بار بھی کوک سٹوڈیو نے ایک کلاسیک گانے کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پچھلے سیزنز میں میشا شفیع کا گایا ہوا ریشماں کا چوری چوری، اور عارف لوہار کے نئے جگنی نے لوگوں کے دل جیتے تھے۔
لیکن ساتھ ہی ساتھ عاطف اسلم نے جب مائیکل جیکسن کے مقبول گیت بِلّی جین کی ٹانگیں توڑیں، یا جب کوک سٹوڈیو نے نظم ہم دیکھیں گے پر بے دردی سے قینچی چلائی تو سوشل میڈیا والے کافی برہم ہوئے تھے۔
لیکن اس بار تو، بقول ٹویٹر، حد ہی ہوگئی!

،تصویر کا ذریعہTwitter
سہیل رعنا کا نام ہمیشہ سے پاکستانی موسیقی کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور ملک میں شاید ہی کوئی ایسا بچہ ہے جس نے اپنے والدین کو کو کو کورینا گنگناتے نہیں سنا ہوگا۔ مجھے اب بھی یاد ہے بچپن میں جنوری کی وہ شام جب میرے والدین ٹی وی کے سامنے بیٹھے وحید مراد کی فلم ’ارمان‘ این ٹی ایم پر دیکھ رہے تھے۔ اس دن میں نے پہلی بار یہ گانا سنا اور تب سے لگتا ہے جیسے یہ میرے دل پر نقش ہو گیا ہو۔
کو کو کورینا کی خوبصورتی اس کے کامپوزیشن کی سادگی ہے۔ محض گٹار پر بنائی گئی اس کی دھن ہر ایک کے دل کو بھاتی ہے۔ شاید اسی لیے یہ گانا ہر عمر اور ہر دور میں پاکستانیوں میں مقبول رہا ہے۔
تو جب مومنہ مستحسن اور احد رضا میر نے اس مقبول گیت کا تیا پانچہ کیا تو ایسا تو ہو نہیں سکتا تھا کہ سوشل میڈیا والے اس بات سے درگزر کر جاتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا ذریعہTwitter
ہر کسی کی پسند، ناپسند میں فرق ہوتا ہے، اسی لیے شاید ایسے بھی لوگ ہوں جنھیں مومنہ مستحسن اور احد رضا میر کا گایا ہوا گیت پسند بھی آئے، اور پھر وہی لوگ سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کے نیچے مجھ پر ’لفافہ جرنلسٹ‘ ہونے کا الزام لگاتے نظر آئیں گے۔ لہذٰا اگر آپ نے تازہ گانا ابھی تک نہیں سنا تو پہلے سن لیں، پھر باقی مضمون پڑھیں۔
یاد تازہ کرنے کے لیے وحید مراد والا ورژن بھی سن لیں اور اگر یادوں میں کھو جانا ہی مقصود ہے تو عالمگیر کا ورژن یہاں دیکھیے۔ شاید غصہ کم ہو جائے۔
بقول چوکیدار: ’جاگتے رہنا، ساڈے تے نہ رہنا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پہلا وار وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کیا، کیونکہ کچھ لوگوں کے نزدیک تو یہ گانا سننا بھی بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس پر مومنہ مستحسن سے بھی نہ رہا گیا اور انھوں نے اپنے فن کا دفاع کچھ یوں کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
مومنہ کی طرف سے سپائڈر مین کے ’انکل بین‘ کی مثال دینے پر سوشل میڈیا صارفین کافی محظوظ ہوئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
کئی سالوں تک، یعنی جب تک روحیل حیات کوک سٹوڈیو کے ساتھ وابستہ تھے، ہمیں گھمنڈ رہتا تھا کہ ’چلو، کم از کم ہمارا والا انڈین کوک سٹوڈیو سے تو بہتر ہی ہے۔‘ لیکن اس گانے کے بعد تو لگتا ہے یہ پتہ بھی ہوا دینے لگا۔
مواد دستیاب نہیں ہے
Facebook مزید دیکھنے کے لیےبی بی سی. بی بی سی بیرونی سائٹس پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے.Facebook پوسٹ کا اختتام
بات اس نہج پر پہنچ گئی کہ وحید مراد کے صاحبزادے عادل کو مداحوں سے معافی مانگنی پڑی۔ انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ’میں نے کوک سٹوڈیو پر بھروسہ کیا، مگر لگتا ہے کہ اب یہ برانڈ احمقوں کے ہاتھ میں ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
یہاں تک کہ گلوکار زوہیب حسن نے بھی کوک سٹوڈیو کے اس سیزن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سال کے گانوں کے معیار سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
صحافی مدیحہ سید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کو کو کورینا کا یہ ورژن اتنا بھی برا نہیں جتنا سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسے بنا دیا ہے، لیکن ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی منجھا ہوا گلوکار اس گیت کے ساتھ ان دونوں سے زیادہ انصاف کر سکتا تھا۔
’مومنہ نے حسبِ توفیق بہت فلیٹ گایا ہے اور احد ایک بناوٹی لہجے میں گا رہے ہیں، بالکل برگر کی طرح۔ شاید وہ یہ دکھانا چاہ رہے ہیں کہ وہ ’اردو میڈیم‘ نہیں ہیں۔ لیکن اس طرح لگتا ہے کہ وہ پیٹ سے نہیں، اپنے حلق سے گا رہے ہیں۔‘
مدیحہ کے مطابق کوک سٹوڈیو تک پہنچنا ہی پاکستانی میوزک انڈسٹری میں ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ ’شاید اسی لیے لوگ بھی اس گانے پر زیادہ تنقید کر رہے ہیں۔ احد کو اپنا لوہا منوانے کے لیے صرف اچھا نہیں، بہت اچھا گانا پڑے گا۔‘
مدیحہ کا کہنا ہے کہ یہ گانا اتنا برا نہیں، لیکن کوک سٹوڈیو کے لیول کا بھی نہیں ہے۔
مزید پڑھیے
جب صحافی اور نقاد عمیر علوی سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں کوک سٹوڈیو کے کو کو کورینا میں کیا خامی ہے، تو انھوں نے سہیل رعنا سے منسوب ایک واقعہ سنایا۔
’جب ترنگ ہاؤس فل کے لیے جیو نے کو کو کورینا کو 2013 میں ریمکس کیا تو میرا سہیل رعنا سے بات کرنے کا اتفاق ہوا۔ وہ اس وقت غصے سے آگ بگولا ہو رہے تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا: انھوں نے مجھ سے پوچھے بغیر گانا ریمکس کیسے کیا؟‘
عمیر علوی کے مطابق کو کو کورینا کی کمپوزیشن کے پیچھے وحید مراد کا بھی ہاتھ تھا۔ ’اکیلے نہ جانا‘ کے گانوں کے لیے سہیل رعنا نے پورا آرکسٹرا استعمال کیا تھا، لیکن جب فلم ’ارمان‘ کی باری آئی تو پرڈیوسر وحید مراد نے انھیں ایک ایسا گانا بنانے کا کہا جس میں کم سے کم ساز استعمال ہوں۔
جب سہیل رعنا نے اعتراض کیا تو کہا جاتا ہے کہ وحید مراد نے ان سے پوچھا: ’کیوں؟ تمہاری تخلیقی صلاحیت جواب دے گئی ہے؟‘
عمیر علوی بتاتے ہیں کہ جب بھی ان کے کسی گانے کے ساتھ چھیڑ خانی ہوتی تو سہیل رعنا کو بہت برا لگتا۔ ’انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ فریدہ خانم کے آج جانے کیضد نہ کرو کو اپنی کامپوزیشن نہیں مانتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ گانا حبیب ولی محمد نے گایا تھا اور ندیم اور شبنم پر فلمایا گیا، اس کا فریدہ خانم سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔‘
اس لحاظ سے بہتر ہوگا کہ سہیل رعنا صاحب اپنے گانے کا کوک سٹوڈیو ورژن نہ ہی سنیں۔ اگر سن لیا تو شاید برداشت نہ کر پائیں۔










