لندن ٹیوب میں کوک سٹوڈیو

،تصویر کا ذریعہCoke studio
- مصنف, حیدر جناح
- عہدہ, لندن
چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں لندن میں ٹرین میں سوار اپنی منزل پر پہنچنے کا انتظار کر رہا تھا کہ کانوں میں ایک مانوس سی آواز آئی۔ کوئی کینیری وہارف سے گزرتی ہوئی ڈرائیور لیس ٹرین میں کوک سٹوڈیو میں گایا ہوا سجاد علی کا گانا سن رہا تھا۔ تانک جھانک کرنے پر پتہ چلا کہ ایک صاحب کانوں میں ہیڈ فونز لگائے کوک سٹوڈیو سن رہے ہیں اور سر دھن رہے ہیں۔
ان کو ہیڈ فونز کہنا غلط ہوگا کہ کافی دور کھڑے ہونے پر بھی مجھے گانا صاف سنائی دے رہا تھا۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور جب اگلے سٹاپ پر لوگ ہلنے جلنے لگے تو چند مسافروں کے پیروں کو کچلتا ہوا میں ان کے پاس پہنچ گیا۔ انیل بھائی کا تعلق انڈیا سے تھا۔
صاحب ذرا ڈر گئے پھر ان کے بتانے پر میں نے بتایا کہ میں کوک سٹوڈیو سن کر کھنچا چلا آیا ہوں، وہ بہت خوش ہوئے۔ انیل نے بتایا کہ ان کے اور ان کی اہلیہ کے تمام دوست احباب صرف پاکستانی کوک سٹوڈیو ہی سنتے ہیں۔ سب دوستوں نے یوٹویوب پر کوک سٹوڈیو آفیشل پیج کو سبسکرائب کر رکھا ہے اور پورے سال ای میلز کا انتظار کرتے ہیں۔
انیل کا کہنا تھا کہ پہلے انڈیا میں لوگ صرف ان پاکستانی فنکاروں کو جانتے تھے جو بالی وڈ میں اپنی قسمت آزما چکے ہیں۔ مگر اب وہ عاطف اسلم، راحت فتح علی خان اور علی ظفر کے علاوہ باقی پاکستانی فنکاروں کو بھی شوق سے سنتے ہیں اور یہ کمال کوک سٹوڈیو کا ہے۔

،تصویر کا ذریعہcoke studio
پہلی مرتبہ کوک سٹوڈیو روحیل حیات نے شروع کیا اور اب سٹرنگز بحیثیت پروڈیوسرز اسے ہر سال ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر پیش کرتے ہیں۔ لوگ اکثر سوشل میڈیا پر بحث کرتے ہیں، کسی کو سٹرنگز کا انداز پسند ہے اور کچھ موسیقی کے متوالے آج تک روحیل کے انداز کو ترجیح دیتے ہیں مگر سنتے سب ہیں، انتظار بھی سب ہی کرتے ہیں۔
انیل سے مل کر ہمیں احساس ہوا کہ فنکار واقعی اس پرندے کی مانند ہے جسے سرحد، فوج، بندوق، ٹینک وغیرہ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ دونوں ملکوں کی فوجیں سرحد پر اور سیاست دان ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انڈیا میں پاکستانی فنکاروں کے ویزے منسوخ ہورہے ہیں، پاکستانی کرکٹرز پر پابندی ہے۔ ان حالات میں انڈیا ہی میں بیٹھے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ مودی سرکار کی ناک کے نیچے یوٹیوب پر کوک سٹوڈیو کے نئے سیزن کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
انیل نے بتایا کہ وہ کراچی جانا چاہتے ہیں۔ میں خوش ہوا مگر سوچنے لگا کہ اگر یہ بے چارہ کراچی چلا گیا تو جائے گا کہاں؟ کراچی کا سمندر تو اب ڈارک براؤن ہوگیا ہے۔ شاپنگ مال تو اس نے انڈیا اور برطانیہ میں بھی دیکھ رکھے ہوں گے۔ لے دے کے قائد اعظم کا مزار ہے جس کو دیکھ کر انیل کو زیادہ خوشی نہیں ہوگی۔ آخر یہ کراچی میں کرے گا کیا؟
ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اسے مشورہ دوں کہ اپنا موبائل فون لندن میں چھوڑ کر کراچی جانا کیونکہ چھن جائے گا کہ اچانک انیل نے کہا کہ وہ کراچی کوک سٹوڈیو دیکھنے جانا چاہتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ کوک سٹوڈیو کوئی ایسی جگہ ہے جہاں روز بلال مقصود اور فیصل کپاڈیا پاکستان کے بہترین موسیقار جمع کر کے 'جیم' کرتے ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہCoke studio
اسے سمجھایا کہ یہ ایک شو ہے جسے تیاری کے بعد سٹوڈیو میں شوٹ کیا جاتا ہے اور مہینوں کی محنت کے بعد آن ایئر کرتے ہی اگلے سال کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ مگر ان کے گردن ہلانے سے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ ہماری بات سمجھ بھی گیا ہے کہ یا نہیں؟
جب بات آگے بڑھانے کے لیے انڈیا کے مشہور موسیقاروں اور ہدایتکاروں کا ذکر چھیڑا تو اس نے کہا کہ ہاں اے آر رحمن، اسماعیل دربار اچھے ہیں مگر کوک سٹوڈیو کی کمپوزیشنز، میوزک ارینج مینٹس زیادہ فریش اور نئے ہیں۔ یہ سن کر دل تو چاہا کہ بھری ہوئی ٹرین میں چیخ چیخ کر سب سے کہیں کہ سنا بدبختو کہ انیل نے ابھی ابھی کیا کہا؟ مگر ہم گھٹ گھٹ کر خوش ہوتے رہے اور سینہ پھلاتے رہے۔ ایک اندازے کے مطابق کوک سٹوڈیو میں 190 سے زیادہ افراد کی ان تھک محنت شامل رہتی ہے۔ ایک گانے میں چھ سے 35 تک سازوں کا استعمال ممکن ہے۔
کوک سٹوڈیو کو یوٹیوب پر مجموعی طور پر ساٹھ کروڑ سے زائد ہٹس مل چکی ہیں۔ عاطف اسلم نے ’تاجدار حرم‘ گایا اور میشا شفیع اور عارف لوہار نے الف اللہ، صرف ان دو گانوں کو پانچ کروڑ سے زیادہ دفعہ یوٹیوب پر دیکھا جا چکا ہے۔
کوک سٹوڈیو میں گلوکاروں کے علاوہ میوزک ڈائریکٹرز کو بھی موقع دیا جا رہا ہے۔ سجاد علی، علی حمزہ، شانی ارشد، میکال حسن، سلمان احمد، شجاع حیدر، جعفر زیدی اور ساحر علی بگا سب نے گانے ڈائریکٹ کیے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہی لوگ آگے چل کے پاکستان میں فلمی موسیقی کو بحال کریں گے، جس کی اشد ضرورت ہے۔

،تصویر کا ذریعہyou tube
کوک سٹوڈیو پر بات کرتے ہوئے آخر میں انیل نے ہم سے ایک ایسا سوال پوچھا کہ ہم کچھ دیر کو خاموش ہوگئے۔ وہ کہنے لگا کہ کوک سٹوڈیو میں ہر سال آپ کسی نہ کسی کو خراج تحسین ضرور دیتے ہیں۔ پچھلے سال امجد صابری اور اس سال جنید جمشید اور عامر ذکی ہم میں نہیں رہے۔ میں سوچتا ہی رہ گیا کہ انیل کو کیا جواب دیا جائے؟ سوچا کہہ دوں اتفاق ہے مگر پھر خود ہی شرم آئی۔
اتفاق سے گہری چوٹ لگے تو اسے حادثہ کہتے ہیں اور جنید جمشید یا امجد صابری کا یوں اتنی جلدی چلے جانا ایک ایسا زخم ہے جو جلد بھر نہیں پائے گا۔
میں نے انیل کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انیل نے بھی بات نہیں دہرائی۔ اس کی خاموشی میں ایک تعزیت تھی جس کا ہر پاکستانی عادی ہوچکا ہے۔
پٹنہ سے آئے ہوئے آئی ٹی سپروائزر انیل اپنے سٹاپ پر اترے تو ان کے کانوں میں کوک سٹوڈیو سیزن 10 کے آخری پروگرام کا نغمہ زور زور سے بج رہا تھا۔ مولانا طارق جمیل کا تو پتہ نہیں مگر جنید جمشید کی روح ضرور خوش ہوگئی ہوگی۔
ہم کیوں چلیں اس راہ پر، جس راہ پر سب ہی چلیں
کیوں نہ چنیں وہ راستہ، جس پر نہیں کوئی گیا








