میرے ہم سفر: لوگ کہتے ہیں میری آنکھیں بولتی ہیں، یہ میرے لیے سب سے بڑا ایوارڈ ہے، فرحان سعید

فرحان

پاکستان میں نجی انٹرٹینمنٹ چینل پر ڈرامہ ’میرے ہم سفر‘ شروع ہوا تو کسی روایتی ڈرامے کی کہانی جیسا تھا جس میں ایک لڑکی (ہانیہ عامر) معاشرے کے ظلم و ستم برداشت کرتی نظر آتی ہے لیکن چند قسطوں کے بعد اس کہانی میں فرحان سعید کی انٹری ہوتی ہے جو ایک پڑھا لکھا اور سمجھدار انسان ہے اور ہانیہ کا سہارا بنتا ہے۔

یوں ڈرامے کی کہانی بدل جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر تبصروں کی روشنی میں فرحان سعید اور ہانیہ عامر کے کرداروں کو ایک اور مشہور ڈرامے ’ہمسفر‘ سے بھی جوڑا جا رہا ہے جس میں فواد خان اور ماہرہ نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔

براق شبیر نے بی بی سی کے لیے فرحان سعید سے اس کردار، ڈرامے اور بطور موسیقار ان کی زندگی پر تفصیلی بات چیت کی۔

’ہٹ ہونے کے بعد اپنا ہی کام نیا لگنے لگتا ہے‘

اداکار اور گلوکار فرحان سعید اس ڈرامے کی کامیابی پر خوش ہیں اور اسے اپنی محنت اور لوگوں کا پیار قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ لوگوں کو دیو مالائی کہانیاں اچھی لگتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں اس ڈرامے کی پوری کاسٹ نے بہت زبردست اداکاری کی ہے۔ صبا حمید ہوں یا ہانیہ ہو، سب نے اپنے کردار کو بہت اچھے طریقے سے نبھایا ہے۔ اس میں جذباتی پہلو بہت اچھا تھا اور یہی لوگوں کے ساتھ کنیکٹ کر گیا۔‘

فرحان سعید کے خیال میں اگر یہ پتا چل جائے کہ ہٹ ڈرامے کا کیا فارمولا ہے تو سب وہی بنائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا ’کبھی آپ سوچتے ہیں کہ یہ اچھا چلے گا لیکن نہیں ہوتا، کسی کے بارے میں سوچتے ہیں کہ اچھا نہیں ہو گا، لیکن وہ بہت اچھا چلا جاتا ہے۔ میں نے نہیں سوچا تھا کہ ’میرے ہم سفر‘ اتنا اچھا جائے گا۔‘

’تو بس جو لوگوں کو اچھا لگے، ہم اسی پر خوش ہیں۔‘

فرحان سعید کہتے ہیں کہ انھوں نے سنو چندا سمیت اپنے کسی ڈرامے کے بارے میں یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ اچھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے بطور گلوکار ایک دلچسپ بات دیکھی کہ جب ’وہ لمحے‘ میں گا کر سٹوڈیو سے نکلا تو مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ گانا ہٹ ہو جائے گا۔ لیکن جب وہ چیز اچھی بن جاتی ہے تو آپ کسی اور کان سے سنتے ہیں، کسی اور آنکھ سے دیکھتے ہیں کہ اچھا لوگوں کو اس میں کیا بہتر لگا۔‘

’تو آپ پہلے سے نہیں جان سکتے کہ کیا ہٹ ہو گا اور کیا نہیں۔ آپ کو اپنا ہی گانا اچھا لگنا شروع ہو جاتا ہے جب وہ ہٹ ہو جاتا ہے، آپ کو اپنا ہی ڈرامہ یا کام نیا اور اچھا لگنا شروع ہو جاتا ہے جب لوگوں کو اچھا لگتا ہے۔‘

اداکار فرحان سعید کا کہنا تھا کہ ’اپنی تعریف کو سن کر کس کو اچھا نہیں لگتا۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ لوگوں سے اتنا پیار ملے گا اور لوگ کہیں گے کہ یہ آنکھوں سے بولتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’جب مجھے سنو چندا کے لیے چار ایوارڈز ملے تو اُس دن ایک اور ایکٹر کو چار ایوارڈ ملے جو نعمان اعجاز تھے، اس سے بڑا کمپلیمنٹ میرے لیے کوئی نہیں ہو سکتا۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ ایسا ہوا لیکن میں چاہتا ہوں کہ ایسی رات پھر آئے اسی کے لیے کام کر رہا ہوں۔ صرف ایوارڈ کے لیے نہیں۔‘

فرحان سعید کا کہنا تھا کہ ’جہاں لوگ ہماری کام کی تعریف کرتے ہیں وہیں تنقید بھی کرتے ہیں لیکن ان سب کو پروقار انداز میں لینا چاہیے۔ ‘

فرحان سعید

،تصویر کا ذریعہMERE HAMSAFAR/ARY

’اگر مجھے کہیں کہ لڑکی پر ہاتھ اٹھاؤ یا مارو، تو میں نہیں کروں گا‘

فرحان سعید کا کہنا تھا کہ آج کل ہر ڈرامے میں وہی سب ہے جو اس ڈرامے (میرے ہم سفر) میں ہے اسی لیے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون سا ڈرامہ عوام کو اچھا لگ جائے گا۔

ان کا کہنا تھا ’یہ پہلا ڈرامہ نہیں جس میں یہ سارے مسالے ڈالے گئے ہوں۔ اس طرح کے ہزار ڈرامے بنتے ہیں لیکن وہ ہٹ نہیں ہوتے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح کا پراجیکٹ کروں گا۔ یہ میری طبیعت سے ہٹ کر تھا جو کچھ پہلی سات قسطوں میں ہو رہا تھا میرے کردار کے آنے سے پہلے۔ میں تو وہی کر رہا ہوں جو میری طبیعت ہے۔‘

فرحان سعید کا کہنا تھا کہ ڈراموں کو معتدل ہونا چاہیے ’کیونکہ ہر چیز روشنی نہیں ہے۔‘

’اگر مجھے کوئی یہ کہے کہ لڑکی پر ہاتھ اٹھاؤ یا مارو، تو میں نہیں کروں گا۔ آیڈیلزم دکھائیں گے تو غلط ہو گا، بالکل نیگیٹیوٹی دکھائیں گے تو وہ بھی غلط ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’بالکل آئیڈیل تعلق دکھائیں گے تو لڑکوں اور لڑکیوں کی توقعات غلط ہو جاتی ہیں۔ تو آپ فرشتہ نہیں بیچ سکتے، آسان ہے بیچنا، لیکن نہیں کرنا چاہیے۔‘

فرحان سعید کا کہنا ہے کہ ان کا کردار حقیقت کے قریب ہے۔ کیونکہ جو کچھ فلمایا جاتا ہے اس میں کچھ چیزیں سکرین پلے میں نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا ’سکرپٹ میں نہیں لکھا تھا کہ وہ اس کا ڈریس ٹھیک کرے گا۔‘

انھوں نے ڈرامے کے ڈائریکٹر قاسم علی مرید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پہلے دن واضح کر دیا تھا کہ یہ حمزہ پریم گلی کے حمزہ سے مختلف ہے۔

’یہ لڑکا باہر سے آیا ہے، پڑھا لکھا ہے۔ احترام کرنے والا ہے، ہر کردار میں کچھ کچھ آپ خود ہوتے ہیں اور کچھ آپ اس کردار سے سیکھتے ہیں۔ ایسے ہی اس میں کچھ چیزیں میری ہیں اور کچھ میں اس سے سیکھ کر گھر لایا ہوں۔‘

فرحان سعید کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں ان کے کردار کو بہت مناسب وقت پر لایا گیا جس کی وجہ سے ڈرامے میں خوبصورتی آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی پراجیکٹ مجموعی طور پر ایک غلط پیغام چھوڑ کر جائے تو کسی ایسے پراجیکٹ کا حصہ نہیں بنوں گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’کبھی کبھار اداکاروں کو پتہ بھی نہیں چلتا اور وہ ایسے پراجیکٹ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بس آنکھ، کان کھول کر سیٹ پر رہنا چاہیے۔‘

فرحان سعید

،تصویر کا ذریعہMERE HAMSAFAR/ARY

’میں تو سیٹ پر زیادہ بات نہیں کرتا‘

دیگر فنکاروں کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ فنکاروں کے ساتھ وہ کئی بار کام کر چکے ہیں لیکن وہ سیٹ پر زیادہ بات نہیں کرے اور اپنے فون کے ساتھ لگے رہتے ہیں یا گیمز کھیلتے ہیں۔

’میں اور اقرا بھی ’سنو چندا‘ کے سیٹ پر اتنا بات نہیں کرتے تھے۔ لیکن سین دیکھ کر لگتا ہے شاید ہم بات ہی کرتے رہتے ہوں گے۔‘

ساتھی اداکارہ ہانیہ عامر سے کیمسٹری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’مجھے خود سمجھ نہیں آئی کہ کیمسٹری بنتی کیسی ہے؟ خوش قسمت ہوں میں نے جس کے ساتھ بھی کام کیا ہمیں بیسٹ جوڑی کا ایوارڈ ملا۔ جیسے اڈاری میں اُروا، پریم گلی میں سوہائے، سنو چندا میں اقرا اور اب اس میں کیمسٹری کام رہی ہے۔ ‘

’ہانیہ کے ساتھ بھی کیمسٹری مل گئی کیوں کہ ہم اس کیریکٹر میں چلے گئے۔ کیمسٹری کا فارمولہ تو مجھے نہیں پتا لیکن یہ بن جاتی ہے یا نہیں بنتی۔‘

فرحان سعید کہتے ہیں کہ ’یہ ضروری نہیں کہ سیٹ سے باہر دشمنیاں ہوں لیکن اگر اداکاروں میں دوستیاں ہوں گی اور وہ ناراض ہو جائیں گے تو پھر سین میں بھی دکھائی دے گا۔ اچھا ہے ناں ایک شفاف سلیٹ ہے اور کام کریں۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہانیہ اور میں بات کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ہر وقت بات کرتے رہتے ہوں۔‘

تاہم فرحان سعید سینیئر اداکاروں سے بات چیت کو وہ اہم سمجھتے ہیں کیونکہ اس سے انھیں سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہر کسی کا اپنا طریقہ ہوتا ہے کام کا۔ مجھے سیکھنے کا موقع ملتا ہے سینیئر لوگوں سے جیسے صبا حمید، ثمینہ احمد، وسیم عباس سے بہت گپ لگتی ہے۔ اگر انھوں نے غصہ کرنا ہے تو کیسے کریں گے، اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو آپ سیکھتے ہیں۔‘

فرحان سعید کا کہنا تھا کہ ’میں نے کھبی سوچ کا کردار نہیں کیے۔ یہ ڈرامہ بالکل ایک گلدستے کی طرح ہے جب سارے پھول اچھے ہوں تو بیچ کے ایک دو پھول بھی اچھے لگتے ہیں، اور وہی بات کہ لوگوں کو دیو مالائی کہانیاں پسند آتی ہیں۔‘

’ڈراموں میں زیادہ رومانس ہونا چاہیے‘

ڈراموں کے شائقین انھیں ڈارمہ ’ہم سفر‘ کے فواد خان سے بھی ملاتے ہیں۔ اس پر فرحان سعید کہتے ہیں کہ انہیں اچھا لگا کیونکہ انہیں فواد بہت پسند ہیں۔

’فواد یونیورسٹی میں میرے دو سال سینیئر تھے اور جب میں جل بینڈ میں تھا تو وہ ای پی بینڈ میں تھے۔ تو ہمارا میوزک کیریئر بھی اکھٹا تھا۔ میں نے داستان دیکھا تو ایک فلم کا پریمیئر تھا جس پر فواد آئے تھے۔ تو میں خاص طور پر ان کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ میں نے داستان دیکھا اور مزہ آ گیا۔ تو انہیں لگا میں مزاق کر رہا ہوں کیونکہ میں آٹھ سال بعد بتا رہا تھا لیکن میں سچ کہہ رہا تھا۔‘

فرحان سعید کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے اس کے بعد کسی نے رومانس ہی نہیں کیا ڈراموں میں۔ بمیرا خیال ہے کہ ڈراموں میں زیادہ رومینس کرنا چاہیے۔‘

اپنے ایسے ہی ایک رومانوی ڈرامے کا ایک اور سیکوئل میں کام کرنے کے لیے مشروط حامی بھری۔

فرحان سعید کا کہنا تھا کہ ’سنو چندا تھری بنے گا تو میں حاضر ہوں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کاسٹ نہیں کرنا چاہتی، میں کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن ایک شرط ہے کہ مجھے سٹوری پڑھ کر مزہ آئے۔ ریپیٹ نہ ہو۔‘

ان کا کہنا تھا ’لوگوں نے عزت دی اس برینڈ کو۔ ان کرداروں کو عزت ملی تھی۔ انہی کرداروں کو کسی اور کہانی میں ڈالیں اور پھر دیکھیں۔ سٹوری بدل دیں۔ ہمارے ہاں شادی کے بعد رومانس نہیں ہوتا۔‘

’لوگوں کو کرداروں سے پیار ہے، میرا مشورہ ہے کہانی بدل دیں۔‘

فرحان سعید

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفرحان دس سال ’جل‘ میوزک بینڈ کے ساتھ رہے

یہ بھی پڑھیے

میوزک بینڈ کیوں چھوڑا؟

فرحان پہلے ایک موسیقار تھی اور پھر اداکاری میں آ گئے۔ ’میوزک اور ایکٹنگ نے مجھے چنا۔ میں فاسٹ میں تھا اور میں نے اپنے کالج میں دوستوں کے لیے گایا۔ وہاں ذلفی جو کوک سٹوڈیو کے اب پروڈیوسر ہیں، وہ بھی سینیئر تھے، انھوں نے مجھے گوہر سے ملوایا اور سب سے پہلا گانا جو میں نے گایا وہ تھا ’وہ لمحے۔ میں اس وقت اٹھارہ سال کا تھا۔ بس اس کے بعد مڑ کر نہیں دیکھا۔‘

بینڈ چھوڑنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’’دس سال میں جل میوزک بینڈ کے ساتھ رہا۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ بینڈ کیوں ٹوٹتے ہیں تو میرے خیال میں لوگ بدلتے ہیں۔ کچھ اختلافات ہوئے، میوزک پر بھی، اور پرسنل لیول پر بھی۔‘

فرحان سعید کا کہنا تھا ’جل جب ختم ہوا میرے پاس کوئی گانا نہیں تھا۔ اور مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کہ میں نے اب کیا کرنا ہے۔ اس وقت میں پہلے انڈیا گیا، مجھے متھن نے کچھ گانوں کی ریکارڈنگ کے لیے بلایا، اس کے بعد پانچ گانے یہاں کیے۔ بس جو دل چاہا جو کیا۔‘

فرحان سعید کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں پہلے ڈرامے کی پیشکش فہیم برنی نے کی لیکن انہیں اداکاری کے لیے بارہا پیشکش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے کچھ پتہ نہیں تھا ڈرامے کا۔ اس سے پہلے مجھے انڈیا میں ڈائریکٹر پرلات کھکڑ نے مجھے ایک فلم کی آفر کی تو میں نے کہا کہ میں ایکٹنگ نہیں کرتا۔‘

’انھوں نے پوچھا ایک وقت میں دو تین لڑکیوں سے بات کرتے ہو؟ میں نے کہا ہاں تو انھوں نے کہا پھر تو ایکٹنگ کرتے ہو۔‘

فرحان سعید کے بقول انھوں نے اداکاری کی تمام ابتدائی پیشکشوں کو قبول نہیں کیا۔ ’متھن چکروتی نے ایک فلم آفر کی، وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کاسٹ کرنا چاہتے تھے، میں نے وہ بھی نہیں کی۔ کیوں کہ میں میوزک پر فوکس کر رہا تھا۔‘

لیکن بالآخر فرحان سعید نے اس میدان میں قسمت آزمائی کر ہی ڈالی۔ پاکستان آنے کے بعد انھوں نے ایک ڈرامہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے بعد ’اڈاری‘ کیا جس نے سب بدل دیا، میرے لیے اڈاری وہ لمحے تھا۔ تو ایکٹنگ کی ٹرانزیشن ہوئی۔ اور شکر ہے کہ مجھے زیادہ کچھ نہیں کرنا پڑا۔ میں میوزک اور ایکٹنگ دونوں کرنا پسند کرتا ہوں۔ ‘

فرحان سعید کہتے ہیں ’جب میں سیٹ سے تنگ ہوتا ہوں تو میوزک کر لیتا ہوں، ٹور کر لیتا ہوں، پھر اس سے تنگ آتا ہوں تو سیٹ پر واپس آ جاتا ہوں۔ ‘