اے مشت خاک: اداکارہ عفت عمر ’متنازع‘ ڈرامے کا حصہ بننے پر ’شرمندہ‘ کیوں ہیں؟

’جب میں نے سکرپٹ پڑھا تو مجھے اس سے نفرت ہوئی کیونکہ اس کی زبان وہ نہیں جو عام زندگی میں آپ بولتے ہیں۔ پھر میری ملاقات ہدایتکار احسن تالش سے ہوئی جن کے ذہن میں تھا کہ ہم نے اسے ایسے ہی کرنا ہے۔ آج کل سکرپٹ میں اندھوں میں کانا راجا کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور یہ وہی کانا راجا تھا۔‘
یہ کہنا ہے اداکارہ عفت عمر کا جو ان دنوں ڈرامہ ’اے مشت خاک‘ میں فیروز خان (مستجاب) کی والدہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس ڈرامے کو لے کر سوشل میڈیا پر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ اس میں بغیر کسی وارننگ کے خواتین پر تشدد کے مناظر کو شامل کیا گیا ہے۔
صحافی براق شبیر کو دیے گئے انٹرویو میں عفت عمر کا ’اے مشت خاک‘ کے سکرپٹ پر کہنا تھا کہ ’اگر مجھے سکرپٹ پسند نہیں آیا تو یہ مطلب نہیں کہ پبلک کو بھی پسند نہیں آیا۔ مجھے تو بہت سی چیزیں پسند نہیں آتیں جو بہت ہِٹ ہو رہی ہوتی ہیں۔ لوگ اسے بہت زیادہ پسند کر رہے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس میں یہی چیز اچھی لگی تھی کہ اس میں ماں کا کوئی کام ہے۔ ظاہر ہے میں مرکزی کردار کرتے ہوئے کریکٹر کردار کرنے والے اداکاروں میں آئی ہوں۔ میرے لیے یہ انتخاب آسان نہیں کہ چائے والی ماں بن جاؤں۔ مجھے گہرے کردار دیں، میں وہ کروں گی۔ میں ایک اداکار ہوں، مجھے اسی کے پیسے ملتے ہیں۔‘
’اس عمر میں آپ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ آپ جو کر رہے ہو آپ اس سے متفق ہوں۔ اے مشت خاک میں جو تشدد دکھایا گیا ہے، بچے کا کردار جیسا دکھایا گیا ہے، آپ کو یہ چیزیں نہیں دکھانی چاہییں، میں اس کے بالکل خلاف ہوں۔‘
’اگر دکھانی بھی ہیں تو تنبیہ دے کر دکھائیں کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ میں پراجیکٹ کا حصہ ہوں لیکن میں تشدد دکھانے کے خلاف ہوں۔۔۔ میں کسی حد تک اس پر شرمندہ بھی ہوں۔‘
اس ڈرامے کی ایک قسط میں مرکزی کردار مستجاب (فیروز خان) اپنی سابقہ گرل فرینڈ شیزہ (نمرہ خان) کا گلا دباتا ہے اور گلے سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے صوفے پر پٹخ دیتا ہے۔
اس ڈرامے میں اداکار فیروز خان اور ثنا جاوید مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جس میں فیروز خان کو ایک بگڑے ہوئے ضدی، انا پرست اور مذہب بیزار شخص دکھایا گیا ہے جو دعا (ثنا جاوید) کی محبت میں گرفتار ہو کر اس سے شادی کر لیتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@HARPALGEOTV
اے مشت خاک کا حوالہ دیتے ہوئے عفت عمر بتاتی ہیں کہ ’شوٹنگ کے دوران ایک جگہ تھپڑ مارنے کا سین تھا تو میں نے مطالبہ کیا کہ کوئی کسی کو تھپڑ نہیں مارے گا۔ اور میرے خیال سے ہمارے نوجوان اداکاروں کو بھی یہ ذمہ داری لینی چاہیے کہ ہم اپنی اداکاری، سٹوری اور فیم کے ساتھ ایک بیانیہ بنا رہے ہوتے ہیں۔‘
’جتنا آپ مشہور ہوتے ہو، اس کردار کو لوگ اتنا ہی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ بچوں کو ذمہ داری لینی چاہیے کہ پولیٹیکلی کوریکٹ چیز کیا ہے۔ اب ہم پولیٹیکلی اِنکوریکٹ برداشت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ آپ کی فوراً ٹرولنگ شروع ہو جاتی ہے جو کہ ایک طرح سے ٹھیک بھی ہے لیکن ہمیں بہت ذمہ دار ہونے کی ضرورت ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے کبھی کوئی تشدد کرنے کا کہے یا میرے پر ہو رہا ہو تو میں اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ میں نے کوشش کی، پہلے تو عقل نہیں ہوتی تھی آپ بڑی چیزیں کر جاتے تھے۔ اس عمر میں جا کر عقل آتی ہے تو آپ ذمہ دار ہو جاتے ہیں۔‘
’آج کل کے اداکاروں کے نخرے زیادہ ہے، ان کو الگ کمرے اور میک اپ آرٹسٹ چاہییں‘
ساتھی اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا، اس سوال پر وہ بتاتی ہیں کہ ’فیروز اور ثنا دونوں بہت عزت دیتے تھے۔ میں نے ان بچوں سے بہت سیکھا کیونکہ ان بچوں کے نخرے بہت ہیں تو میں نے سوچا اچھا اگر یہ کر سکتے ہیں تو کیا میں نہیں کر سکتی۔
’ظاہر ہے یہ اب ان کا وقت ہے، بڑا کچھ بدل گیا ہے۔ اب انھیں اپنے الگ کمرے، ان کے اپنے میک اپ آرٹسٹ، انھیں سرو کرنے والے چاہییں۔ صحیح بات ہے اداکاروں کا یہی گلیمر ہونا چاہیے، ہمارے زمانے میں تو نہیں تھا، اب ان سے دیکھ دیکھ کر ہم بھی مانگیں گے۔
’کیوں نہ اداکاروں کو بھی وہ تمام سکون ملے جو اس نے اداکاری کرنی ہے اس میں اسے وہ تمام سہولت ملنی چاہیے۔‘
مگر وہ زیادہ ڈراموں میں کام کرتی نظر کیوں نہیں آتیں، اس پر عفت کہتی ہیں کہ ’میں لاہور میں رہائش پذیر ہوں اور ایک فیملی پرسن ہوں۔ میرے لیے کراچی جا کر بار بار کام کرنا بہت مشکل ہے۔ اور یہ میں نے تین ڈرامے اوپر نیچے کیے ہیں تو قریب ایک سال کے لیے میں کراچی میں تھی۔‘
’پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ ناکافی ہے۔ یا تو آپ ایسا کام کریں جو آپ کو تجسس اور حیرت میں مبتلا کر دے۔ جب وہ کام بھی نہیں مل رہا اور سکرپٹ بھی ایسے نہیں مل رہے جنھیں میں بخوشی کروں اور ذمہ داری کے ساتھ کروں کہ ہم کوئی صحیح بیانیہ، صحیح پیغام دے رہے ہیں، وہ بھی نہیں مل رہا۔‘
’پیسے بھی ٹھیک نہیں مل رہے، کام بھی ایسے مشکل سے ہوتا ہے۔ ایک عجیب ٹھیکے داروں کا ٹھیکہ بن گیا ہے۔ کسی کاروبار کی طرح کہ اتنے سینز اگر ایک دن میں نہ ہوئے تو بزنس ڈوب جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہInstagram/ferozekhan
’فیروز کے دو ڈرامے ہٹ ہوئے تو فیروز کو وہی کردار واپس مل گیا‘
عفت کہتی ہیں کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں اچھے سکرپٹ بھی لکھے جا رہے ہیں مگر وہ ان کے معیار سے خوش نہیں۔ ’مجھے زیادہ تر غیر ذمہ دارانہ سکرپٹ نظر آتی ہے جو مجھے پریشان کرتی ہے۔‘
’ہماری عمر کی خواتین کے بارے میں کہانی نہیں لکھی جاتی۔ ہم بھی کچھ کہانیوں کا حصہ ہیں جو معاونت کر رہی ہیں لیکن مرکزی کردار کی کہانیاں تو ہمیں اب نہیں ملتی۔ انڈیا نے ایسا شروع کیا، باہر تو ایسا بہت ہو رہا ہے کہ اداکارائیں اپنے لیے کہانیاں بھی لکھ رہی ہیں اور ادارکاری بھی کر رہی ہیں لیکن ہمارے ہاں ابھی بہت وقت لگے گا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ایسے ماحول میں بزنس ہو سکتا ہے لیکن اداکاری کے لیے آپ کو ایک ماحول چاہیے۔ ’ہدایت کار کا بہت زیادہ پیار چاہیے، بہت زیادہ ان کی سپورٹ چاہیے اور اداکار کو بہت توجہ چاہیے۔‘
’لیکن اب یہ ایک بزنس اور ٹھیکہ بن چکا ہے جس کا مزہ نہیں آتا۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ میں بہت امیر ہوں لیکن شکر ہے میں شادی شدہ ہوں میرا میاں مجھے دو وقت کی روٹی کھلا دیتا ہے۔ تو یہ میری آمدن کا ذریعہ نہیں۔ (اس لیے) میں انتخاب میں زیادہ دھیان دے سکتی ہوں۔ لیکن ایسے اداکار ہیں جن کے لیے یہ آمدن کا ذریعہ ہے اور مجھے یقین ہے وہ نہیں کر سکتے ہوں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے
اس کی مثال وہ فیروز خان کے کردار کے حوالے سے دیتی ہیں جن کے ’دو ڈرامے ہِٹ ہوئے تو وہی کردار واپس مل گیا جو خاص ان کے لیے لکھوایا گیا ہے۔‘
’حالانکہ فیروز میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ کوئی بھی کردار کر سکے۔ اگر اس کے لیے آپ وہی کردار لکھوا رہے ہو جو وہ پچھلے 10 ڈراموں سے کر رہا ہے تو پھر فیروز کو بھی سوچنا چاہیے اور مجھے بھی سوچنا چاہیے۔ یہ اب اس لیے آسان ہو گیا ہے کیونکہ اداکار کما رہے ہیں۔ جو کما رہے ہیں ان کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہNative Media/Iffat Omar
’میرا دل کرتا ہے تو سرخ لپسٹک، چھوٹے کپڑے پہنتی ہوں‘
سوشل میڈیا پر عفت سمیت پاکستانی اداکاروں کی تصاویر پر عمر، کپڑوں یا انداز کو لے کر ٹرولنگ اور تنقید عام سی بات ہے۔
مگر عفت کے مطابق وہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بننے کے باوجود ’سوشل میڈیا کو بالکل سنجیدگی سے نہیں لیتیں۔‘
’میرا وقت تو چلا گیا میں تو صرف اب لطف حاصل کر رہی ہوں دوسروں کو دیکھ کر۔ میں صرف انھیں دیکھتی ہوں اور ان کے لیے خوش ہوتی ہوں کہ اس سے انھیں شہرت اور مالی مفاد مل رہا ہے۔۔۔ میں پرانے لوگوں میں سے ہوں جنھیں وقت کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوتا ہے۔ میرے خیال سے یہی چیز مجھے اب تک قائم رکھے ہوئے ہیں۔‘
مگر ایسا نہیں کہ انھیں بعض کمنٹس پر غصہ نہیں آتا۔ ’جب مجھے بہت غصہ آ جائے تو میں (سوشل میڈیا پر) جواب بھی دیتی ہوں چاہے بات عمر کی ہو جو بہت زیادہ ہوتا ہے، جیسے سرخ لپسٹک کیوں لگائی، آپ نے ایسے کپڑے کیوں پہنے۔‘
’دیکھوں میں بھی پہلی بار پچاس سال کی ہو رہی ہوں۔ مجھے اس بارے میں پہلے نہیں پتا تھا۔ مجھے بھی لگتا تھا کہ میں کسی کونے میں بیٹھ جاؤں گی لیکن میں ایسا نہیں سوچتی۔ میں ویسی ہی رہتی ہوں۔ میں کسی کا کیا لے رہی ہوں، بس اپنی زندگی گزار رہی ہوں۔‘
وہ دوٹوک انداز میں کہتی ہیں کہ ’میرا دل کرتا ہے تو سرخ لپ سٹک لگاتی ہوں، میرا دل کرتا ہے تو چھوٹے کپڑے پہنتی ہوں۔ کسی کا کچھ نہیں لے رہی یہ میری زندگی ہے۔ اور کسی کو حق نہیں کہ میری حوصلہ شکنی کرے یا تنقید کرے۔ میرا جسم ہے، میری مرضی ہے۔‘
وہ سوشل میڈیا پر معروف شخصیات کی پوسٹوں پر ٹرولنگ کے بڑھتے رجحان پر کہتی ہیں کہ ’صرف میری عمر کی نہیں بلکہ میرے سے چھوٹی لڑکیوں کے ساتھ بھی ایسا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ہمارے ملک میں یہ سمجھتے ہیں کہ عورت بوڑھی ہو کر مردہ کی زندگی گزارے۔
’بھائی تم لوگ بھی جب پچاس سال کے ہو گے تو پتا چلے گا کہ دل جوان ہی رہتا ہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جیو اور جینے دو، جب تک کوئی آپ کو نقصان نہیں پہنچا رہا۔ میں کیا پہن رہی ہوں اور اپنے لیے کیا کر رہی ہوں اسسے کسی کو کیا تکلیف ہے۔‘
’نعمان اعجاز والا تنازع تو ابھی تک پیچھے پڑا ہوا ہے‘
اداکاری کے علاوہ عفت عمر اپنے شوز کے ذریعے انٹرویوز بھی کرتی ہیں اور انھیں یہ تجربہ کافی اچھا لگا ہے۔
’بہت سارے انٹرویوز میں مجھے بہت مزہ آیا کیونکہ میرا تعلق اسی شعبے سے ہے اور اب عمر کے اس حصے میں ہوں جب ہر کوئی مجھے عزت دیتا ہے۔۔۔ جو سوال عام لوگ نہیں پوچھ پاتے وہ میں نے پوچھے اور ان کے جواب بھی آئے۔‘

،تصویر کا ذریعہINSTAGRAM
’میری زندگی کا ہمیشہ سے یہ (اصول) رہا ہے جب میں ٹاپ پر ہوتی ہوں تبھی وہ چھوڑتی ہوں۔ میں ایک ٹاپ ماڈل تھی، میں صرف 24 سال کی تھی جب میں نے ماڈلنگ چھوڑ دی۔ یہ وہ عمر ہے جب لوگ ماڈلنگ شروع کرتے ہیں۔
’پھر 10 سال تک میں نے اداکاری نہیں کی کیونکہ میری شادی ہو گئی تھی۔ اداکاری میں آ کر بھی میں اب بریک لے رہی ہوں، شاید اس کے بعد کام نہیں کروں گی۔ شاید کوئی بہت اچھا کام آ جائے کہ اتنی اچھی پیشکش آ جائے۔ اس لیے کبھی ناں نہیں کرنا چاہیے۔ اب سوچ لیا ہے کہ کام وہی کرنا ہے جو دل کرے گا۔ ایسے ہی نہیں کر لینا۔‘
وہ اپنے شو کو ’ایک گھنٹے تک بغیر بریک ریکارڈ‘ کرتی ہیں اور اسے سینسر نہیں کرتیں ’اسی لیے تنازعات ہوئے۔‘
ان کے شو 'سے اِٹ آل وِد عفت' میں اداکار نعمان اعجاز سے متعلق ایک تنازع نے اس وقت جنم لیا جب انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ 'میں اتنا ذہین شخص اور اتنا اچھا اداکار ہوں کہ میں نے بیگم کو کبھی پتا ہی نہیں چلنے دیا۔۔۔ اور جن کے ساتھ عشق کر رہا ہوتا ہوں ان کے شوہروں کو بھی نہیں پتا چلتا۔‘ تبھی عفت عمر مسکراتے ہوئے انھیں کہتی سنائی دیتی ہیں ’ارے واہ، مجھے آپ سے کچھ چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘
اس تنازع پر عفت بتاتی ہیں کہ ’نعمان اعجاز والا تنازع تو ابھی تک پیچھے پڑا ہوا ہے۔ کسی کو کوئی ایشو نہیں ہوا۔ لیکن جو نومی کے ساتھ ہوا، وہ میرے بہت اچھے دوست ہیں اور میرا پہلا ڈرامہ ان کے ساتھ تھا۔ تب اتنا پُرسکون ماحول تھا، وہ طنزیہ انداز میں بات کر رہے تھے اور میں نے بھی مذاق میں ہی لیا۔‘
’یہ بالغ افراد کا شو ہے جو رات کو لگتا ہے تو ہم نے سوچا اس میں کیا سینسر کریں۔ کوئی نیشنل ٹی وی پرنہیں آ رہا۔ اسے غلط سمجھا گیا اور سکینڈل بنا۔ مجھے نومی کے سامنے شرمندگی بھی ہوئی کہ میری وجہ سے اسے اس کا سامنا کرنا پڑا۔ کاش میں اسے سینسر کر دیتی۔
’مجھے اندازہ نہیں تھا کہ لوگ اس مذاق کو اتنا سنجیدگی سے لیں گے۔ تنازعات تو بنتے ہیںجب آپ منھ سے بات نکال دو اور وہ بات نکل گئی ہے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’بہت سے لوگ مجھے پسند نہیں کرتے کیونکہ میں سیاست، اپنی پسند اور ناپسند پر کھل کر بات کرتی ہوں۔ میں ایک فیمنسٹ ہوں،میرا جسم میری مرضی پر میں بہت زیادہ یقین رکھتی ہوں اور لوگ اس سے گھبراتے ہیں۔ میں تو سب سے پہلے یہ بولتی ہوں کہ کسیکا بھی جسم اس کی مرضی ہوتی ہے۔ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں یا پسند کرتے ہیں تو توازن آجاتا ہے۔
’شروع شروع میں مجھے نہیں پتا تھا کہ اپنے سیاسی طنز کی وجہ سے میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی کرتی رہی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہاں اتنے احمق لوگ ہیں کہ انھیں بُرا بھی لگ رہا ہے اور مجھے مشہور بھی کر رہے ہیں۔‘
اپنے ناقدین کے لیے عفت کا یہی مشورہ ہے کہ ’اگر میں اتنی بُری ہوں تو نظر انداز کرو۔ مجھے ٹرینڈ کروا کر اور مشہور کروا رہے ہیں۔ شروع میں پریشان ہوتی تھی مگر اب کمنٹس پڑھتی ہی نہیں ہوں۔ بس یہی دیکھی ہوں کہ لائیکس کتنے ہیں اور ری شیئر کتنے ہیں اور وہ ہمیشہ کمنٹس زیادہ ہوتے ہیں۔
’نفرت کمنٹس میں آتی ہے اور لائیکس اور ری شیئر آپ کو بتاتے ہیں کہ کتنے لوگوں کو پسند آیا۔ جس نے جو لکھنا ہے لکھے جس نے جو کرنا ہے کرے بھائی میں تو پڑھتی ہی نہیں، ٹائم ہی نہیں ہے۔ میرا جو دل کہتا ہے کہہ دیتی ہوں۔‘












