نعمان اعجاز کی عفت عمر کے شو پر گفتگو کی وائرل کلپ پر سوشل میڈیا پر بحث: ’سوچیں اگر ایک عورت نے ایسی باتیں کی ہوتیں تو کیا ہوتا‘

انسٹا

،تصویر کا ذریعہInstagram

    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں ٹوئٹر پر گذشتہ رات سے ٹیلی ویژن اور فلم کے معروف اداکار نعمان اعجاز کے ایک انٹرویو کا کلپ وائرل ہوا ہے۔

کلپ میں نعمان کو میزبان عفت عمر کے ساتھ محو گفتگو دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ پورا پروگرام تقریباً ایک گھنٹے کا تھا تاہم سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ڈیڑھ منٹ کے کلپ میں دونوں اداکار شادی شدہ زندگی کے بارے میں بات کرتے نظر آتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نعمان کہتے ہیں کہ وہ اداکاری کی بنا پر ہی اپنی بیوی کو اپنے دیگر معاشقوں کی خبر نہیں ہونے دیتے، جس کے بعد عفت ہنس کر ان سے ایسی ہی کامیاب زندگی گزارنے کے لیے کچھ گُر مانگتی ہیں۔

کلپ وائرل ہونے کے بعد سے پاکستانی سوشل میڈیا پر اس معاملے پر خوب بحث جاری ہے۔ زیادہ تر لوگ تو نعمان کی باتیں سن کر حیران ہیں کہ آیا یہ وہی نعمان اعجاز ہیں جنھوں نے دو دہائیوں قبل ملک وجاہت (میرا سائیں) اور میر بالاج (دشت) جیسے مشہور کردار ادا کر کے مداحوں کے دلوں میں جگہ بنائی تھی۔

تاہم کئی لوگ نعمان کی حمایت بھی کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف مذاق تھا اور اسے انٹرٹینمنٹ کی حد تک ہی رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی نے جب اس کہانی کے تمام کرداروں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ یہ انٹرویو حالیہ دنوں میں نہیں بلکہ گذشتہ برس اگست میں یوٹیوب پر نشر ہوا تھا۔ لیکن پھر حالیہ دنوں میں اس کے دوبارہ وائرل ہونے کی وجہ کیا بنی؟ یہ جاننے سے پہلے آپ کو اس انٹرویو کا سیاق و سباق بتانا ضروری ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

شو میں کیا باتیں ہوئیں؟

یہ کلپ عفت عمر کے شو ’سے اِٹ آل وِد عفت‘ کی پہلی قسط سے لیا گیا ہے۔ اس پروگرام میں میزبان شوبز سے منسلک کسی شخصیت کو مدعو کرتی ہیں اور ان سے ہلکی پھلکی گپ شپ لگاتی ہیں جس سے اکثر دیکھنے والے کافی محظوظ ہوتے ہیں۔

اس شو میں عفت عمر کے ساتھ گفتگو میں نعمان اعجاز نے شوبز سے وابستہ کئی موضوعات، تنازعات اور شخصیات کے علاوہ سوشل میڈیا کے منفی استعمال، خواتین کے حقوق حتیٰ کے ’می ٹو‘ مہم کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔

اسی گپ شپ میں کامیاب شادی شدہ زندگی کا راز بتاتے ہوئے نعمان نے کہا: ’اگر میں اپنی بیوی رابعہ کے حوالے سے ایمانداری سے بات کروں تو حقیقت یہ ہے کہ میں بہت خوش قسمت انسان ہوں۔‘

لیکن جب عفت نے اسرار کیا کہ وہ کوئی ایسا قصہ سنائیں جس میں ان کا دل واقعی پھسلا ہو تو نعمان کہتے ہیں: ’میں تو ابھی بھی راستے میں جا رہا ہوں گا تو میرا دل کسی پر پھسل جائے گا۔۔۔ اور میں کنٹرول نہیں کرتا۔‘

ان کے مطابق انھیں ’ہر لمحے محبت ہوتی ہے۔۔۔ روزانہ محبت ہوتی ہے۔۔۔‘ اور یہ کہ وہ بہت زیادہ محبت کرنے والے آدمی ہیں۔

لیکن اگلے سانس میں ہی نعمان کہتے ہیں ’میں اتنا ذہین شخص اور اتنا اچھا اداکار ہوں کہ میں نے بیگم کو کبھی پتا ہی نہیں چلنے دیا۔۔۔ اور جن کے ساتھ عشق کر رہا ہوتا ہوں ان کے شوہروں کو بھی نہیں پتا چلتا۔‘

اس موقعے پر بظاہر ایسا لگتا ہے عفت اپنی مرضی کے جوابات نکلوانے کے لیے ہر سوال کا جواب انھیں خود دے رہی ہیں۔۔۔ جیسے وہ کہتی ہیں ’اچھا ان کے شوہروں کو بھی پتا نہیں چلتا تو کیا ان خواتین کو پتا چلتا ہے؟ کیا آپ ان سے تبادلہ خیال کرتے ہیں؟‘

اس کے جواب میں نعمان کہتے ہیں ’جی بالکل ہم آپس میں تبادلہ خیال کرتے ہیں۔‘

تبھی عفت عمر مسکراتے ہوئے انھیں کہتی سنائی دیتی ہیں ’ارے واہ، مجھے آپ سے کچھ چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

اسی بات کی بنا پر صارفین یہ سمجھ رہے ہیں کہ عفت عمر بھی نعمان کے خیالات سے اتفاق کرتی ہیں اور اسی لیے سوشل میڈیا صارفین ان پر بھی تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔

نعمان

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشننعمان اپنی بیوی رابعہ اور بیٹے کے ہمراہ

نعمان اعجاز: ’اس معاملے کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتا‘

اس کلپ کے وائرل ہونے کے بعد سامنے آنے والی تنقید کے بارے میں بی بی سی بات کرتے ہوئے نعمان اعجاز کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتے۔

’لوگوں کو گالیاں نکالنے دیں اور اپنے ذہنوں کو گندا کرنے اور کڑھنے دیں۔ یہ پاکستانیوں کی عادت ہے، ان کو اپنی زندگیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھانک رہا، بس دوسرے پر انگلی اٹھانے کی عادت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو جو کہنا ہے کہنے دیں۔ میری ذات کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں جانتا ہوں اور میرا رب جانتا ہے، مجھے کسی انسان کو وضاحت دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

عفت عمر نے اپنے مہمان کو کیوں نہیں ٹوکا؟

عفت عمر کے پروگرام کا یہ کلپ وائرل ہونے کے بعد کئی صارفین ان پر بھی تنقید کرتے نظر آئے۔

کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک عورت ہونے کے ناطے عفت نے نعمان کو اپنے شو میں ایسی باتیں کیسے کرنے دیں اور انھیں ٹوکا کیوں نہیں؟ بلکہ الٹا انھیں بڑھاوا دیتی نظر آئیں کہ جیسے وہ کوئی بہت اچھا کام کر رہے ہوں۔

پھر کلپ کے آخر حصے میں عفت نے یہ کیوں کہا کہ ’ارے واہ، مجھے آپ سے کچھ چیزیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘ کئی صارفین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ عفت آخر ان سے کیا سیکھنا چاہ رہی ہیں؟

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عفت عمر کا کہنا تھا کہ یہ جملہ انھوں نے طنزیہ انداز میں ادا کیا۔

’میں اداکاری کی بات کر رہی تھی، میرا مطلب یہ تھا کہ تم اتنی بہترین اداکاری کیسے کر لیتے ہو بیوی کے سامنے، کچھ مجھے بھی سکھا دو۔‘

شو کے دوران محسن عباس، می ٹو اور دیگر متنازعہ موضوعات کے متعلق نعمان کی رائے کو بڑھاوا دینے اور انھیں نہ ٹوکنے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں عفت کہتی ہیں کہ کسی کا انٹرویو کرتے وقت آپ ایک حد تک انھیں ٹوک سکتے ہیں یا اپنی رائے دے سکتے ہیں۔

’آپ ان کی بات سے اتفاق یا اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن ان کی رائے تبدیل نہیں کر سکتے۔‘

عفت کا کہنا تھا کہ یہ ان کے شو کا پہلا پروگرام تھا اور اس وقت انھیں معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنے مہمان کو کس حد تک ناراض کر سکتی ہیں۔

عفت نے بتایا کہ اس پروگرام کے بعد میں آنے والی اقساط میں وہ ’می ٹو‘ سمیت تمام موضوعات پر کھل کر بولتی رہی ہیں لیکن نعمان والے پروگرام میں نہ بول پانے پر انھیں آج بھی پچھتاوا ہے۔

نعمان

،تصویر کا ذریعہFacebook/Celeb City

ایک سال بعد یہ کلپ کہاں سے آیا؟

یہ کلپ دراصل گذشتہ برس اگست 2019 کا ہے اور یہ شو نجم سیٹھی کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا جاتا ہے جس میں آنے والے تقریباً سبھی مہمان شوبز سے تعلق رکھتے ہیں۔

لیکن اس وقت تو شاید کسی نے اس انٹرویو پر اتنا دھیان نہیں دیا مگر رواں برس 31 اگست کو فیس بک پر ’سلیب سٹی‘ نامی پیج کے ایڈمن نے انٹرویو میں سے مذکورہ کلپ نکال کر ’میں نے ایک اور لڑکی کو ڈیٹ کیا لیکن اداکاری میں مہارت کے باعث میری بیوی کو کبھی معلوم نہیں ہوا‘ ہیڈ لائن سے شئیر کر دیا۔

بس پھر کیا تھا وہیں سے یہ کلپ ٹوئٹر پر پہنچا اور اس کے بعد لوگوں نے جا کر پورا انٹرویو دیکھا اور انھیں مختلف موضوعات پر نعمان اعجاز کے خیالات کا علم ہوا (جس میں عورتوں پر تشدد اور ’می ٹو‘ بھی شامل ہے)۔

سلیب سٹی نامی پیج چار، پانچ ماہ قبل سعودی عرب میں رہنے والے ایک پاکستانی محمد عدنان نے بنایا تھا اور وہی اسے چلاتے ہیں۔

اس پیج پر عموماً شوبز سے وابستہ شخصیات کے انٹرویو شئیر کیے جاتے ہیں۔ پیج کے تقریباً 2100 لائیکس ہیں۔

اس پیج پر شئیر کیے گئے کسی بھی عام کلپ پر 50 سے زیادہ لائیکس یا 5-8 کمنٹ آتے ہیں۔ جبکہ اسے دیکھنے والوں کی تعداد 500-600 کے درمیان رہتی ہے۔

لیکن مذکورہ کلپ کو دو لاکھ 36 ہزار سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔ اس پر 2300 سے زیادہ لائیکس ہیں اور اسے ایک ہزار سے زیادہ بار شئیر بھی کیا گیا۔

جبکہ اس پر کمنٹس کی تعداد بھی 1100 سے زیادہ ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے محمد عدنان نے بتایا کہ یہ انٹرویو انھیں یوٹیوب پر نظر آیا اور انٹرویو کا یہ والا حصہ دلچسپ لگا تو انھوں نے کلپ نکال کر اپنے پیج پر شئیر کر دیا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

طوبی نے لکھا ’اس شخص نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اکثر اپنی بیوی کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ اتنے بڑے اداکار ہیں کہ بیوی کو ان کی دھوکے بازی کا کبھی پتا نہیں چلتا۔ جب عفت نے ان سے #MeToo کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اس تحریک کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ سب دین سے دوری ہے۔‘

ساتھ ہی انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا پاکستانی مرد ’شاہکار‘ ہیں۔

اس پر حمزہ انھیں کہتے ہیں ’عورتوں کو بھی شاہکار کہیں کیونکہ عفت ان سے دھوکے بازی کی ٹپس مانگ رہی ہیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

نعمان پر تنقید کرتے ہوئے سمیع خان کہتے ہیں ’ہہ بندہ تو شرعا اور ظاہراً دھوکے اور دغہ بازی کو فروغ دے رہا ہے۔

اب نعمان اعجاز کے مداح اگر انڈیا میں ہیں تو وہاں سے صرف تعریفیں اور پیار ہی نہیں تنقید بھی آئے گی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

انڈین صارف روچیکہ لکھتی ہیں ’میں اس پاکستانی اداکار، نعمان اعجاز کا بہت زیادہ احترام کرتی تھی۔ میں جتنا زیادہ لوگوں کے بارے میں جانتی جا رہی ہوں ان سے دور ہو رہی ہوں۔‘

ساتھ ہی وہ بشریٰ انصاری کے ایک خاتون کی ویڈیو پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتی ہیں: ’میں ان اداکاروں کی کتنی بڑی مداح تھی! لیکن نام بڑے اور درشن چھوٹے۔‘