بادشاہ بیگم: علی رحمان خان اور زارا نور عباس بااثر خاتون پر مبنی ڈرامے پر کیا کہتے ہیں؟

بادشاہ بیگم، زارا نور عباس، علی رحمان خان

پاکستان میں ڈراموں میں مرکزی کردار عموماً خواتین کے ہی ہوتے ہیں لیکن اس حوالے سے بحث ہوتی رہتی ہے کہ کیا خواتین کے لیے ڈراموں میں صرف ساس بہو کے کردار ہی ہیں؟ حال ہی میں ریلیز ہونے والے ڈرامہ بادشاہ بیگم کی کہانی ایک ایسی خاتون کی ہے جنھیں اپنے دیہی ماحول میں ایک سماجی طور پر بااثر شخصیت دکھایا گیا ہے۔

صحافی برّاق شبیر کے ساتھ گفتگو میں علی رحمان خان اور زارا نور عباس اس ڈرامے پر، اپنے کرداروں پر اور ڈراموں کے عمومی مزاج پر بات کر رہے ہیں۔

Presentational grey line

جب علی رحمان خان سے سوال کیا گیا کہ عام ڈراموں کی نسبت بادشاہ بیگم بہت منفرد لگ رہا ہے، اس میں کیا مختلف ہو گا؟

تو اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈراموں کا عمومی فارمیٹ یہ ہے کہ وہ گھروں کے اندر بنتے ہیں اور ان میں باہر کے مناظر اور ماحول نہیں ہوتے۔ لیکن اب ان کے مطابق اس میں تبدیلی آ رہی ہے اور لوکیشنز پر شوٹنگ ہوتی ہے اور یہ بات بادشاہ بیگم میں بھی موجود ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’ہمارا یہ ڈرامہ ساس بہو کا ڈرامہ نہیں، بلکہ اس میں خاندانی سیاست، میراث اور محبت سمیت بہت سارے پہلو ہیں۔‘

’اس لیے ناظرین اسے واقعی دیکھنا چاہیں گے اور یہ کہ یہ مخصوص علاقوں میں شوٹ کیا گیا ہے، ہم بہت مختلف ماحول دکھا رہے ہیں۔‘

زارا نور عباس نے اس ڈرامے میں بادشاہ بیگم کا مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس ڈرامے کی کہانی پر بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ بادشاہ بیگم کہنے کو تو بہت پرانی کہانی ہے مگر ایسی کہانی ہے جو پہلے کبھی نہیں سنائی گئی، یہ بہن بھائیوں کے درمیان کی مخالفت، خاندانوں کے اندر انائیں جن کی وجہ سے بھائی بہن ایک دوسرے کے نہیں رہتے وغیرہ کے متعلق ہے۔ ’اب وقت ہے کہ ہم ان کے بارے میں بات کریں۔‘

زارا سے پوچھا گیا کہ پاکستانی ڈراموں میں عام طور پر خواتین کے کردار رجعت پسند دکھائے جاتے ہیں، مگر بادشاہ بیگم بھی ایک خاتون کا کردار ہے، تو جب اس کردار کی پیشکش ہوئی تو کیا تاثرات تھے؟

اس پر زارا نے کہا کہ کسی کی بھی زندگی میں ایسا کردار آفر ہو، جہاں اتنا سب کچھ ایکسپلور کرنے کو ہو تو کوئی بھی منع نہیں کرے گا۔ ’مجھے یہ معلوم تھا کہ مومنہ، رافع، مہیش بھائی، سب چاہتے تھے کہ میں یہ کردار ادا کروں اسی لیے اس پر رضامندی ظاہر کی اور میں خود بھی یہ چاہتی تھی۔‘

اُنھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بادشاہ بیگم صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑے لوگوں کی بھی کہانی ہے۔ ’ہر اداکار کی اپنی کہانی ہے، سب کی شروعات، وسط اور اختتام ہے، اس لیے یہ پراجیکٹ دوسروں سے بہت زیادہ سموئے ہوئے ہے۔‘

بادشاہ بیگم، زارا نور عباس، علی رحمان خان

اس سوال پر کہ شروعات میں بظاہر ترقی پسند نظر آنے والے خواتین کردار بعد میں رجعت پسند ہو جاتے ہیں، زارا کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈراموں میں عورتوں کو رجعت پسند دکھایا جاتا ہے، مگر اب نئے ڈراموں میں عورتوں کو طاقتور بھی دکھایا جا رہا ہے۔

’یہ انسان کی کہانی ہے، یہ عورت اور مرد کی کہانی نہیں۔ جب ہم بادشاہ بیگم کہتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ ایک عورت ہی سب کچھ چلا رہی ہے، مگر جیسے ہم نے پیراں پور نامی ایک فرضی دنیا قائم کی ہے وہاں کا ایک سسٹم ہے وہ کیسے چلتا ہے، رجعت پسند صرف عورت نہیں بلکہ مرد بھی ہوتے ہیں۔‘

مگر اُن کے خیال میں عورتوں کو طاقتور دکھانا اتنا اہم نہیں جتنا کہ اُنھیں گہرائی کا حامل دکھانا ضروری ہے۔

جب علی رحمان خان سے پوچھا گیا کہ بادشاہ بیگم کا کردار چھوٹی سکرین پر عام خواتین کے کرداروں سے بہت مختلف ہے، مگر اُن کے لیے اس پراجیکٹ میں کیا کشش تھی، تو اس پر علی نے کہا کہ سب سے زیادہ کشش یہی تھی کہ جب آپ کہانی پڑھنا شروع کرتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ اب آگے کیا ہوگا۔

’اس میں ایک کردار کی بات نہیں بلکہ سپورٹنگ کردار بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب تک ان کے ساتھ کچھ ہو گا نہیں، تو اس کے ساتھ سٹوری سمجھ نہیں آئے گی۔ تو لوگ کہتے ہیں کہ کبھی کھنچ رہا ہے، دوسرے لوگوں کو ڈال دیا ہے، اس لیے مجھے یہ کہانی بہت اچھی لگی۔

’اس کے علاوہ بختیار کا کردار مجھ پر فٹ آ رہا تھا کیونکہ جب آپ کچھ کہتے ہیں تو آپ کو اس علاقے کا لگنا بھی چاہیے، کہ کیا ناظرین یہ یقین کر بھی پائیں گے۔

’میرے لیے واقعی یہ کہانی اہم تھی اور مجھے اچھی لگی، ایک بہت مضبوط مرکزی خاتون کردار کے بارے میں، کہ کیسے ہر چیز اس کے گرد گھومتی ہے۔ ویسے تو ہمارے ڈرامے خواتین کے گرد گھومتے ہیں مگر یہ بہت مختلف کہانی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

بادشاہ بیگم، زارا نور عباس، علی رحمان خان

کیا ڈرامے کا مقصد سماجی تبدیلی لانا ہے؟

پاکستان میں کچھ عرصے سے سماجی موضوعات پر فلمیں اور ڈرامے بنانے کا رجحان پروان چڑھا ہے چنانچہ اب ناظرین بھی ان میڈیمز میں تفریح کے ساتھ ساتھ پیغام تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر علی رحمان خان سمجھتے ہیں کہ ایسا ہر مرتبہ ہونا لازمی امر نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بادشاہ بیگم کے اندر کچھ عناصر بہت حقیقی ہیں جن سے ہم پاکستانی خود کو جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں مگر ڈراموں کے بارے میں ہماری عمومی سوچ یہ بن گئی ہے کہ اس سے پیغام کیا مل رہا ہے۔‘

علی رحمان خان کے مطابق ڈراموں کو ایک ’غیر ضروری فرض‘ دے دیا گیا ہے کہ اس نے عوام کو کچھ نہ کچھ مثبت پیغام پہنچانا ہے۔

’مجھے لگتا ہے کہ ڈراموں کے پاس ایک طاقت ہے جس سے وہ معاشرے کی برائیوں کو نمایاں کر سکتے ہیں اور پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ مگر کیا یہ فرض ہے؟ نہیں۔ ہمارا مقصد ہے کہ تفریح کا سامان بنائیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ڈرامے کو کبھی کبھی صرف تفریح کی غرض سے بھی دیکھنا چاہیے۔

بادشاہ بیگم، زارا نور عباس، علی رحمان خان

،تصویر کا ذریعہHum TV/MD Productions

’ہمیں جتنا بھی لگتا ہے کہ ہاں ان چیزوں کی عکاسی کرنے والے ڈرامے ہونے چاہییں، مگر یہ بھی ٹھیک ہے کہ ہمارے پاس ایسے ڈرامے ہوں جو مکمل طور پر غیر حقیقی ہوں اور تفریح کی غرض سے ہوں۔

’ہمارا مقصد یہ نہیں کہ بادشاہ بیگم جو کرتی ہیں وہ حقیقت میں ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ ہم صرف اسے ایک غیر حقیقی ڈرامے کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو غیر حقیقی زمین کے بارے میں ہے۔‘

اور جہاں تک ڈراموں میں چھپے پیغامات کی بات ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اس ڈرامے میں ڈھکے چھپے انداز میں معنی بھی مل جائیں گے اور لوگ بھی اس سے سیکھ لیں گے۔

’جس نے پیغام لینا ہو گا وہ لے لے گا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم معاشرے کی تربیت کرنا چاہ رہے ہیں۔ کم از کم اس ڈرامے میں تو نہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پوری دنیا گیم آف تھرونز دیکھتی ہے، اس میں سے کوئی مثبت پیغام نکال کر دکھائیں۔ یہ ایک تفریحی پروگرام ہے۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ آپ بادشاہ بیگم دیکھیں، اس سے لطف اندوز ہوں۔