صائم صادق: ’وہ بالکل ایک خواب کی سی کیفیت تھی‘

فلم ڈارلنگ

،تصویر کا ذریعہSaim Sadiq

،تصویر کا کیپشنوینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پہلی بار کسی پاکستانی فلم کی سکریننگ ہوئی اور اسے ایوارڈ بھی مل گیا
    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے 28 سالہ فلم ساز صائم صادق کی مختصر دورانیے کی فلم 'ڈارلنگ' کو حال ہی میں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں مختصر دورانیے کی بہترین فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پہلی بار کسی پاکستانی فلم کی سکریننگ ہوئی اور اسے ایوارڈ بھی مل گیا۔

فلم ساز صائم صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا 'ہم حیران اور خوش تھے، بالکل ایک خواب کی سی کیفیت تھی۔'

واضح رہے کہ 'ڈارلنگ' ایک مختصر دورانیے کی فلم ہے جسے پنجابی مجرا تھیئٹر کے اندر فلمایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فلم کی کہانی دو کرداروں ایک 16 سالہ بیک گراؤنڈ ڈانسر لڑکے اور اس کی خواجہ سرا دوست کے بیک سٹیج گزارے گئے ایک دن پر مشتمل ہے۔

فلم کے مرکزی کردار عبد اللہ ملک اور خواجہ سرا الینہ خان نے نبھائِے ہیں۔

صائم کہتے ہیں 'لاہور میں مجرا کلچر کا وجود ہے لیکن درحقیقت اس بارے میں بات کرنا تقریباً منع ہے۔ فلم ساز ہونے کے ناطے میرے لیے یہ بات کافی متاثر کن تھی کہ وہاں موجود خواتین جو کرتی ہیں وہ کیسے اور کیوں کرتی ہیں۔ میں جنس اور جنسیت کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا اور پنجابی تھیئٹر اس کام کے لیے سب سے مناسب جگہ تھی۔'

فلم ڈارلنگ

،تصویر کا ذریعہSaim Sadiq

بین الاقوامی فلمی میلوں کے مزاج کے بارے میں صائم کا خیال ہے کہ اب سماجی مسائل پر مبنی موضوعات پر بنی فلموں کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

’ڈارلنگ میں کسی سماجی مسئلے کی تو نہیں البتہ جنسیت پر ضرور بات کی گئی ہے چونکہ اس فلم میں ایک خواجہ سرا کا کردار ہے اور پاکستان سے ایسی فلم آئے تو لگتا ہے کہ یہ ایک بولڈ فلم ہے۔'

فلم ڈارلنگ

،تصویر کا ذریعہSaim Sadiq

،تصویر کا کیپشنفلم 'ڈارلنگ' کی کراچی کے ایٹریم سینیما میں 30 ستمبر کو نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے

کمرشل فلموں کے بارے میں صائم کا موقف ہے کہ ان کی کامیابی سے مختصر دورانیے کی فلموں کے لیے بھی راہیں ہموار ہوں گی۔

'اچھا بزنس کرنے والی کمرشل فلم سارے فلمسازوں کے لیے اچھی خبر ہے جس کا مطلب ہے کہ فلمیں بنانا ایک منافع بخش کاروبار ہے اور سرمایہ کار مزید فلموں سمیت چھوٹی فلموں پر بھی پیسے لگانے کو تیار ہوں گے۔‘

انڈی فلم میکرز کے لیے بین الاقوامی فلمی میلے میں ایوارڈ حاصل کرنا کیا معنی رکھتا ہے کے جواب میں صائم کا کہنا تھا 'یہ ایوارڈ میرے کریئر میں بہت معنی رکھتا ہے اور اس سے کافی آسانیاں بھی ہو جاتیں ہیں تاہم ایوارڈ ملنے سے انڈی ٹیگ آپ سے الگ نہیں ہوتا۔ مجھے اس حقیقت کا علم ہے کہ ابھی بھی اپنی فیچر فلم کے لیے سرمایہ اکھٹا کرنے میں مجھے کافی مشکل ہو گی۔'

فلم ڈارلنگ

،تصویر کا ذریعہSaim Sadiq

واضح رہے کہ وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کو دنیا کا سب سے پرانا فلمی میلہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فیسٹیول ان 'بِگ تھری' یا تین بڑے فلمی میلوں میں سے ایک ہے جہاں اگر کسی فلم کی سکریننگ ہو جائے تو فلمساز کے لیے راستے ہموار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اِن تین فلمی میلوں میں وینس کےعلاوہ کانز اور برلن فلم فیسٹیولز شامل ہیں۔

فلم 'ڈارلنگ' کی کراچی کے ایٹریم سینیما میں 30 ستمبر کو نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

صائم صادق اب اپنی طویل دورانیے کی فلم 'گلاب' پر کام کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔ ان کے بقول 'گلاب کے موضوعات اور کردار‘ کچھ کچھ ڈارلنگ سے ملتے جلتے ہیں۔