کانز فیسٹیول: خواجہ سراؤں کی زندگی پر مبنی پاکستانی فلم ’رانی‘ کی نمائش

پاکستانی فلم

،تصویر کا ذریعہKAMI SID

،تصویر کا کیپشنفلم ’رانی‘ کی کہانی کراچی کی سڑکوں پر کھلونے فروخت کرنے والے ایک خواجہ سرا کی زندگی کے گرد گھومتی ہے
    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

فرانس کے شہر کانز میں جاری فلمی دنیا کے سب سے بڑے میلے میں پاکستانی خواجہ سراؤں کی زندگی پر بننے والی مختصر دورانیے کی فلم ’رانی‘ کی 20 سے 25 مئی تک نمائش جاری ہے۔

فلم کی کہانی کراچی کی سڑکوں پر کھلونے فروخت کرنے والے ایک خواجہ سرا کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جو بھیک مانگنے اور جسم فروشی کے بجائے کھلونے بیچ کر باعزت طریقے سے روزگار کمانے کو ترجیح دیتا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ وہ ایک لاوارث بچے کو گود لے کر اُس کی پرورش بھی کرتا ہے اور اُسے معاشرے کے لیے اچھی مثال بنا کر پیش کرتا ہے۔

فلم کا مرکزی کردار ’رانی‘ پاکستان کی پہلی خواجہ سرا ماڈل اور اداکارہ کامی سڈ نے نبھایا ہے۔ فلم کے ہدایتکار پاکستانی نژاد امریکی حماد رضوی ہیں جبکہ یہ فلم گرے سکیل پروڈکشن ہاؤس کی پیشکش ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کامی سڈ

،تصویر کا ذریعہKAMI SID

،تصویر کا کیپشنکامی سڈ پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ماڈل اور سماجی کارکن سمجھی جاتی ہیں

خواجہ سرا ماڈل اور اداکارہ کامی سڈ نے اپنی فلم ’رانی‘ کی کانز فلم فیسٹیول میں نمائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے 'میں اپنے جذبات کو لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی۔'

کامی سڈ ماڈلنگ اور اداکاری کے ساتھ ساتھ ایک سماجی کارکن بھی ہیں۔ وہ اپنے ادارے 'سب رنگ' کے زریعے خواجہ سراؤں کو بااختیار بنانے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’معاشرے میں جو تبدیلی آرہی ہے اسے کیمرے کی آنکھ سے بند کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کام میں فلمیں ایک بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‘

کامی نے بتایا کہ حال ہی میں پاکستان میں فلم'رانی' کی نمائش کی گئی جسے خواجہ سرا کمیونٹی کے لوگوں نے بھی دیکھا اور اسے بے حد سراہا گیا۔

مختصر دورانیے کی پاکستانی فلم ’رانی‘ کو کئی بین الاقوامی ایوارڈز دیے جا چکے ہیں جن میں لاس اینجلس ایشین پیسیفک فلم فیسٹیول کا سپیشل جیوری ایوارڈ اور سان لوئی اوبسپو انٹرنیشنل فلم فیسٹول کا بہترین نیریٹو شارٹ ایوارڈ بھی شامل ہیں۔