ایوارڈ تقریبات اور ٹی وی مقابلوں میں ہونے والی فاش غلطیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس بار آسکر تقریب میں اس وقت غلط فہمی پھیل گئی جب بہترین فلم کے لیے غلطی سے 'لا لا لینڈ' کا نام لے لیا گيا حالانکہ یہ ایوارڈ مون لائٹ کے حصے میں آیا تھا۔
لالا لینڈ کی ٹیم اپنے خطاب کی تیاری میں ہی تھی کہ اس کی تصحیح کا اعلان کیا گيا۔
لیکن ایسا واقعہ پہلی بار پیش نہیں آیا ہے۔ فلم ایوارڈز کی تقریبات یا پھر ٹی وی مقابلوں کے جیتنے والوں کے ناموں کو براہ راست نشر ہونے والے ٹی وی پروگراموں میں ایسی غلطیاں کئی بار پہلے بھی ہوچکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
2016 کے موبو ایوارڈ تقریب میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جب لفافے کی غلطی کی وجہ سے بہترین نغمے کا انعام غلط شخص کو پیش کر دیا گيا تھا۔
آر اینڈ بی ٹیم کے پاس یہ ایوارڈ تقریباً ایک گھنٹے تک رہا اس کے بعد اعلان کیا گيا کہ نہیں بہترین نغمے کا انعام اصل میں ایم سی ابرا گڈابرا نے جیتا ہے۔ اس کا اعلان کرتے ہوئے میزبان رکی ولیمز اور میلون اوڈوم نے کہا کہ ' کسی نے غلط لفافے کا انتخاب کیا تھا۔'
کسی کے جوش و خروش کر چرانے کا یہ کیا ہی عجیب طریقہ ہوسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسی طرح عالمی مقابلہ حسن کے دوران مس کولمبیا اڈرینا گٹریز کو بھی غلطی سے حسینہ عالم کے خطاب سے نواز کر انھیں تاج پہنایا گيا لیکن چند لمحوں بعد ہی اس غلطی کو درست کیا گيا اور تاج ان کے سر سے اتار کر مس فلپائن پیا الونزو کے سر پر رکھا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
2015 میں اس وقت میزبان سٹیو ہاروی نے غلط نام کا اعلان کیا تھا اور پھر بعد میں جب اس کا پتہ چلا تو انھوں نے سٹیج پر معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی غلطی سرزد ہوگئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنہ 2009 میں بھی ایم ٹی وی ویڈیو میوزک کی ایسی ہی ایک ایوارڈ تقریب میں بڑا عجیب واقعہ پیش آيا تھا۔ گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے 'یو بیلانگ ود می' نغمے کے لیے بہترین فیمیل ویڈیو ایواڑد جیتا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن ریپر کینی ویسٹ نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور پھر سٹیج پر ہاتھ میں ایوارڈ تھامے ہوئے سوئفٹ شکریہ ادا کرنے کا لفظ ادا کر پاتیں کہ اس سے پہلے کینی ویسٹ نے ان کے ہاتھ سے مائیک چھین لیا اور سامعین کے سامنے لائیو ٹی پر سب کو یہ بتانے لگے کہ اس انعام کی اصل حقدار بیانسی تھیں۔ محترمہ سوئیفٹ اس حرکت پر ہکا بکّا رہ کئیں۔
سنہ 2010 میں آسٹریلیا میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آيا۔ ٹی وی کے ایک مقابلے میں کیزلی مارٹینو کو عوامی ووٹ سے جیتا قرار دیا گيا اور جب وہ اس کے بعد سٹیج پر خطاب کر رہی تھیں تب اعلان کیا گيا کہ نہیں اصل میں اس مقابلے کی فاتح 18 سالہ امانڈا وارا ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس پر اپنے رد عمل میں آسٹریلیا کی ایک ٹاپ ماڈل سارہ موڈرک نے کہا تھا کہ 'میں اس سے بیمار محسوس کر رہی ہوں۔'
انھوں نے بعد میں یہ بھی کہا کہ جب ٹی وی پر براہ راست اس طرح کی تقریبات نشر ہوتی ہیں تو پھر ایسا ہوتا رہتا ہے۔
سنہ 2015 میں ایکس فیکٹر کے میزبان اولی مور نے مقابلے میں حصہ لینے والی مونیکا مائیکل سے اس لیے معافی مانگنی پڑی تھی کیونکہ انھوں نے یہ اعلان کر دیا تھا وہ ٹلینٹ شو کو خیر باد کہہ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSYCO/THAMES
یہی نہیں بلکہ انھوں نے یہ سوچ کر کہ تین جج تو انھیں مقابلے سے باہر کرنے والے ہیں دیگر ججوں کی طرف سے انھیں جو نمبر دیے گئے تھے ان کا شمار بھی نہیں کیا تھا۔ مقابلہ دو دو نمبر سے ٹائی تھا لیکن پبلک ووٹ کی وجہ سے بالآخر وہ ہار گئی تھیں۔ لیکن لوگوں نے واضح طور پر یہ محسوس کیا تھا کہ یہ سب پہلےسے فکس تھا۔
برطانیہ میں سنہ 2007 میں عوام اس بات کے لیے ووٹ کر رہی تھی کہ یورو ویژن سانگ مقابلے کے لیے برطانیہ کی کون نمائندگی کرے گا۔ امکان یہ تھا کہ سکوچ اور سولو سنگر سنڈی فائنل میں ضرور پہنچیں گے۔ لیکن اس پروگرام کے دو میزبان تھے اور جب دونوں نے لائیو ٹی وی پر الگ الگ نام کا ذکر کیا تو کنفیوژن پیدا ہونا لازمی تھا۔

اس کے فورا بعد یہ بتایا گيا کہ اصل میں سکوچ نے مقابلہ جیتا تھا۔ بعد میں بی بی سی نے اس غلطی پر معذرت پیش کی تھی لیکن اس غلطی کے سبب سنڈی کا کریئر وہیں ختم ہو کر رہ گيا۔
ایسا ہی ایک بڑا عجیب واقعہ 2007 میں مائیکل جیکسن کے ساتھ ایم ٹی وی کی ایوارڈ تقریب میں اس وقت پیش آیا جب انھوں نے ایک ایسا انعام قبول کر لیا جو اصل میں تھا ہی نہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
یہ تقریب مائیکل جیکسن کے برتھ ڈے پر ہورہی تھی۔ انھیں سٹیج پر برتھ ڈے کیک پیش کرنے کے لیے بلایا گیا۔ اس موقع پر گلوکارہ بریٹنی سپیئر نے سامعين کو بتایا کہ وہ انھیں ملینیئم فنکار مانتی ہیں۔ پھر کیا تھا جیکسن نےشکریہ ادا کرنے کی غرض سے اپنی تقریر شروع کی۔
انھوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ 'اگر بچپن میں کوئی مجھے سے یہ کہتا کہ مجھے موسیقی کےملینیئم ایوارڈ سے نوازا جائے گا تو شاید میں کبھی اس بات پر یقین نہیں کرتا۔'
انھوں نے اس ایوارڈ کے لیے سب کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

گلوکارہ کیٹی پیری نے سنہ 2009 میں کانز میں ہونے والی ایسی ہی ایک تقریب میں بہترین عالمی سنگر کا ایوارڈ قبول کیا تھا۔ حالانکہ وہ ان کے لیے نہیں بلکہ ریحانہ کے نغمے کے لیے تھا۔ کیٹی پیری نے بھی اس موقع پر انٹرنیشنل البم کا انعام جیت کر اپنی شرمندگی کو جھپا سکی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈی جے برنڈن بلاک لندن میں برطانوی ایوارڈ کی ایک تقریب کے دوران سنہ 2000 میں سٹیج پر اس خوشی میں لڑکھڑا گئے تھے کہ شاید انھوں نے کوئی انعام جیت لیا ہے۔ لیکن حقیقت میں انھیں اس کی غلط فہمی ہوئی تھی اور بعد میں سکیورٹی فوسرز نے انھیں سٹیچ س ےدور ہٹایا۔









