کرینہ کپور: بالی وڈ میں بھی لڑکیاں ایک محفوظ ماحول چاہتی ہیں

کرینہ کپور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

بالی وڈ اداکارہ کرینہ کپور خان کہتی ہیں کہ انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ عورتیں اپنے ساتھ کسی بھی طرح کی زیادتی یا نا انصافی کے خلاف آواز اٹھانے لگی ہیں جبکہ بالی وڈ میں بھی لڑکیاں ایک محفوظ ماحول چاہتی ہیں اور اس سمت میں کام ہو بھی رہا ہے۔

کرینہ کپور ایک ایف ایم سٹیشن پر نئے شو کے لانچ کے موقع پر بول رہی تھیں اور اس دن کرینہ اس شو کی آر جے بنی تھیں۔

اس شو کا عنوان تھا 'عورتیں کیا چاہتی ہیں؟' کرینہ کہتی ہیں کہ ہمیں اس موضوع پر بحث جاری رکھنی چاہیے۔

کرینہ چاہے خود ایک فلمی خاندان سے ہوں لیکن انڈسٹری میں انھوں نے اپنی محنت اور لگن سے ہی یہ مقام حاصل کیا ہے اور انڈسٹری میں برسوں سے جاری اس روایت کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ اگر ہیروئن کی شادی ہو جائے یا پھر عمر زیادہ ہو جائے تو اسے ہیروئن یا پھرمرکزی کردار نہیں ملتے۔

یہ بھی پڑھیے

بہر حال ایسی شخصیات کا اس طرح کے ایشوز پر بات کرنا بہت اہم ہے اور دوسری خواتین کو اس سے تحریک ملتی ہے۔

کرینہ کپور اور سیف علی خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب کرینہ کے میاں اور معروف اداکار سیف علی خان بظاہر مین سٹریم کمرشل فلموں سے بور ہو کر اب ویب سیریز میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں اور کیوں نہ ہوں کہ فلم 'کلا کانڈی' اور فلم 'شیف' کی ناکامی کے بعد جب انکی ویب سیریز 'سیکریڈ گیمز' کامیاب ہوئی تو انھیں لگا کہ کامیابی کا یہ ایک نیا راستہ ہے۔

ویسے اب صرف سیف ہی نہیں بلکہ کرن جوہر جیسے کئی بڑے بڑے فلمساز ویب سیریز اور نیٹ فلیکس جیسے فورمز میں زیادہ دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں سینسر بورڈ کا کچھ لینا دینا نہیں اور آڈینس بھی بہت بڑی ہے۔

یعنی ہلدی لگے نے پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آوے۔ جسکی مثال کرن جوہر کی 'لسٹ سٹوری' ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جہاں تک سیف علی خان کی نئی فلم 'بازار' کا تعلق ہے تو اس فلم نے تقریباً بیس کروڑ کی کمائئ کی اور اس فلم کے ڈائریکٹر نے اس ہفتے اس کی کامایبی کی پارٹی بھی دے دی۔ کتنی عجیب بات ہے ایک طرف 22 کروڑ پر سکس پارٹی اور دوسری جانب ٹھگ آف ہندوستان کے ڈیڑھ سو کروڑ کے بعد بھی فلاپ کا ٹھپہ۔

گوندا اور پہلاج نہلانی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشناداکار گوندا اور فلم ساز پہلاج نہلانی

اداکار گوندا کو اچانک فلم انڈسٹری کے ماحول خراب لگنے لگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی فلم 'رنگیلا راجہ' سینسر بورڈ کے ہاتھوں میں پھنسی ہوئی ہے اور اس میں 20 کٹ لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔

گوندا سینسر بورڈ کے اس فیصلے سے شدید ناخوش ہیں۔ یہ فلم کس حد تک سینسر کے لائق ہے اس بارے میں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ہاں یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ اس فلم کے پروڈیوسر پہلاج نہلانی نے جو بویا تھا اب وہی کاٹ رہے ہیں۔

وہ شاید بھول گئے ہیں کہ جب وہ سینسر بورڈ میں تھے تو انھوں نے کس طرح فلمسازوں کو ناکوں چنے چبوائے تھے وہی سنیسر بورڈ انکی فلم کے ساتھ وہی سلوک کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بحر حال پہلاج نہلانی اس فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ فلم میں بھگوان رام کا نام لیا گیا ہے اور حکومت کے کہنے پر سینسر بورڈ فلم میں کٹ کی بات کر رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت رام مندر تعمیر کرنے کی بات تو کرتی ہے پھر رام کا نام لینے سے پرہیز کیوں۔ اس سے پہلے بھی پہلاج نہلانی کی فلم 'جولی ٹو' بھی سینسر بورڈ میں تنازع کا شکار رہی تھی۔